The child of a famous hunter مشہور شکاری کا بچہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک گہرے اور جادوئی جنگل میں ایک نوجوان تیر انداز رہتا تھا جس کا نام روبن تھا۔ روبن عام لڑکوں سے مختلف تھا؛ اس کے سر پر سبز ٹوپی پر لال پر جڑا ہوتا تھا، جو اس کی ماں نے اسے مرنے سے پہلے تحفے میں دیا تھا۔ وہ سبز لباس پہنتا، کمند ہاتھ میں رکھتا اور پیٹھ پر تیروں سے بھرا ترکش لٹکائے جنگل کی راہیں چھان مارتا تھا۔

روبن کو تیر اندازی کا فن اس کے والد نے سکھایا تھا، جو خود ایک مشہور شکاری تھے، لیکن والد کو ظالم شريف نوٹنگھم کے سپاہیوں نے قتل کر دیا تھا کیونکہ انہوں نے غریبوں کو کھانا بانٹا تھا۔ تب سے روبن نے قسم کھائی تھی کہ وہ امیروں سے لوٹ کر غریبوں میں بانٹے گا اور شريف کے ظلم کا بدلہ لے گا۔

ایک دن، جب سورج کی کرنیں جنگل کے پتوں کو سنہری کر رہی تھیں، روبن ایک اونچے درخت پر چڑھ کر اردگرد نظارہ کر رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر ایک امیر تاجر کے قافلے پر پڑی جو سونے اور جواہرات سے لدا ہوا جنگل کی تنگ راہ سے گزر رہا تھا۔ قافلے کی حفاظت شريف کے سپاہی کر رہے تھے۔

روبن نے مسکراتے ہوئے اپنا کمان اٹھایا، تیر نکالا اور خاموشی سے نشانہ باندھا۔ پہلا تیر ہوا میں سیٹی بجاتا ہوا گیا اور سیدھا سپاہیوں کے کمانڈر کی ٹوپی کو چھیدتا ہوا زمین میں گڑ گیا۔ سب حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔

”کون ہے وہاں؟“ کمانڈر نے غصے سے چیخا۔

روبن درخت سے چھلانگ لگاتا ہوا نیچے اترا، کمان ہاتھ میں تانے ہوئے، سبز لباس ہوا میں لہراتا ہوا۔

”میں روبن ہوں، اس جنگل کا مالک!“ اس نے بلند آواز میں کہا۔ ”تمہارا سونا غریبوں کا حق ہے۔ اگر جان پیاری ہے تو سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جاؤ!“

سپاہیوں نے تلواریں نکالیں، لیکن روبن سے تیز کون تھا؟ وہ درختوں کے پیچھے چھپتا، تیر چلاتا، اور ایک ایک کر کے سب کو بے بس کر دیتا گیا۔ آخر کار تاجر اور سپاہی خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے، اور تمام سونا روبن کے ہاتھ لگ گیا۔

شام ڈھلتے ڈھلتے روبن غریب بستی میں پہنچا۔ بچے، بوڑھے اور عورتیں اسے دیکھ کر خوشی سے چیخ اٹھے۔ روبن نے سونا اور کھانا سب میں بانٹ دیا اور مسکراتے ہوئے کہا:

”جب تک یہ جنگل کھڑا ہے اور میرا کمان میرے ہاتھ میں ہے، کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا۔“

اور یوں روبن جنگل کا افسانوی ہیرو بن گیا، جس کی کہانیاں آج بھی لوگ سناتے ہیں۔

نوٹ / Note:

آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔

براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown

Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x