ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک پراسرار بلیک ماسک والا بہادر جس کا نام تھا زورو! وہ رات کی تاریکی میں اپنے وفادار سیاہ گھوڑے تورنادو کے ساتھ انصاف کی تلاش میں نکلتا تھا۔
تورنادو کوئی عام گھوڑا نہیں تھا۔ وہ نہ صرف تیز بھاگتا تھا بلکہ بہت ذہین بھی تھا۔ جب بھی زورو خطرے میں پڑتا، تورنادو خود ہی سمجھ جاتا اور اپنے مالک کی مدد کو دوڑتا چلا آتا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں چمکتی تھیں اور وہ ہمیشہ مسکراتا سا لگتا تھا، جیسے وہ جانتا ہو کہ وہ دنیا کے سب سے بہادر جوڑی کا حصہ ہے۔
ایک رات مکمل چاند کی روشنی میں، جب آسمان نیلا اور ستارے جگمگا رہے تھے، زورو کو خبر ملی کہ ایک ظالم حاکم نے غریب لوگوں پر ظلم ڈھانا شروع کر دیا ہے۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا، تورنادو نے پرجوش ہو کر سامنے کے پاؤں اٹھائے اور دونوں تیزی سے پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ گئے۔
چاند کی روشنی میں زورو کی سیاہ کیپ لہرا رہی تھی، اس کے ہاتھ میں دو تیز تلواریں چمک رہی تھیں۔ وہ بلند آواز میں ہنسا اور بولا، “تورنادو! آج پھر انصاف کا وقت آ گیا ہے!”
تورنادو نے بھی خوشی سے ہنستے ہوئے سر ہلایا، جیسے کہہ رہا ہو، “ہاں مالک! چلو، آج پھر ظالموں کو سبق سکھائیں!”
دونوں نے پہاڑی سے چھلانگ لگائی اور اندھیرے میں غائب ہو گئے، صرف ان کی ہنسی اور گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز پیچھے رہ گئی۔ اس رات کے بعد علاقے میں انصاف قائم ہو گیا اور لوگ کہانیاں سناتے تھے کہ چاندنی راتوں میں ایک سیاہ گھوڑے پر سوار ماسک والا بہادر اب بھی گشت کرتا ہے، جو کبھی ظلم نہیں ہونے دیتا۔
اور تورنادو؟ وہ اب بھی اپنے مالک کے ساتھ مسکراتا ہوا دوڑتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ان کی دوستی اور بہادری کی کوئی مثال نہیں!
آپ کا نام اور *ای میل* محفوظ ہیں اور کسی بھی صورت میں پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
براہِ کرم ناول پڑھنے کے بعد اپنا قیمتی کمنٹ ضرور کریں۔
آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے اور لکھاری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔
Your *name* and *email* are secure and will not be shown
Please make sure to leave your valuable comment after reading the novel.
Your feedback is very important to us and motivates the writer. to other users.
