قسط وار ناول
وہ جلدی جلدی ریستوران سے نکلا تھا دروازے سے باہر نکلتے ہی اک لڑکی سے ٹکراگیا وہ گرتے گرتے بچ گئ البتہ شاپنگ بیگ زمین پر بکھر گئے
” سٹوپڈ!اندھے ہو کیا دیکھ کر نہی چل سکتے “
.”اے– مائنڈ یور لینگویج مجھے کوئ شوق نہیں ہے تم سے ٹکرانےکا تمہیں بھی دیکھ کر چلنا چاہئے”
ساحر خان اور کسی کی بد کلامی سن لے
عیشا زمین پر بکھرے سامان کا جائزہ لے رہی تھی اس کی بات پر بھڑک کر اسے دیکہا
“ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری دیکہتے نہیں تم نے میرا سامان توڑ دیا”
“اوکے یہ لو اور نکلو یہاں سے”
ساحر والٹ سے سارے نوٹ نکال ک اس کی اور بڑھاے
ہا………………….ہاؤ ڈیر یو تم نے کیا مجھے بہکاری سمجھ رکھا ہے. اے مسٹر اپنی دولت کا رعب”
” اپنے پاس رکھو اور چپ چاپ یہ سارا سامان سمیٹو سمجہے
انگلی کے دکہاتے ہوے وہ رعب سے بولی
“جانتی ہو کس سےبات کر رہی ہو”
” ہاں ایک اندھے سے”
” دیکھو تم نہیں جانتی میں کون ہوں”
میں کچھ جاننا بھی نہیں چاہتی جلدی سے یہ سب اٹھاؤ ورنہ میں شور مچا کر سب کو جمع”
” کرلونگی
ساحر نے اسے بغور دیکہا
“کتنی بد ذبان لڈکی ہے”
اس نے دل میں سوچااور اپنے ملازم کو فون لگایا وہ جلدی میں تھا اسلیے بحث کو ختم کرنا چاہتا تھا ورنہ وہ بھی کسی سے ہار
ماننے والا نہیں تھا اگلے پانچ منٹ میں تین باوردی ملازم وہاں پہنچے اور ساحر کے آرڈر مطابق سارا سامان اٹھا کر عیشا کی گاڑی
میں رکھا
“دیکھ لونگا تمہیں”
.
عیشا کے قریب سے گزرتے ہوے اسے گھور کر وارنگ کے انداز میں بولا!
پھر کیا ہوا”
الیشا نےتجسس سے پوچھا
پہر کیا—- میں نے کہ دیا چپ چاپ یہ سارا سامان سمیٹو ورنہ میں شور مچا کر سب کو جمع کرلونگی—- خود تو اٹھانے سے رہا اپنے ملازموں کو فون کر کے بلایا اور پتا ہے جاتے جاتے کہنے لگا—— میں تمہیں دیکھ لونگا “
اس کے منہ بنانے پر الیشا ہنس دی
تمہیں کہا تھا یے سب لانے کی ضرورت نہیں ہیں خواہ مخواہ الجھن ہو گئ وہ کوی گنڈہ بدمعاش ہوا تو”
افوہ آپی نگیٹیو مت سوچا کریں انجواے کیجےشادی ایک بار ہی ہوتی ہے”
پھر وہ سامان نکال کر الیشا کو دیکھاتی رہی
اچھا آپی میں ذرا زوبی سے مل کر اتی ہوں “
ابھی کیوں صبح چلی جانا نا چلو کھانا کھاتے ہیں”
افوہ اپی مجھے کونسا سو میل جانا ہے ابھی آئ”
کہ کر وہ بنا کچھ سنے نکل گئ اور الیشا بیگس الماری میں رکھنے لگی
عیشا کے والد یوسف علی اسکول ماسٹر تھے ان کے تین اولاد تھی سب سے بڑا بیٹا ریحان اس سے چھوٹی الیشا اور سب سے چھوٹی عیشا تینوں انھیں بے حد عزیز تھے لیکن عیشا سب کی لاڈلی تھی الیشا اور عیشا کے درمیان پانچ سال کا فاصلہ تھا وہ سب سے چھوٹی ہونے کے علاوہ بچپن سے ہی بےحد باتونی تیز دماغ اور شرارتی تھی جو بھی اسکی میٹھی باتیں سننتا بے اختیار اسے پیار اجاتا خاص طور پر یوسف علی کی اس میں جان تھی وہ اسی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو خوب سراہتے امی اس سے اکثر زیادہ باتیں کرنے پر اسےڈپٹ دیتی مگر ابوّ فوراً اس کی حمایت کے لئے تیار رہتے ریحان اور الیشا بھی اس پر جان چھڑکتےتھے عیشا بی.اے فرسٹ ائیر کی سٹوڈنٹ تھی الیشا کا رشتہ دو سال پہلے ہی اپنے خالہ زاد امران کے ساتھ طے تھا ریحان کی جاب ملتے ہی اسکی رضاسے ابو نے امران کی بہن فائزہ کا رشتہ مانگ لیا جسے ُخالہ نے بخوشی قبول کر لیا عیشا بے حد خوش تھی یہ دونوں کزنس اسے بہت پسند تھے اپنے ساتھ ساتھ وہ سب کے لئے زور شور سے شاپنگ میں مصروف تھی
وہ ابھی اپنی دوست زوبی جو پڑوس میں ہی رہتی اسے سارے دن کا احوال سنا کر لوٹی تو ڈاینگ ٹیبل پر سب کو اپنا منتظر پایا
لیجےآگئ”
ریحان نے اسے دیکھتے ہی سب کو اطلاع دی
اسللام و علیکم—- کھانا نہیں کھایا اپ لوگوں نے اب تک؟”
ابو کی پاس والی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھ گئ
ہاں اپ تو اس گھر میں نئ آئ ہے—– آپ کو تو جیسے کچھ پتا ہی نہیں—– جب تک آپ موجود نا ہو کوئ کھانا نہیں کھاتا”
آپی آپ اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہے —– میں تو نہیں کہتی نا کہ میرا انتظار کرے”
پلیٹ میں سبزی ڈالتے ہوے وہ بے نیازی سے بولی
لیکن جانتی توہو نا یہاں سب خوامخواہ تمہیں کتنا بھاؤ دیتے ہے”
الیشامنہ بناتے ہوے بولی
آپی آپ مجھ سے اتنا جلتی کیوں ہے اب اگر سب مجھے آپ سے ذیادہ پیار کرتے ہے تو اس میں میری کیا غلطی ہے”
میں نہیں جلتی ولتی کسی سے مجھے کیا دیکھنا کل سے میں تو بلکل بہی انتظار نہیں کرونگی تمہار
ایک بات بتاؤ آپ کو—— سب میرے بنا کھانا کھا سکتے ہے مگر اپ کبہی نہیں کھائنگی”
اچھا!”
سب ہی اس کی بات پر ہنس دیے واقعی الیشا کے غصہ میں بہی اس کے لیے پیار ہی پیار ہوتا تھا
لیکن عادت تو ڈالنی پڑے گی سب کو کل جب تیری شادی ہوگی تو کیا کرینگے”
امی ہمیشہ کی طرح سنجیدگی سے کہنے لگی
کچھ نہیں کیونکہ میں شادی ہی نہیں کرنے والی ہوں”
سب یہی کہتے ہے لیکن کہنے سے کچھ نہیں ہوتا شادی تو ہونی ہی ہےایک دن”
ائے دن امی کو یہی فکر تھی
جی نہیں وہ دن نہیں آئگا. ابو آپ کہ دیں امی سے میں کبھی شادی نہیں کرونگی اسلیے بار بار مجھے پریشان نا کرے “
پلیٹ میں چمچ پٹخ کر وہ اپنے کمرے میں اگئ
امی اسے پسند نہیں تو آپ کیوں شادی کا ذکر کرتی ہے”
ریحان نے بہن کی حمایت کی
الیشا کی شادی کے بعداس کے رشتے انے شروع ہو جاینگے اگر ایسے ہی ضد کرتی رہی تو کیسے چلیگا”
وہ فکرمندی سے بولی
امی ابھی تو وہ صرف اٹھارہ سال کی ہے– آپ تین چار سال اس کی شادی کے بارے میں سوچو بھی مت— اسے پڑھنے دو ارام سے”
لیکن بیٹا اگر رشتہ اچھا ہو تو سوچنا پڑتا ہے”
ریحان صحیح کہ رہا ہے اتنی جلدی مت کریں عمر کے علاوہ اسے زہنی طور پر بہی تیار ہونا ضروری ہے.”
وہ خاموش ہو گئیں
امی آپ فکر نا کریں”
خاموش دیکھ کر ریحان نے انہیں تسللی دی تو وہ دھیرے سے مسکرادی
—-*———*-
سر— کافی
ملازم نے ڈرتےڈرتے اسے کافی پیش کی کیوں کہ جب وہ غصےّ میں ہوتا تھا تو کسی کی اسکے سامنے جانے کی ہممت نہیں ہوتی تھی
ایڈیٹ اتنی دیر لگتی ہے کافی لانے میں
حسب توقع اس نے غصےّ سے کہا
سوری سر
ملازم ٹرے لے کر نکل گیا
کیا ہوا— کیوں اتنا غصہ کر رہے ہو
دادی اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گئ
پہلے یہ بتایے اپ اج پارک نہیں گئ
نہیں آج من نہیں کر رہا
ساحر نے انہیں مصنوعی غصے سے دیکھا
نینا نینا
اس نے دادی کی خاص ملازمہ کو بلایا
جی—-جی سر
تم دادی کو پارک کیوں نہیں لے گئ
سر— وہ—– دادی نے منع کردیا
تم سے کہا تھا نا اگر یہ منع کرے تو مجھے بتانا
سوری سر —–دادی نے کہا تھا کہ میں آپ کو نا بتاؤ
وہ سر جھکا کر معزرت کرنے لگی
تمہیں دادو کے انسٹرکشنس ماننے کی کوئ ضرورت نہیں—- انڈرسٹینڈ.
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا
اٹھیے—–جلدی چلیے
وہ دادی کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کھڑا ہوا
اج رہنے دو نا بیٹا
دادی لاڈ سے بولی
کیوں اج میں کیا خاص ہے چلیے
وہ کہاں ماننے والا تہا انہیں ہاتھ پکڑ کر باہر لے آیا پچھلی سیٹ پر بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبہال لی ساتھ ہی نینا کو بیٹھنے کو کہا
جب سے دادی کو ہارٹ اٹیک ہوا تہا وہ بہت محتاط ہو گیا تہا ملازموں کی پوری فوج ہونے کے باوجود وہ ان کے ہر پل کی خبر رکھتا تہا دوائ ہو یا کہانا زرا سی کوتاہی ہو جاتی تو ملازموں کی شامت اجاتی
بلکل ہٹلر لگتے ہو کبھی کبھی
دادی نے ناراضگی سے کہا
اپکو تو خیال نہیں اپنی صحت کا اسلیے مجھے ہٹلر بننا پڑتا ہے
ایک دن نہ جاؤ تو کیا ہوجاےگا
روز بلا ناغہ جاونگے تو کیا ہو جاینگا
وہ انہی انداز بولا
وہ اپنی دادی کو لےکر بہت حسساس تھا سات سال کی عمر میں اس نے اپنے والدین کو کہودیا تہا تب سے دادی ہی اس کے لیے سب کچھ تھی اور اسے اب ان کے کھونے کے خیال سے ہی خوف اتا تھا
دادی کو پارک کے باہر ڈراپ کرکے اس نے نینا کو چند ہدایات دی اور ابھی کچھ دوری پر ہی پہنچا تہا کہ اچانک گاڑی کے سامنے ایک کتا آگیا اسنے ایکدم سے بریک لگای جس کی وجہ پیچھے والی گاڑی اس سے بری طرح ٹکرا گئ وہ گھبرا کر باہر نکلا
یو——آر یو میڈ—- دماغ خراب ہے کیا تمہارا—— گاڑی چلانی نہیں آتی تو کیو چلا رہے ہو
عیشا اسے دیکھ کر مزید جہلا گئ
ون منٹ—– تمیز سے بات کرو میں نے کوئی جان بوجھ کر نہیں کیا
پھر وہی——-تم ہمیشہ مجھے ہی کیو ہٹ کرتے ہو—- – دوسرا کوئ نظر نہیں اتا کیا تمہیں
سامنے ڈاگ اگیا تھا—- مجھے بریک لگانی پڑی—- مجھے کیا پتا تھا کہ پیچھے تمہاری گاڑی ہے
وہ بمشکل ضبط کر رہا تھا
دیکھو– کیا حال کردیا میری گاڑی کا
اسنے ٹوٹے ہوے ہیڈ لائٹ کو بغور دیکھتے ہوے کہا ساحر نے والٹ سے نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھاے
یے لو
عیشا نے اس کے ہاتھ کی جانب دیکھ کر غصے سے مٹھیاّں بھینچ لی
پاگل ادمی!— تمہیں شرم نہیں آتی غلطیاں کرتے ہو اور پیسے دکہاتے ہو——- مجھے میری گاڑی ٹھیک کر کے دو ابھی
میں کوئ مکینک نہیں ہوں—— اڈریس دے دو گاڑی پہنچادونگا
واہ !——-اپنا اڑریس دےدوں تاکہ تم مجہے گھر آکر پریشان کرو—– غنڑے کہیں کے
تم خود کو سمجھتی کیا ہو— کب سے بکواس کئے جارہی ہو– لڑکی ہو اسلیے لحاظ کر رہا ہوں ورنہ—–
بکواس بند کرو—– ایک تو چوری اوپرسے—–
ون منٹ
اسے ہاتھ دکھاتے ہوئے بیچ میں ٹوک کر وہ اگے بڑھا اور ایک زور کی لات مار کر دوسری ہیڈ لائٹ بھی توڈ دی
ہاو——یہ—- یہ کیا کیا تم نے
اسے کہتے ہیں جان بوجھ کر کرنا——- اب تک بنا غلطی کے سن رہا تھا اب تم جو چاہو بول سکتی ہو
اب کے وہ ارام سے بولا
پاگل سٹوپڈ مین—— اسے ٹھیک کرو ورنہ جیل جاونگے
اب نا سوری بولونگا نا کچھ ٹھیک کرونگا—- گو ٹو ہیل
وہ گاڑی میں بیٹھ گیا عیشا اسے روکتی رہ گئ اور وہ بڑی آسانی سے وہاں سے نکل گیا
اللہ کرے تمہاری گاڑی پھاڑ سے گرجائے— دوبارہ ملے نا تو سمجھ لینا تم تو گئے
وہ دانت پیستی گاڑی میں بیٹھ گئ
**********
اسلام و علیکم دادای جان
وہ گھاس پر دو زانو بیٹھ گئ
وعلیکم اسسلام جان
کیسے ہیں آپ؟
پہلے یہ بتاؤ کل تم کیوں نہیں آئ؟
آرہی تہی دادی جان لیکن راستے میں چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا
ایکسیڈنٹ—- خیر تو ہے نا بیٹا؟
انہونے فکرمندی سے پوچھا
جی ہاں—- بس کچھ کم عقل لوگ ہوتے ہے گاڑی چلانی اتی نہیں شو آف کرنے کے چکر میں لوگوں کو پریشان کرتے ہے——– اگر وہ آدمی دوبارہ مجہے دکھ گیا نا تو بس
عیشا کا معمول تھا روزانہ فجر پڑھ کر تھوڈی دیر تلاوت کرتی اور گھر کے پاس والے پارک میں چہل قدمی کے لیے آجاتی چند دنوں میں ہی اس کی دادی کے ساتھ اچھی خاصی جان پہچان ہو گئ تھی اس کی وجہ اس کا باتونی مزاج تھا دادی کو یہ چلبلی لڑکی اپنی اپنی سی لگتی تھی
خیر دادی جان یہ بتایے آپ نے اس ہفتے چیک اپ کروایا ڈاکٹر سے؟
ہاں دو دن پہلے ہی کروایا ہے
کیا کہا پہر- سب ٹھیک ہے نا؟
وہ واقعی اُن کے لیے فکر کرتی تھی
ہاں کہ تو رہا تھا ٹھیک ہے– آگے اللہ مالک ہے
انھونے مسکراتے ہوئے کہا
فکر مت کیجیے دادی جان انشاء اللہ اپ بلکل ٹھیک ہوجائینگے
اس نے ان کے گلے میں بانہین ڈالتے ہوے پیار سے کہا
مجھے اپنی فکر کب ہے بیٹا مجھے تو ساحر کی فکر ہے—زرا سا بیمار ہوجاوں تو پریشان ہو جاتا ہے میرے بعد بھلا ہے ہی کون جو اس کا خیال رکھے—– ماں باپ بچپن میں ہی کھو چکا ہے— بس میں تو اتنا چاہتی ہوں اپنے جیتے جی اچھی سی لڑکی دیکھ کر اس کی شادی کردوں تاکہ سکون سے مر سکوں
ایسا کیوں کہ رہے ہو دادی— ابھی تو اپکو بہت دن جینا ہے —–اور رہی شادی کی بات تو سوچنا کیسا کر دیجیے نا شادی
عیشا نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوے کہا
بس ایک یہی بات تو وہ مانتا نہیں یا تو نظر انداز کردیتا ہے یا غصہ ہو جاتا ہے
ایسے کیسے نہیں مانتے آپ ان کی دادی ہے. —- لگایے کان کے نیچے دو پھر دیکہتے ہیں کیسے غصہ کرتے ہیں
عیشا کے انداز پر دادی دیر تک ہنستی رہی
ہو سکتا ہے ان کی نظر میں کوئ لڑکی ہو اسلیے ٹال رہے ہیں؟
وہ کچھ دیر سوچ کر بولی
ارے نہیں نہیں ایسا نہیں ہے— میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں وہ چھپانے والوں میں سے نہیں—– اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے مجھے پتا چلنا تھا—- بس کہتا ہے اتنی جلدی شادی کرنا نہیں چاہتا
تبھی ان کا فون رنگ کرنے لگا اور سکرین پر ساحر کا نام روشن ہوا
ہیلو
دادو اپ اب تک آئ کیوں نہیں—- نو بجنے والے ہیں
عیشا سے باتیں کر رہی تھی وقت کا پتا ہی نہیں چلا— بس ارہی ہوں تھوڑی دیر میں
انھونے عیشا کی جانب مسکرا کر دیکھا
ٹھیک ہے جلدی آئے مجھے افس کے لئے نکلنا ہے
کال بند کرکے وہ دوبارہ عیشا کی جانب متوجہ ہوئ
اچھا بیٹا اب میں چلتی ہوں کل ملاقات ہوگی
انھونے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
دادی جان میں تو آ نہیں پاونگی—- شادی میں چند دن ہی رہ گے ہے ایسے میں میرا آنا پاسیبل نہیں ہے—اور ہاں اپ شادی پر ضرور آئینگا
تمہارے والد گھر آے تھے دعوت دینے میں تو ضرور آؤنگی ساحر سے بہی کہونگی انشاء اللہ.
عیشا نے اُنھیں سہارا دیکر کھڑا کیا
جی اللہ حافظ
اُن کے گلے ملتے بولی
اللہ حافظ
انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعاؤں سے نوازا اور ملازمہ کو اواز دی اور گاڑی میں بیٹھ گئ
گھر پہنچتے ہی ساحر کو ڈائنگ ٹیبل پر اپنا منتظر پایا
حد کرتی ہے اپ بھی دادو کب سے انتظار کر رہا ہوں میں
وہ آرام سے اپنی کرسی پر بیٹھ گئں
بتایا تو سہی عیشا کے ساتھ تھی–_- اور ہاں اگلے اتوار کو اس کی بہن کی شادی ہے تمہیں بہی چلنا ہوگا
انہونے گویا حکم سنایا
جی
اس نے جوس کا گلاس رکھتے ہوے سکون سے کہا
ہیں؟——–
انہوں نے اسے حیرت سے دیکھا کیونکہ انہیں ساحر کے اتنی جلدی مان جانے کی بلکل توقع نہیں تھی
جسٹ چل دادو _—-جس عیشا نے آپ کو انوائیٹ کیا ہے وہ عمران کی کزن ہے اور الیشا بھابھی کی بہن اور عمران کی شادی تو مس کرونگا نہیں
جاری
