صلاح الدین ایوبی اور ریمنڈ کی شازیش

اسلامی تاریخ ، اسلامی داستانیں ، اسلامی ناول

اردو افسانے

مکمل ناول

views
0
صلاح الدین ایوبی اور ریمنڈ کی شازیش

مکمل ناول

ریمنڈ کی شازیش

غیر مسلم بادشاہ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو دعوت پر بلایا اور کتے کا گوشت بنوا کر اپنی ملکہ کو پیش کرنے کا حکم دیا… لیکن جب سلطان نے اپنے پیالے سے ایک لقمہ اٹھایا تو بادشاہ کی رگوں میں خون جم گیا۔

ہوا میں تلواروں کی تیز دھار کی خوشبو تیر رہی تھی۔ یہ ۱۱۸۷ عیسوی کا موسمِ خزاں تھا، اور بیت المقدس کی آزادی کے بعد کے مہینے۔ فضا میں فتح کی مٹھاس بھی تھی اور انتظار کی کڑواہٹ بھی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا خیمہ، جو عموماً سادگی کی مثال ہوا کرتا تھا، آج کچھ مختلف تھا۔ دور سے آتے ہوئے قاصد کے گھوڑے کی ٹاپوں نے خاموشی توڑی۔ خط پر بادشاہ ریمنڈ الثالث کی مہر تھی، جو طرابلس کا حکمران تھا۔ دعوت تھی۔ “صلح کی بات چیت” کے نام پر۔

سلطان کے مشیروں کی آنکھوں میں شبہہ تیرا۔ امیر بهاء الدین، سلطان کا وفادار ساتھی، بول اٹھا، “سلطان! یہ سانپ کی بل میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ریمنڈ کی آنکھوں میں بدلے کی آگ ہے۔ اس کے بیٹے کو ہماری فوج نے جنگ میں گرفتار کیا تھا۔ یہ دعوت، یہ مہمان نوازی… کہیں کسی اور ہی جال کا حصہ تو نہیں؟”

صلاح الدین نے خط کے کونے کو انگلیوں سے سہلایا۔ ان کی آنکھوں میں وہ گہرائی تھی جو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے جنہوں نے صحرا کی راتوں میں ستاروں سے بات کی ہو۔ ان کے چہرے پر موجود لمبی داڑھی میں چند سفید بال چمک رہے تھے، جنہیں وہ اکثر مسکراتے ہوئے سنوارتے۔ “بهاء الدین,” انہوں نے آواز دی، جو نرم مگر ٹھوس تھی، “دشمن کو میز پر بٹھا کر دیکھنا، جنگ کے میدان میں دیکھنے سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔ انسان کی اصل عظمت اس کے ہتھیاروں میں نہیں، اس کے اخلاق کے قلعے میں ہوتی ہے۔ ہم جائیں گے۔”

اور پھر وہ دن آ ہی گیا۔ سلطان کا قافلہ، بھاری ہتھیاروں کے بجائے ہدیوں کے صندوق لے کر، طرابلس کے قلعے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ قلعہ ایک پہاڑی پر کسی غرور کی طرح کھڑا تھا، اس کی فصیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی خاموشی محسوس ہوئی۔ خادموں کے چہرے بے روح تھے۔ ہوا میں عود کی خوشبو نہیں، بلکہ پکے ہوئے گوشت کی ایک بھاری، غیر معلوم سی بو تھی جو ناک میں جھنجھناہٹ پیدا کر رہی تھی۔

شاہی دربار ایک وسیع ہال میں سجا تھا۔ سونے کے تخت پر ریمنڈ الثالث بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں تنگ اور چہرہ کشیدہ تھا۔ اس کے برابر والے تخت پر اس کی ملکہ، ملکہ ایلینا، بیٹھی تھی۔ اس کا لباس تو شاہی تھا، مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی بے چینی تھی، جیسے وہ خود اپنے ہی جسم میں قید ہو۔ اس کی نظریں زمین پر جمی تھیں۔

“سلطان صلاح الدین!” ریمنڈ کی آواز گونجی، جس میں خوش آمدید سے زیادہ چیلنج تھا۔ “آپ کی آمد نے ہمارے اس گھر کو نور بخشا ہے۔”

صلاح الدین نے سر جھکا کر سلام کیا، ان کی حرکات میں قدرے تکلف تھا، مگر عزت کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ “بادشاہ سلامت کی دعوت ہمارے لیے اعزاز ہے۔”

بات چیت شروع ہوئی۔ سرحدیں، قیدی، معاہدے… ہر لفظ ایک زہریلے تیر کی طرح ہوا میں چل رہا تھا۔ ریمنڈ کی باتوں میں کھٹاس تھی، وہ بار بار اپنے گمشدہ بیٹے کا ذکر کرتا، صلاح الدین کی رحمت کی تعریف کرتا، مگر ہر لفظ میں ایک کانٹا چھپا تھا۔ صلاح الدین صبر سے سنتے، جواب دیتے، انصاف کی بات کرتے۔ ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی جو ریمنڈ کی بے چینی کو اور بھڑکا رہی تھی۔

پھر کھانے کا وقت آیا۔ دستر خوان پر سونے چاندی کے برتن چمک رہے تھے۔ خادم کھانا لانے لگے۔ جب سلطان صلاح الدین کے سامنے کا پیالہ رکھا گیا، تو اسی عجیب سی بو نے ہوا کو گھنّا کر دیا۔ پیالے میں گوشت کے ٹکڑے تھے، لیکن ان کی ساخت، رنگ، سب کچھ عام بکرے یا گائے کے گوشت سے مختلف تھا۔ یہ رنگ گہرا بھورا تھا، ریشے موٹے اور درشت نظر آتے تھے۔

ریمونڈ کی آنکھوں میں ایک شیطانی چمک آ گئی۔ اس نے اپنی ملکہ، ایلینا کی طرف دیکھا، جو ایک پل کے لیے سہمی ہوئی سی نظر اٹھا کر پھر نظریں جھکا چکی تھی۔ ریمنڈ نے اپنی آواز میں ایک جھوٹی مٹھاس گھولتے ہوئے کہا، “سلطان! آپ کی شہرت سارے عالم میں ہے۔ آج ہم نے آپ کے لیے ہمارے ہاں کی ایک خاص ڈش تیار کرائی ہے۔ یہ گوشت ہمارے خطے کا ایک نایاب جانور ہے، جس کا ذائقہ بہت لذیذ ہوتا ہے۔ میری پیاری ملکہ ایلینا نے خود اسے آپ کے سامنے پیش کرنے کی خواہش کی تھی۔”

یہ کہتے ہوئے اس نے ملکہ کی طرف اشارہ کیا۔ ملکہ ایلینا کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے اٹھ کر، ایک خادمہ سے سونے کا ترنما لیا اور سلطان صلاح الدین کے سامنے رکھے پیالے میں سے کچھ گوشت اس میں ڈالا۔ اس کا ہر حرکت میں جبر تھا، شرمندگی تھی۔ اس نے پیالہ سلطان کے قریب کرتے ہوئے، آنکھیں اٹھا کر ایک پل کے لیے سلطان کو دیکھا۔ اس نظر میں معافی تھی، بے بسی تھی، ایک خاموش چیخ تھی۔

ہال میں سناٹا چھا گیا۔ صلاح الدین کے ساتھ آئے ہوئے امیر بهاء الدین کی سانس اکھڑ گئی۔ وہ سمجھ گئے تھے۔ یہ کوئی نایاب گوشت نہیں تھا۔ بو، شکل، رنگ… سب بتا رہے تھے کہ یہ حرام گوشت تھا۔ ممکنہ طور پر کتے کا۔ یہ ایک صریح توہین تھی۔ ایک ایسا حملہ جو تلوار سے نہیں، کھانے کی میز سے کیا جا رہا تھا۔ مقصد سلطان کو ذلیل کرنا تھا، ان کے دین کی توہین کرنا تھا، اور اگر وہ غصے میں آ گئے تو پھر “مہمان کو ستایا” کا بہانہ بنا کر کوئی اور سازش رچی جا سکتی تھی۔

سارا دربار، ہر نوکر، ہر محافظ، ہر درباری، سلطان صلاح الدین کے چہرے پر نظریں گاڑے ہوئے تھا۔ ریمنڈ کے ہونٹوں پر ایک پھیلتی ہوئی مسکراہٹ تھी۔ اس کا سارا بدن انتقام کی ایک خاموش جیت محسوس کر رہا تھا۔

سلطان صلاح الدین نے اپنے سامنے رکھے ہوئے اس سونے کے ترنما کو دیکھا۔ اس میں پڑا ہوا گوشت۔ پھر انہوں نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ ان کی نظر سب سے پہلے ملکہ ایلینا پر پڑی، جو اب بھی کھڑی تھی، اس کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا، آنکھیں نم۔ پھر انہوں نے ریمنڈ کی طرف دیکھا، جو بے صبری سے منتظر تھا۔

ایک لمحہ گزرا۔ پھر سلطان نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ ان کی انگلیاں سونے کے کانٹے کی طرف بڑھیں۔ ہال میں موجود ہر شخص کا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ بهاء الدین کا ہاتھ اپنی تلوار کے دستے پر جا پہنچا۔ کیا سلطان غصے میں آ جائیں گے؟ کیا وہ پیالہ اٹھا کر پھینک دیں گے؟ کیا وہ بادشاہ کو للکاریں گے؟

لیکن کچھ نہیں ہوا۔

صلاح الدین نے کانٹا اٹھایا۔ ان کی انگلیاں پُر سکون تھیں۔ انہوں نے ترنمے میں سے گوشت کا ایک لقمہ اٹھایا۔ اسے دیکھا۔ پھر، اپنی آواز کو اتنا نرم اور واضظ رکھتے ہوئے کہ ہال کے آخری کونے تک سنائی دے، بولے:

“بادشاہ سلامت… آپ کی مہمان نوازی بے مثال ہے۔ اور ملکہ کا یہ انتخاب…”

انہوں نے لقمے کو ہوا میں تھامے رکھا۔ ریمنڈ کی سانس رک گئی۔

“… واقعی نایاب ہے۔”

پھر سلطان صلاح الدین نے وہ لقمہ… اپنے ہونٹوں کے قریب لے جایا۔

ایک ہلکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر کھیلی۔ اور پھر انہوں نے وہ لقمہ ملکہ ایلینا کی طرف بڑھا دیا۔

“لیکن حقیقی نزاکت اور لذت کا حق دار تو وہ ہوتا ہے جس نے اسے منتخب کیا ہو,” صلاح الدین نے اپنی آواز میں ایک شائستہ گرمجوشی بھرتے ہوئے کہا۔ “برائے مہربانی، ملکہ۔ آپ پہلے ذائقہ چکھیں۔ آپ کی خواہش پر تیار ہونے والی یہ ڈش، آپ کے منہ کا ذائقہ بنے، یہی مناسب ہے۔”

ہال میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے موت نے اپنا پر پھیلا دیا ہو۔ ریمنڈ کا چہرہ پل بھر میں زرد، پھر سبز، پھر سرخ ہو گیا۔ اس کی آنکھیں باہر کو نکلی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ اس کی رگوں میں، سچ مچ، خون جم سا گیا تھا۔ اس کا پورا منصوبہ، اس کی ساری سازش، اس کی بدلے کی آگ… سب اس ایک حرکت میں خاکستر ہو کر رہ گئی۔ سلطان نے نہ تو انکار کیا تھا، نہ غصہ دکھایا تھا، نہ توہین کی تھی۔ بلکہ اپنی ذہانت اور بے مثال اخلاق سے، وہ زہر اس کے اپنے ہی گھر کی ملکہ کے سامنے کر دیا تھا۔

ملکہ ایلینا کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ اس کا بدن لرز رہا تھا۔ اس نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جس کی آنکھوں میں خوف اور غصے کی آگ بھڑک رہی تھی۔ اس نے سلطان کی طرف دیکھا، جن کی آنکھوں میں نرمی تھی، سمجھداری تھی، ایک ایسی طاقت تھی جو تلوار سے نہیں، دل سے آتی تھی۔

“نہیں… میں…” ملکہ کے ہونٹ کانپے۔

“برائے مہربانی، ملکہ,” صلاح الدین نے اپنا ہاتھ اور قریب کر دیا، ان کی آواز میں کوئی جبر نہیں، صرف ایک شائستہ اصرار تھا۔ “مہمان کی خوشی یہی ہے کہ میزبان اس کی رفاقت سے لطف اندوز ہو۔”

ریمنڈ بے بس تھا۔ وہ کچھ بول نہیں سکتا تھا۔ اگر وہ روک دیتا، تو پورے دربار کے سامنے یہ اعتراف ہو جاتا کہ گوشت میں کچھ غلط ہے۔ اگر وہ نہ روکتا، تو اس کی اپنی بیوی کو وہ کھانا کھانا پڑتا جسے وہ مسلمان سلطان کے لیے حرام سمجھتا تھا۔ اس کا سارا غرور، اس کا سارا غصہ، اس کے سامنے ہی پاش پاش ہو رہا تھا۔

ملکہ ایلینا نے آہستہ سے ہاتھ بڑھایا۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ اس نے وہ لقمہ لیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ اس نے اپنے منہ میں ڈال لیا۔ ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر گال پر لڑھک گیا۔ وہ نگل نہیں پا رہی تھی۔ اس کا گلا رُکا ہوا تھا۔

یہ دیکھ کر صلاح الدین نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور اپنے پاس رکھا ہوا پانی کا کپ اٹھا کر ملکہ کی طرف بڑھا دیا۔ “پانی پی لیجیے، ملکہ۔ شاید ذائقہ آپ کی توقع سے زیادہ ‘تیز’ نکل آیا ہو۔”

یہ ایک اور کاری وار تھا۔ ریمنڈ اپنی کرسی پر بیٹھا رہ گیا، جیسے اس کے تمام اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا ہو۔

سلطان صلاح الدین نے پھر اپنا ہاتھ بڑھایا۔ لیکن اس بار انہوں نے اپنے سامنے رکھے ہوئے روٹی کے ٹکڑے کو چھوا۔ انہوں نے اسے دبایا، اس میں تھوڑا سا نمک لگایا، اور اسے کھا لیا۔ پھر انہوں نے ریمنڈ کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں نہ غصہ تھا، نہ نفرت۔ صرف ایک گہری، دکھ بھری سمجھداری تھی، جیسے کوئی استاد اپنے ضدی شاگرد کو دیکھ رہا ہو۔

“بادشاہ سلامت,” صلاح الدین نے بات شروع کی، ان کی آواز اب بھی پُرسکون تھی، مگر ہر لفظ ایک موتی کی طرح ہال میں گر رہا تھا۔ “ہم سب اس دنیا میں مہمان ہیں۔ کچھ دن کے۔ ہماری سلطنتیں، ہمارے تخت، ہمارے محل… یہ سب فانی ہیں۔ جو باقی رہتا ہے، وہ ہے ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ سلوک۔ آج آپ نے مجھے ‘مہمان’ کہہ کر بلایا۔ اسلام میں مہمان خدا کا تحفہ ہوتا ہے۔ خواہ وہ کسی بھی عقیدے سے ہو۔ ہماری تعلیم ہے کہ مہمان کی خدمت کی جائے، اسے وہی کھلایا جائے جو ہم خود اپنے لیے پسند کریں۔”

انہوں نے پیالے کی طرف اشارہ کیا۔ “آپ نے مجھے جو کچھ پیش کیا، میں یقین کرتا ہوں کہ آپ کے ہاں یہ ایک ‘خصوصی’ ڈش ہے۔ مگر انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ دوسرے کو وہ کھلائے جو اس کے لیے عجیب ہو، بلکہ اس میں ہے کہ وہ دوسرے کے دل کا احترام کرے۔ آپ کے بیٹے کو ہم نے گرفتار کیا تھا، مگر کیا ہم نے اسے ذلیل کیا؟ کیا ہم نے اسے وہ کھانے کو دیا جو اس کے عقیدے میں حرام ہو؟ نہیں۔ ہم نے اسے اپنے ساتھ کھانا کھلایا، اپنے خیمے میں پناہ دی۔ کیونکہ اس نے ہمارے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اور ایک سپاہی کا احترام، چاہے وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو، ایک بڑی بات ہوتی ہے۔”

ریمنڈ کی آنکھیں نیچی تھیں۔ اس کا سینہ جوش سے اٹھ رہا تھا۔ سلطان کی باتیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں، اس کے غرور کو زخم پر زخم دے رہی تھیں۔

“آج آپ نے اپنی عداوت، اپنی سلطنت کی قیمت پر بھی، میرے سامنے رکھ دی۔ مگر میں نے اسے واپس نہیں کیا۔ میں نے اسے آپ کی ہی ملکہ کو پیش کر دیا۔ کیونکہ دشمنی ایک آگ ہے۔ اگر میں نے بھی اس آگ میں ایندھن ڈالا، تو یہ آگ آپ کے اس شاندار محل کو، آپ کے اپنے گھر کو بھی جلا کر راکھ کر دے گی۔ میں چاہتا تو تلوار نکال سکتا تھا۔ مگر میں نے اپنی تلوار تو بیت المقدس کی آزادی کے لیے اٹھائی تھی، کسی کی توہین کے لیے نہیں۔ میں نے اپنی زبان کا ‘کلمہ’ چُنا۔”

صلاح الدین نے اپنی جگہ سے اٹھنے کا اشارہ کیا۔ “میں آپ کی مہمان نوازی کا شکر گزار ہوں، بادشاہ سلامت۔ صلح کی بات چیت کے لیے آپ کا شکریہ۔ مگر سچی صلح وہ نہیں جو کاغذ پر لکھی جائے، بلکہ وہ ہے جو دلوں میں لکھی جائے۔ آج آپ کے دل میں جو لکیر کھنچی ہے، میں دعا کرتا ہوں کہ وہ مٹ جائے۔ میں اجازت چاہتا ہوں۔”

یہ کہہ کر سلطان صلاح الدین نے ریمنڈ اور پھر ملکہ ایلینا کی طرف دیکھا۔ انہوں نے ایک مختصر اور وقار سے بھرا سرجھکاؤ کیا، اور ہال سے باہر کی طرف چل پڑے۔ ان کے پیچھے بهاء الدین اور دیگر ساتھی تھے، جن کے چہروں پر فخر کے ساتھ حیرت بھی تھی۔ کوئی بھی نہیں روک سکا۔ نہ ریمنڈ کے محافظ، نہ اس کے درباری۔ سلطان کی اخلاقی طاقت کے سامنے سب کی تلواروں کی دھار ماند پڑ گئی تھی۔

قلعے سے باہر نکلتے ہوئے، بهاء الدین نے کہا، “سلطان! آج میں نے سمجھا کہ فتح صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی۔”

صلاح الدین نے مسکراتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔ “بهاء الدین، سب سے مضبوط قلعہ انسان کا اپنا دل ہوتا ہے۔ اگر تم اسے جیت لو، تو پھر کوئی فصیل، کوئی خندق تمہارا راستہ نہیں روک سکتی۔ اس بادشاہ نے آج کتے کا گوشت پیش کر کے مجھے ‘جانور’ بنانے کی کوشش کی۔ مگر میں نے اسے یہ یاد دلایا کہ انسانیت ہی وہ واحد سلطنت ہے جس کی دیواریں کبھی گرتی نہیں۔”

کچھ ہی مہینوں بعد، خبر آئی کہ بادشاہ ریمنڈ الثالث بیمار پڑ گیا ہے۔ اس کا غصہ، اس کی شرمندگی، اس کی ہار… اس کے اندر ہی اندر کھا گئی۔ جبکہ ملکہ ایلینا نے، ایک دن، خفیہ طور پر سلطان صلاح الدین کے پاس ایک خط بھیجا۔ اس میں صرف ایک جملہ تھا، جو اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا:

“آپ نے جو لقمہ مجھے دیا تھا، وہ میرے منہ کا نہیں، میرے دل کا ذائقہ بدل گیا۔ آپ نے نہ صرف ایک دشمن کو شکست دی، بلکہ ایک دشمن کو انسان بنا دیا۔ – ایک شکر گزار عورت”

سلطان نے خط پڑھا، مسکراتے ہوئے اسے اپنے سینے کے قریب رکھ لیا۔ پھر چراغ کی لو میں جلا دیا۔ کیونکہ بعض فتحیں، بعض سبق، تاریخ کے صفحات پر نہیں، بلکہ انسانیت کے دلوں کے مسالے میں محفوظ ہوتے ہیں۔ اور وہی سب سے پائیدار سلطنتیں ہوتی ہیں۔

خلاصہ: ایک غیر مسلم بادشاہ اپنے بیٹے کی گرفتاری کے بدلے میں سلطان صلاح الدین ایوبی کو ذلیل کرنے کی سازش کرتا ہے اور شاہی دعوت میں ان کے سامنے حرام گوشت پیش کرواتا ہے۔ مگر سلطان کے اعلیٰ اخلاق، بے مثال دانائی اور سردمہری نے اس سازش کو الٹ کر رکھ دیا، اور دشمن کے دل میں ہمیشہ کے لیے انسانیت کا سبق ثبت کر دیا۔

کیا آپ بھی اس خیال سے متفق ہیں کہ طاقت کا حقیقی مظہر اخلاق ہوتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں اور اس سبق کو اپنے پیاروں تک شیئر کریں

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x