مکمل ناول
یونس فون کان سے لگائے سامنے والی دیوار کو مسلسل گھورنے میں مصروف تھا۔ اس کے چہرے پر جھنجلاہٹ کے تاثرات تھے۔ وجہ یہ تھی کہ وہ کافی دیر سے انیلا کو فون کر رہا تھا ، لیکن وہ اس کا فونہی نہیں اٹھا رہی تھی۔ انیلا اس کی ماموں زاد ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی منگیتر بھی تھی۔ ان کی منگنی کو چھے مہینے ہونے والے تھے اور عید الفطر کے بعد ان کی شادی تھی۔ انیلا ایک پڑھی لکھی خوب صورت لڑکی تھی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ یونس کے ماموں کا انتقال ہو چکا تھا۔
ان کے انتقال کے بعد یونس نے ان کا سارا بزنس سنبھال لیا تھا کیونکہ اس کے ماموں نے اپنی زندگی میں ہی اپنا بزنس بہ خوشی و رضا اس کے حوالے کر دیا تھا۔ انیلا اور اس کی امی کو بھی اس پہ کوئی اعتراض نہیں تھا۔ انہیں یونس پر حد سے زیادہ اعتماد تھا۔ یونس کے والد بھی بزنس مین تھے۔ وہ دو بہن بھائی تھے۔ ندا اس سے تین سال چھوٹی اور یونی ورسٹی میں زیر تعلیم تھی۔
تیسری بار بھی جب انیلا نے فون نہ اٹھایا تو یونس نے جھنجلاتے ہوئے موبائل میز پر رکھا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ دفعتا ا سے ممانی کا خیال آیا، تو اس نے انہیں فون کیا۔ پانچویں گھنٹی پر انہوں نے فون اٹھا لیا۔ علیک سلیک کے بعد اس نے جھجکتے ہوئے دریافت کیا۔
ممانی! کیا انیلا آپ کے ساتھ ہے؟“
نہیں بیٹا، وہ تو گھر میں ہے۔ میں ملازمہ کے ساتھ مارکیٹ آئی ہوئی ہوں۔“ ممانی نے جواب میں کہا۔
”اوہ … اچھا۔“ یونس نے کہا۔ دراصل، میں کب سے اُسے فون کر رہا ہوں، لیکن وہ فون ہی نہیں اٹھا رہی۔
“”شاید کچن میں ہو گی، کہہ رہی تھی سوپ پینے کو دل کر رہا ہے۔“ ممانی نے کہا۔ ” تم تو جانتے ہی ہو، وہ کتنی لا پروا ہے۔ فون کہیں رکھ دیا ہو گا۔“
ٹھیک ہے ممانی، میں اسے دوبارہ فون کرتا ہوں۔ اللہ حافظ ۔“ یونس نے رابطہ منقطع کیا اور انیلا کو فون کر دیا۔ اس بار بھی گھنٹی مسلسل بجتی رہی، لیکن انیلا نے فون نہ اٹھایا، تبھی اس نے فون بند کیا اور سوچنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ اپنے کمرے سے نکل کر تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا پارکنگ میں آگیا۔ چند لمحوں کے بعد وہ اپنی کار میں ” صدیقی ہائوس کی طرف جارہا تھا۔ راستے میں اس نے گل دستہ بھی لے لیا تھا کیونکہ انیلا کو پھول بے حد پسند تھے۔ ویسے بھی وہ جب بھی انیلا سے ملنے جاتا ، تو پھول ضرور لیتا تھا۔
صدیقی ہائوس کے گیٹ پر پہنچ کر اس نے دو تین بار ہارن دیا۔ جب جواب میں کسی نے گیٹ نہ کھولا تو اس نے انیلا کو فون کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ اب انیلا فون ریسیو کر لے گی، لیکن شومئی قسمت، اُس نے اس بار بھی فون نہ اٹھایا۔ اس نے موبائل بند کر کے کوٹ کی جیب میں رکھا اور کار سے اتر کر اطلاعی گھنٹی بجا دی۔ گھنٹی کی آواز باہر تک سنائی دی تھی، لیکن کئی سیکنڈ گزرنے کے باوجود کسی نے گیٹ نہ کھولا، تو یونس کو تشویش نے آگھیرا۔ اس کے دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر بڑھ گئی۔
اسکی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے! اگر انیلا گھر میں تھی، تو فون کیوں نہیں ریسیو کر رہی اطلاعی گھنٹی کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا، پھر اس نے دیوار پھلانگنے کا فیصلہ کیا، مگر اس سے پہلے کہ وہ فیصلے پر عمل درآمد کرتا، عین اسی لمحے ایک کار وہاں آر کی۔ اس کی ممانی اور ملازمہ آگئی تھیں۔
ممانی اس کو دیکھ کر کار سے اتر آئیں۔
اپنے
”بیٹا! تم یہاں کیوں کھڑے ہو ؟ انیلا نے گیٹ نہیں کھولا کیا؟“ وہ حیرت سے بولیں۔
میں نے بیل بجائی تھی۔ یونس نے جوابا کہا۔ ” لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔“
اللہ خیر کرے۔“ ممانی پریشان ہو گئیں۔ ان کے پاس ذیلی دروازے کی چابی تھی۔انہوں نے پرس سے چابی نکال کر لاک کھول دیا، پھر وہ دونوں تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔
ساتھ ہی ممانی انیلا کو آواز دے رہی تھیں، مگر ان کی آواز بازگشت بن کر گھر میں گونج کر رہ گئی۔
انیلا کا کمرہ اوپر کے پورشن میں تھا۔
میں دیکھتا ہوں۔ “ یونس نے کہا اور سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔
کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اس نے دو بار دستک دی ، پھر اسے پکارا، مگر اندر سے کوئی جواب نہ ملا،
تب اس نے ہینڈل پکڑ کر گھمایا ، تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی یونس نے جو منظر دیکھا،
حیرت نے اسے ساکت کر دیا تھا۔ انیلا کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔
صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اس کے اندر زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں تھی۔ اس کی گردن میں چادر کی رسی تھی اور قالین پر ایک اسٹول اوندھے منہ پڑا ہوا تھا۔
انیلا یونس چیختا ہوا اس کی طرف بڑھا۔
اس کی چیخ سن کر مسز صدیقی کا دل دہل گیا۔ انہوں نے بے اختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور اونچی
آواز میں پوچھا۔ ” کیا ہوا بیٹا؟“
ممانی ممانی اس سے آگے یونس کے منہ سے آواز نہ نکل سکی۔
میں آ رہی ہوں۔“ وہ یہ کہہ کر ہانپتی کانپتی اوپر پہنچ گئیں اور پھر جب انہوں نے وہ دل خراش منظر
دیکھا، تو لڑکھڑا سی گئیں۔ اگر انہوں نے یکدم دیوار کا سہارا نہ لیا ہوتا ، تو وہ فرش پر گر چکی ہو تیں۔
چند لمحے وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے انیلا کی لٹکی ہوئی لاش کی طرف دیکھتی رہیں، پھر دوسرے ہی
لمحے ” انیلا“ کہتی ہوئی آگے بڑھیں اور والہانہ انداز میں اس کی لٹکتی ہوئی ٹانگوں سے لپٹ گئیں۔ ”یہ
تم نے کیا کر دیا انیلا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ ماحول میں یکدم افسردگی چھا گئی تھی۔ دوسرے ہی لمحے انہیں غش
آیا اور وہ دھڑام سے فرش پر گر پڑیں۔
“مانی” یونس انہیں سنبھالنے کے لیے آگے بڑھانا انیلا کی تدفین کو چار دن گزر گئے تھے، لیکن مسز صدیقی کی حالت اب تک نہ سنبھلی تھی۔ انیلا کی خودکشی نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ صدیوں کی بیمار دکھائی دیتی تھیں۔ سب ہی پریشان تھے اور
سوچتے رہے تھے کہ آخر انیلا کس بات پر یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئی تھی؟ ایسا کیا ہوا تھا کہ اس نے اپنی ماں یا یونس سے شیئر کرنے کی بجائے موت کو گلے لگانا منظور کیا تھا۔ بظاہر تو وہ خوش وخرم دکھائی دیتی تھی۔
ی با این تود ان مردہ تھا وہ انیل سے بے حد محبت کرتا نالہ نیلا بھی اسے چاہتی تھی اور جب سےیونس بھی بے افسردہ
ان کی منگنی ہوئی تھی دونوں کی محبت گہری ہو گئی تھی۔ اس نے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا
کہ اس کی محبت اسے بیچ منجدھار میں چھوڑ کر دوسری دنیا چلی جائے گی۔ یہ خیال اس کے لیے سوہان
روح تھا۔
چونکہ انیلا نے خود کشی کی تھی ، اس لیے معاملہ پولیس کے علم میں لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی
تھی۔ آئے روز اخبارات میں لڑکیوں کی خود کشیوں کی خبریں شائع ہوتی رہتی تھیں ، انیلا کی خودکشی کی خبر بھی شائع ہوئی تھی۔ یونس نہیں جانتا تھا کہ میڈیا تک کس نے یہ خبر پہنچائی ؟ تاہم اس نے چھان ببین کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ انیلا کی خودکشی کی خبر محلے میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی، پھر سوشل میڈیا کے دور میں ایسی خبریں پھیلتے دیر نہیں لگتی۔
یونس ، اپنی ممانی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا، اس لیے اپنے گھر والوں کی رضامندی سے ممانی کے گھر شفٹ ہو گیا تھا اور اس وقت ممانی اور اپنی امی کے ساتھ ڈرائنگ روم میں موجود تھا۔ اس کی امی تھوڑی دیر پہلے ہی آئی تھیں اور مسز صدیقی کے لیے کچن میں کھانا بنا رہی تھیں۔ یونس نے بتایا تھا کہ وہ کچھ کھائی بھی نہیں رہیں۔ وہ یوں چپ تھیں، جیسے ان کی قوت گویائی ختم ہو گئی ہو۔ ہر وقت بس غیر مرئی نقطے کو گھورتی رہتی تھیں۔ جوان اولاد کی موت کا دکھ برداشت کرنا واقعی بڑے حوصلے
کی بات تھی۔ یہ ایسا واقعہ تھا کہ جس نے بھی سنا، سکتے میں رہ گیا۔ کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ ایک
انتہائی خوب صورت، جوان اور نیک دل لڑکی انتہائی قدم اٹھا سکتی ہے۔
تھوڑی ہی دیر کے بعد یونس کی امی کھانا بنا کر لے آئیں۔ انہوں نے مسٹر صدیقی کو کھلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، تبھی یونس اٹھ کر ممانی کے پاس جا بیٹھا اور بولا۔ “ممانی جان! آخر آپ تک بھو کی رہیں گی ؟“
مجھے بالکل بھوک نہیں ہے۔ مسز صدیقی نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
پلیز! کھانا کھا لیں، ورنہ آپ کی طبیعت بگڑ جائے گی۔ “ یونس نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔
میں انیلا کے بغیر کیسے کھانا کھائوں؟“ وہ گلو گیر لہجے میں بولیں، ساتھ ہی ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ یونس دل گرفتگی سے ہونٹ بھینچنے پر مجبور ہو گیا۔ دفعتا اس کی امی گویا ہوئیں۔
یونس ٹھیک کہہ رہا ہے، تم کچھ کھا لو۔“
نورین ! تم بتاؤ، آخر انیلا نے خود کشی کیوں کی؟“ وہ آبدیدہ لہجے میں بولیں۔
یہی تو میں بھی سوچتی رہتی ہوں۔ امی نے گہ اسانس لیتے ہوئے کہا۔ آخر انسلا کے ساتھ ایسا کیا معلوم نہیں۔ مسز صدیقی نے دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے جواب دیا۔ ”میں نے انیلا
سے پوچھا بھی تھا، لیکن وہ ٹال گئی تھی۔ شاید وہ مجھے بتانا نہیں چاہتی تھی۔“
” اس کا موبائل کہاں ہے ممانی جان!“ یونس نے بے تابی سے پوچھا۔
”اس کا موبائل …! وہ یوں بولیں ، جیسے انہیں بھی ابھی انیلا کا فون یاد آیا ہو۔ ”شاید اس کے کمرے میں ہو گا۔“
میں دیکھتا ہوں۔“
چند لمحوں بعد وہ انیلا کے کمرے میں موجود تھا اور غائرانہ نظروں سے کمرے میں رکھی چیزوں کا جائزہ
لے رہا تھا۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل کی درازیں دیکھ لیں، بیڈ کے نیچے بھی جھانکا ،لیکن انیلا کا موبائل نہیں ملا، یہاں تک کہ اس نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبلز بھی دیکھ لیں۔ سائیڈ ٹیبل پر انیلا اور مسٹر صدیقی کی فریم شدہ تصویر پڑی ہوئی تھی، جس میں وہ اپنی بانہیں ماں کے گلے میں حمائل کئے مسکرا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ یہ تصویر یونس نے اپنے سیل فون کے کیمرے سے بنائی تھی اور فریم کروا کر اس کی سالگرہ پر بطور تحفہ دی تھی۔ یونس نے فریم اٹھا کر اپنی آنکھوں کے سامنے کیا ،تو دل میں کسک سی جاگ اٹھی اور آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے فریم واپس رکھا اور آستین سے اپنی آنکھیں صاف
لیں، تاہم وہ الجھ گیا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آخر انیلا نے اپنا موبائل کہاں رکھا تھا۔ دفعتا اسے ایک خیال آیا تو اس نے اپنے موبائل سے انیلا کے نمبر پر کال ملائی۔ چند لمحوں کے بعد کمرے میں مترنم گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے چونک کر بک ریک کی طرف دیکھا۔ گھنٹی کی آواز وہاں سے آ رہی تھی اور بالآخر کتابوں کے درمیان سے انیلا کا موبائل فون مل ہی گیا۔ یونس نے اپنا فون بند کر کے جیب میں رکھا اور انیلا کے فون کا جائزہ لینے لگا، جس کی بیٹری میں فیصد تھی اور اسکرین پر اس کی لاتعداد مسڈ کالز شو ہو رہی تھیں۔ وہ فون ہسٹری دیکھنے میں مگن ہو گیا۔ اسے اس نمبر کی تلاش تھی، جس سے چند دن پہلے
انیلا کو فون کیا گیا تھا اور بقول مسز صدیقی کے، انیلا کسی سے غصے سے بات کر رہی تھی، مگر اسے ایسا کوئی نمبر نہیں ملا ، جس سے انیلا کو فون کیا گیا تھا۔
یونس کی پیشانی پر پریشانی اور سوچ کی لکیروں کا جال پھیل گیا۔ کیا انیلا نے خود نمبر ڈیلیٹ کیا تھا یا کسی اور نے ؟ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اس نے فون جیب میں رکھا اور ہونٹ بھینچ کر ترتیب سے رکھی کتابیں دیکھنے لگا۔
یونس ایک ہفتے بعد اپنے آفس آیا تھا کہ اس کا دوست عرفان ملنے آ گیا۔ انیلا نے جس دن خود کشی کی تھی، اس دن وہ اپنے گائوں گیا ہوا تھا، اسی لیے وہ جنازے میں بھی شریک نہیں ہو سکا تھا۔ واپس آتے ہی وہ یونس سے اظہار تعزیت کرنے اس کے آفس آگیا تھا۔
” مجھے انیلا کے انتہائی اقدام پر بے حد افسوس ہے۔ وہ میری بہت اچھی بہن تھی۔“ یونس سے گلے ملتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔ ”اللہ تم سب کو صبر دے۔“
”آمین۔“ یونس نے دھیمے سے کہا، پھر اس سے الگ ہو کر بولا۔ ”بیٹھو، میں تمہارے لیے چائے منگواتا
ہوں۔“
وہ بیٹھ گیا، تو یونس نے انٹر کام پر چائے کا آرڈر دیا اور اس کی طرف متوجہ ہوا۔ تم کب آئے …؟”
آج ہی آیا ہوں۔“ عرفان نے جوابا کہا۔ ”یہاں آکر پتا چلا کہ انیلا نے خود کشی کرلی ہے۔ کیا معاملہ تھا؟“
میں نہیں جانتا اور نہ ہی اس نے خود کشی کرنے سے پہلے کوئی نوٹ چھوڑا تھا، البتہ“ کہتے کہتے یونس
خاموش ہوا۔
البتہ کیا۔۔؟“ عرفان نے فوراً پوچھا۔
آنٹی بتا رہی تھیں کہ انہوں نے انیلا کو کسی سے غصے میں بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا بھی تھا ، لیکن وہ ٹال گئی تھی۔ میں نے انیلا کے فون کی ہسٹری بھی دیکھی تھی ، لیکن فون سے ہسٹری ڈیلیٹ تھی، اس سے میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ انیلا نے خود کشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔“
،،وہ “ عرفان ٹھٹکا۔ پھر تم نے پولیس سے رابطہ کیا ؟“
”نہیں“ یونس نے نفی میں سر ہلایا۔ ”میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، البتہ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ پولیس سے رابطہ کر ہی لوں۔ وہ موبائل کمپنی سے انیلا کے نمبر کی ہسٹری بھی معلوم کر لیں
گے، یوں پتا چل جائے گا کہ اس کے نمبر پر کس کی کالز آئی تھیں۔“
”ہاں یہ بات تو ہے۔“ عرفان نے اس کی بات کی تائید کی۔ ”اگر میری مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔ پولیس میں کئی افسروں سے میرے تعلقات ہیں۔“
تمہارا شکریہ“ یونس نے جواباً کہا۔ ” میں بات کر لوں گا۔“
اسی لمحے دستک ہوئی۔ چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور ایک ملازم چائے لے کراندر داخل ہوا۔ دونوں کے سامنے چائے سے بھرے کپ رکھے اور واپس چلا گیا۔
تم سنائو، تمہاری والدہ کی طبیعت اب کیسی ہے ؟ یونس نے کپ اٹھاتے ہوئے دریافت کیا۔
الحمد للہ وہ ٹھیک ہیں۔“ عرفان نے جواباً کہا۔ “تمہارا پوچھ رہی تھیں۔
،” چلو یہ تو اچھی بات ہے کہ اب ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔“ یونس نے جواباً کہا۔
ان دونوں کی دوستی کی ابتدا ایک بنک سے ہوئی تھی ، جہاں عرفان بطور مینجر ملازمت کرتا تھا۔ یونس کسی کام سے وہاں گیا تھا۔ باتوں باتوں میں ان کی دوستی ہو گئی ، جو بعد میں اتنی گہری ہوگئی کہ عرفان کا یونس کے گھر آنا جانا ہو گیا، یہاں تک کہ عرفان کی انیلا سے بھی بات چیت ہونے لگی۔ وہ عرفان کو بھائی کہتی تھی۔ چونکہ اس کا اپنا سگا بھائی تو نہیں تھا ، اس لیے اس نے عرفان کو ہی اپنا بھائی بنا لیا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ ان دونوں کے درمیان خاصی بے تکلفی عرفان مذاق مذاق میں اکثر یونس سے کہتا۔ ”اگر تم نے شادی کے بعد انیلا کہ کوئی تکلیف دی، تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“
یار! تم بے فکر ہارہو، میں تمہاری بہن کو پلکوں پر بٹھائوں گا۔“ یونس ہنس کر کہتا۔ اسی طرح ان کے در میان ملکی پھلکی نوک جھونک ہوتی رہتی تھی۔
دفعتا یونس کے موبائل کی گھنٹی بجی، تو اس نے چونک کر فون کی طرف دیکھا۔ اسکرین پر ”اما“ لکھا ہوا
جگمگا رہا تھا۔ اس نے کپ میز پر رکھا اور سیل فون اٹھا لیا۔
جی امی جان!“ سلام کے بعد اس نے پوچھا۔
”بیٹا! جلدی سے گھر آ جائو۔“ اس کی امی کہہ رہی تھیں۔ “تمہاری ممانی کی طبیعت خراب ہو گئی
کیہ سنتے ہی یونس بے اختیار اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ عرفان نے چونک کر اسے دیکھا۔
”اوہ … کیا ہو گیا انہیں … ؟”
میں کچن میں ان کے لیے سوپ بنا رہی تھی کہ مجھے کچھ گرنے کی آواز آئی۔ میں کمرے میں پہنچی تو وہ فرش پر بے ہوش پڑی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں انیلا کی تصویر تھی۔ شاید وہ تصویر سے باتیں کرتے کرتے بے ہوش ہو گئیں۔ میں نے ڈاکٹر سعید کو فون کر دیا ہے، وہ آتے ہی ہوں گے۔“
”اچھا، میں بھی آ رہا ہوں۔ “ یونس نے جلدی سے کہا، پھر رابطہ منقطع کر کے موبائل جیب میں رکھا عرفان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ” عرفان! مجھے جانا ہو گا۔ ممانی جان کی طبیعت اچانک خراب ہوہے۔
چلو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔“ عرفان اٹھتے ہوئے متفکر لہجے میں بولا۔ جواب میں یونس نے
اثبات میں سر ہلایا اور دونوں ہی آفس سے نکلتے چلے گئے۔
مسز صدیقی بیٹی کی موت کے صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو گئی تھیں۔ ان کو بے ہوش کر نورین بیگم گھبرا گئیں۔ انہوں نے ملازمہ کے ساتھ مل کر بمشکل انہیں اٹھا کر بستر پر لٹایا ، پھر اپنے فیملی ڈاکٹر کو فون کر دیا تھا۔ ڈاکٹر سعید پندرہ منٹ کے اندر اندر ہی وہاں پہنچ گئے۔انہوں نے چیک آپ کے بعد انہیں انجکشن لگا یا اور بتایا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں، صدمے کے زیر اثر ان کی طبیعت خراب ہوئی تھی ، وہ جلد ہی ہوش میں آجائیں گی۔
عرفان تھوڑی دیر ٹھہرا رہا، پھر ضروری کام کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔ اب مسز صدیقی کے کمرے میں یونس اور اس کی امی موجود تھیں۔ مسز صدیقی ہوش میں آگئی تھیں، لیکن بہت چپ تھیں۔ بالآخر چیک آپ کے بعد انہیں انجکشن لگا یا اور بتایا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں، صدمے کے زیر اثر ان کی طبیعت خراب ہوئی تھی ، وہ جلد ہی ہوش میں آجائیں گی۔
عرفان تھوڑی دیر ٹھہرا رہا، پھر ضروری کام کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔ اب مسٹر صدیقی کے کمرے میں یونس اور اس کی امی موجود تھیں۔ مسز صدیقی ہوش میں آگئی تھیں، لیکن بہت چپ تھیں۔ بالآخر یونس نے گفتگو کا آغاز کیا۔
ممانی جان! آپ چپ کیوں ہیں؟ کچھ تو بولیں۔“
کیا بولوں بیٹے۔ مسز صدیقی نے دھیمی آواز میں کہا۔
کیا چپ رہنے سے انیلا واپس آ جائے گی؟ پلیز اپنے آپ کو سنبھالیں،ورنہ آپ کی طبیعت بگڑ جائے یونس! انیلا نے خود کشی نہیں کی، اسے کسی نے قتل کیا ہے۔“ ممانی نے سابقہ بات دوہرائی۔ ”مجھے پورا یقین ہے، انیلا کبھی خود کشی جیسا قدم نہیں اٹھا سکتی۔“
یونس نے ایک گہری سانس بھری۔ اسے بھی شک تھا ، لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا، تاہم اس نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ ”مجھے بھی یہی شک ہے، میں نے اپنے ایک پولیس والے دوست کو انیلا کے فون کا ڈیٹا نکلوانے کا کام سونپ دیا ہے۔ جیسے ہی کوئی پیش رفت ہوتی ہے، تو میں آگے قدم بڑھائوں گا۔“ پھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر مضبوط لہجے میں بولا۔ ”میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں،
جس نے بھی انسلا کو قتل کیا ہے، ما جس کی وجہ سے اس نے خود کشی کی سے ، میں اسے کیفر کردار تک یکدم یونس خیالات سے باہر نکل آیا، ایک لمبی سانس بھری اور بڑبڑایا۔ انیلا! اگر تمہیں کوئی پریشانی ،کوئی مسئلہ تھا ، تو مجھ سے ڈسکس کر لیا ہوتا۔ مجھے یوں تنہا چھوڑ کر جانے کی کیا ضرورت تھی؟ کاش! تم مجھے بتادیتیں، شاید میں کوئی حل نکال لیتا۔“
اسی لمحے دستک ہوئی ،تو یونس نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ اس کی امی چائے لے کر آئی تھیں۔
اب ممانی جان کیسی ہیں امی !“ اس نے کپ لیتے ہوئے دریافت کیا۔
بہتر ہیں ،سو رہی ہیں۔“ وہ بولیں۔ ”بیٹی کی جدائی کا گھائو بہت گہرا ہے، آہستہ آہستہ ہی بھرے گا۔“
آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ “ یونس نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔ ”ندا آگئی یونیورسٹی سے؟“
”ہاں، ابھی آئی ہے۔“ ان کے بتانے پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اگلے دن یونس آفس میں موجود تھا کہ طیب کا فون آگیا۔
ہاں طیب ! کیا بنا ؟ فون اٹھاتے ہی اس نے بے تابی سے دریافت کیا۔
انیلا کے فون کی ہسٹری مل گئی ہے۔“ طیب نے جوابا کہا۔ ”آخری فون جس نمبر سے کیا گیا تھا،
وہایک پبلک فون بوتھ کا ہے۔“
یہ سن کر یونس نے ہونٹ بھینچ لیے، پھر کھاتی توقف کے بعد پوچھا۔ ”پھر اب یہ کیسے پتا چلے گا کہ فون
بوتھ سے انیلا کو کس نے فون کیا تھا۔۔۔؟“
”یہ تو بہت مشکل ہے۔“
.کیا تم نے سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی…؟“
”ہاں ۔ وہ بھی دیکھی ہے۔ جس وقت انیلا کو فون کیا گیا تھا، اس وقت ایک آدمی کو بوتھ میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے، لیکن اس کا چہرہ واضح نہیں ہے کیونکہ سی سی ٹی وی کیمرہ قدرے فاصلے پر لگا ہوا ہے۔“
اس کا مطلب ہے کہ انیلا نے خود کشی نہیں کی۔“ یونس کچھ سوچتا ہوا بولا۔
اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ طیب نے جواب دیا۔ ”ہاں، اگر انیلا کا پوسٹ مارٹم کیا جائے، تو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے خود کشی کی ہے یا اسے قتل کیا گیا ہے۔“
کیا اس سے قاتل کے بارے میں معلوم ہو جائے گا ؟ “ یونس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
اگر قاتل نے ہاتھوں پر دستانے پہنے ہوں گے، پھر تو نہیں۔“ طیب نے کہا۔ ”لیکن مجھے پورا یقین اس بارے میں کچھ کہنا بل از وقت ہے۔ طیب نے جواب دیا۔ ہاں، اگر انیلا کا پوسٹ مار جاۓ، تو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے خود کشی کی ہے یا اسے قتل کیا گیا ہے۔“
کیا اس سے قاتل کے بارے میں معلوم ہو جائے گا ؟ “ یونس نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
اگر قاتل نے ہاتھوں پر دستانے پہنے ہوں گے، پھر تو نہیں۔“ طیب نے کہا۔ ”لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ قاتل نے دستانے پہنے ہوں گے۔ ایسے شاطر اپنا نشان نہیں چھوڑتے۔ کیا تم نے انیلا کے گھر کے آس پاس کے کیمرے چیک کیے ہیں ؟“
”اوہ… اس کا تو مجھے خیال ہی نہیں رہا۔ یونس نے یکدم چونکتے ہوئے کہا۔ ”میں آج ہی کیمرے چیک کرتا ہوں۔“
ضرور چیک کرو، اور کچھ معلوم ہو تو مجھے بتانایونس نے ”ٹھیک ہے “ کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا۔ اسے واقعی انیلا کی کوٹھی کے آس پاس کے کیمروں کا خیال ہی نہ آیا تھا۔ وہ آفس سے جلد ہی گھر کے لیے نکل گیا۔ کو ٹھی پہنچ کر اس نے آس پاس کے
گھروں کے مکینوں سے رابطے کیے اور ان سے کیمروں کی ریکارڈنگ چیک کرنے کی درخواست کی۔ کوٹھی کے آس پاس دو گھروں میں کیمرے نصب تھے۔ ایک گھر کے مکین نے بتایا کہ ان کا کیمرہ کافی عرصے سے خراب ہے ،جب کہ دوسرے گھر کے مالک نے بتایا کہ وہ ہر تین دن کے بعد ریکارڈنگ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔ یوں یونس بے نیل و مرام ہی کو ٹھی لوٹ گیا۔
اگلے دن وہ آفس میں موجود تھا کہ عرفان اس سے ملنے چلا آیا۔ علیک سلیک کے بعد وہ مستنفسر ہوا۔
” اور سنائو، انیلا کو فون کرنے والے کے بارے میں پتا چلا …؟“
نہیں۔“ یونس نے نفی میں سر ہلایا۔ ” اس نے کسی بوتھ سے انیلا کو فون کیا تھا۔“
اوہ تو اس فون بوتھ کے قریب سی سی ٹی وی کیمرے بھی تو لگے ہوں گے۔ اس سے کچھ معلوم نہیں ہوا؟“ عرفان نے چونکتے ہوئے کہا۔
یونس نے سر ہلایا۔ جس شخص نے انیلا کو فون ہوتھ سے کال کی تھی ، وہ ریکارڈنگ میں دکھائی تو دے رہا ہے، لیکن اس کی شکل دکھائی نہیں دے رہی۔ دراصل کیمرہ قدرے فاصلے پر لگا ہوا ہے۔ طیب نے کہا ہے کہ اگر انیلا کا پوسٹ مارٹم کیا جائے، تو شاید قاتل کا پتا چل جائے۔“
تو پھر تم پوسٹ مارٹم کروا کو گے…؟
ممانی سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ کروں گا۔ ” یونس نے جوابا کہا۔ ”ویسے تم کیا کہتے ہو، کیا پوسٹ مارٹم کروائوں ؟“
”بالکل کروائو۔“ عرفان نے کہا۔ ”موت کی وجہ تو معلوم ہونی چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ پوسٹ مارٹم کرانے سے یہ شک دور ہو جائے گا کہ انیلا نے خود کشی کی ہے یا اسے کسی نے قتل کیا ہے۔“
جواب میں یونس نے سر ہلا دیا۔ کچھ ہی دیر گزاری تھی کہ ایک ملازم چائے لے کر آ گیا اور وہ چائے پینے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے رہے۔
مر صدیقی کی طبیعت پہلے سے بہتر تھی، لیکن ان کا غم کم نہیں ہو رہا تھا۔ شام کو یونس نے گھر جا کرہوان سے بات کی ، تو وہ سوچ میں پڑ گئیں۔
بیٹا! اگر اس طرح انیلا کا قاتل پکڑا جائے گا، تو ٹھیک ہے تم اس کا پوسٹ مارٹم کراکو۔ “ انہوں نے ساری بات سن کر کہا۔
”ٹھیک ہے ممانی جان، بس آپ کی اجازت ضروری تھی۔ میں طیب سے بات کرتا ہوں۔“ یہ کہنے کے ساتھ ہی اس نے طیب سے رابطہ کیا اور پوسٹ مارٹم کی بات کرنے لگا۔
دو دن بعد انیلا کی قبر کشائی ہوئی اور اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق انیلا کی موت پھندے سے لٹکنے کے باعث نہیں ہوئی، بلکہ کسی نے اس کا گلا دبا کر پہلے موت کی نیند سلایا ، پھر پنکھے سے لٹکا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس نے خود کشی کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو خوفناک بات معلوم ہوئی ، وہ یہ تھی کہ اسے ہلاک کرنے سے قبل اس کی بے حرمتی بھی کی گئی تھی، جو پوسٹ مارٹم میں ثابت ہو گئی تھی۔
رپورٹ پڑھ کر یونس کو ایک زور دار جھٹکا لگا تھا۔ اس کا یہ شک تو یقین میں بدل گیا تھا کہ اسے منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا ہے ، لیکن اسے یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ طیب ہی اس کے آفس لے آیا تھا اور اس وقت سامنے کرسی پر براجمان تھا۔ یونس سکتے کے عالم میں اپنے سامنے میز پر رکھی رپورٹ کو تک رہا تھا، پھر وہ طیب کی طرف متوجہ ہوا۔
اب یہ کیسے ثابت ہو گا کہ قاتل کون ہے؟“ یونس نے کہا۔
ہمیں انیلا کا کمرا چیک کرنا ہو گا۔ “ طیب نے ٹھوڑی کھجاتے ہوئے جواباً کہا۔ ” مجھے یقین ہے، قاتل یقینا کوئی ایسی غلطی سرزد ہوئی ہو گی، جس سے اسے پکڑنے میں آسانی ہو گی۔“
اس کی بات سن کر یونس کے چہرے پر امید کی کرن بیدار ہوئی۔ اس نے بے تابانہ لہجے میں کہا۔ ”تو پھر دیر کس بات کی ابھی چلو۔“
ہاں چلتے ہیں، میں اپنی ٹیم کو بلوا لیتا ہوں۔“ طیب نے فون کر کے اپنی ٹیم کو صدیقی صاحب کی کو ٹھی پر پہنچنے کی ہدایت کی اور یونس کے ساتھ روانہ ہو گیا۔
اس نے اپنی ٹیم کے ممبران کے ہمراہ انیلا کے کمرے کا بغور جائزہ لیا، ایک ایک چیز چیک کی گئی ،لیکن سی کو ایسی کوئی چیز یا نشان نہ ملا، جس سے قاتل کی شناخت میں آسانی ہو جاتی، یہاں تک کہ کسی بھی چیز پر انگلیوں کے نشانات تک نہیں تھے۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ قاتل نے انتہائی چالا کی اور ہوشیااری کا مظاہرہ کیا تھا، تاہم طیب نے یونس کی ڈھارس بندھائی تھی کہ وہ بہت جلد قاتل کو تلاش کر لیں گے۔
،،ان سب کے جانے کے بعد جب یونس ، مسز صدیقی کے کمرے میں آیا تو وہ چھوٹتے ہی اس سے مستفسر ہوئیں۔ یونس بیٹا ! کیا ہوا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا معلوم ہوا ہے۔ میری بیٹی نےخودکشی نہیں کی ناں؟“
جی ممانی جان! ایسا ہی ہے۔ ” یونس نے جھکے ہوئے لہجے میں کہا۔ ” انیلا نے خود کشی نہیں کی، بلکہ اسے مارا گیا ہے اور کہتے کہتے وہ رک گیا۔ تو نورین اور مسٹر صدیقی نے چونک کر اسے دیکھا۔ ”انیلا کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی تھی۔
کیا ؟ دونوں خواتین صدمے سے ساکت ہی ہو گئیں۔ دوسرے ہی لئے مسٹر صدیقی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ نورین بیگم نے جلدی سے آگے بڑھ کر انہیں گلے سے لگایا اور ان کی ڈھارس بندھانے لگیں، لیکن وہ مسلسل روئے جارہی تھیں۔ بیٹی کی موت کا غم ایک بار پھر تازہ ہو گیا تھا۔
یونس نے کار پارکنگ میں روکی اور بنک کی طرف بڑھ گیا۔ اسے عرفان سے ایک ضروری کام تھا، اسی لیے اس سے ملنے آیا تھا۔ عرفان اپنے کمرے میں ہی موجود تھا۔ اس نے جب یونس کو دیکھا ،تو اس کے استقبال کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
اس سے پہلے کہ یونس کی بات مکمل ہوتی، دفتا میز پر رکھے ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ یونس خاموش ہو گیا جبکہ عرفان نے منہ بناتے ہوئے ریسیو اٹھایا اور ہیلو کہا۔
”اچھا ٹھیک ہے، میں آتا ہوں۔“ اس نے کہتے ہوئے ریسیور رکھا اور یونس سے بولا۔”یار! تم بیٹھو،
میں پانچ منٹ میں آتا ہوں۔“
جواب میں یونس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ عرفان کے جاتے ہی وہ سرسری نظروں سے آفس کا جائزہ
لینے لگا۔ میز پر چند فائلیں ، قلم اور دو ٹیلی فون پڑے ہوئے تھے۔ دفعتا اس کی نظر میز کے ساتھ ریک پر رکھی فائلوں پر پڑی، تو وہ بے اختیار چونک پڑا اس کے چونکنے کی وجہ وہ ڈائری تھی، جو فائلوں کے درمیان موجود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اسے فائلوں کے درمیان رکھ کر چھپانے کی کوشش کی گئی ہو، لیکن اس کا کچھ حصہ باہر نکلا ہوا تھا۔ وہ اس ڈائری کو اچھی طرح پہچانتا تھا۔
یونس کو یاد تھا کہ انیلا بھی ڈائری لکھنے کی شوقین تھی۔ وہ اپنی ڈائری میں روز ہونے والی اہم بات ضرور لکھتی تھی۔ جس رنگ کی ڈائری فائلوں میں دبی ہوئی تھی، انیلا کے پاس بھی اسی رنگ کی ڈائری تھی۔ یونس کو خود پر حیرت ہو رہی تھی کہ وہ انیلا کی ڈائری کیسے بھول گیا تھا، بہر حال، تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اٹھا اور میز کی طرف سے گھوم کر ریک کے پاس گیا، پھر اس نے ڈائری باہر کھینچ لی۔ دوسرے ہی لمحے اس کی آنکھیں حیرت کی شدت سے پھٹتی چلی گئیں۔ ڈائری کے کور پر ” انیلا کی
ڈائری“ واضح لکھا ہوا تھا۔
انیلا کی ڈائری عرفان کے پاس یونس سوچتے سوچتے رک گیا۔ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔ نہ جانے اس کے دماغ میں کیا بات آئی کہ اس نے ڈائری اپنے بیگ میں رکھی اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے دل میں وسوسے سے اٹھ رہے تھے۔ وہ انیلا کے مزاج کو جانتا تھا۔ انیلا نے کبھی کسی کو اپنی ڈائری پڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی، وہ کہتی تھی کہ وہ اس میں اپنی پرسنل باتیں لکھتی ہے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ عرفان آگیا اور ساتھ ہی چائے بھی آگئی۔
ہاں ، اب بتائو۔“ عرفان نے چائے کا گھونٹ لینے کے بعد یونس سے پوچھا۔ ”تم اپنی ممانی کا اکائونٹ کھلوانے کے بارے میں بات کر رہے تھے ؟“
”ہاں… وہ ، چلو میں اس حوالے سے پھر بات کروں گا۔“ یونس نے بہانہ بناتے ہوئے کہا۔ ”ابھی امی جان کا فون آیا تھا، مجھے جانا ہو گا۔ “ کہنے کے ساتھ ہی اس نے کپ بھی میز پر رکھ دیا۔
”ارے کیا ہو گیا ہے۔ خیریت تو ہے ناں؟“ عرفان پریشان ہو گیا۔
”ہاں خیریت ہی ہے، پریشانی کی کوئی بات نہیں “ یونس نے کہا۔ ” ممانی مجھے یاد کر رہی ہیں۔ اچھا میں چلتا ہوں ، چائے کا شکریہ۔“
تھوڑی دیر کے بعد اس کی کار گھر کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔ در حقیقت وہ جلد سے جلد گھر پہنچ کر ڈائری پڑھنا چاہتا تھا ، کیونکہ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ جو کوئی انیلا کو ہراساں کر رہا تھا، یقیناً اس کے بارے میں ڈائری میں ضرور کچھ نہ کچھ لکھا ہو گا۔ ممکن ہے کہ اس کی تحریر کے بعد ہی وہ قاتل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے۔ یہی سوچ کر وہ بنک سے نکل آیا تھا۔
گھر آکر اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ڈائری کھولی اور ورق گردانی کرنے لگا۔ ساتھ ساتھ وہ انیلا کے لکھے جملے بھی پڑھ رہا تھا۔ اس کی لکھائی بہت خوب صورت تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے صفحے پر موتی پرودیئے گئے ہوں۔ ڈائری نصف صفحات تک لکھی ہوئی تھی۔ ہر صفحے پر تاریخ اور وقت بھی درج تھا۔ وہ ورق گردانی کرتے کرتے جیسے ہی آخری صفحے پر پہنچا، تو بے اختیار ٹھٹک کر ،سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور وہ پر غور نظروں سے آخری صفحے پر لکھی تحریر کو پڑھتا چلا گیا۔
ساتھ ہی اس کے چہرے کے تاثرات بھی بدلتے جا رہے تھے۔ جہاں پہلے حیرت کے تاثرات ثبت تھے ، اب وہاں غصے اور غیظ و غضب کے تاثرات پھیل گئے تھے۔ آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔
انیلا نے ڈائری میں سب کچھ لکھ دیا تھا کہ وہ کون ہے، جو اسے نہ صرف ہراساں کر رہا تھا بلکہ قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہا تھا۔
یونس کے وجود میں غم و غصے کی ایک تیز لہر دوڑ گئی۔ اس نے ڈائری بند کر کے بیگ میں رکھی اور ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ طیب کو فون کرنے کے بعد وہ انتہائی عجلت سے کار ڈرائیو کرتا ہوا عرفان کے بنک کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ اس کے دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے پہلے بنک پہنچ جائے۔ اس نے آدھے گھنٹے کا سفر میں منٹ میں طے کیا اور انتہائی جارحانہ انداز میں بنک کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ دروازے پر موجود گارڈ نے اسے چیکنگ کی غرض سے روکنے کی کوشش کی ، لیکن یونس اسے ایک طرف دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوا اور سیدھا مینجر کے کمرے کی طرف بڑھا۔ عین اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھلا اور عرفان نکلتا دکھائی دیا۔
اس کے ہاتھ میں بیگ تھا۔ وہ شاید فرار ہونے کی غرض سے جا رہا تھا، جیسے ہی اس نے یونس کے جارحانہ تاثرات دیکھے، تو بھاگنے کی کوشش کی، لیکن یونس نے نہ صرف اسے دبوچ لیا بلکہ اس کے منہ پر گھونسا بھی رسید کر دیا۔ عرفان کے منہ سے کراہ نکلی، بنک میں موجود عملہ اور کسٹمر سب ہی بے اختیار چونک کر ان دونوں کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔ یونس نے اسے فرش پر گرایا اور اس کے سینے پر سوار ہو کر اس کے منہ پر مکوں کی بارش کر دی۔ اسی لمحے تین چار گارڈ اس کی طرف بڑھے اور بڑی مشکل سے اسے عرفان کے اوپر سے ہٹایا۔
ذلیل کمینے تو تو مارِ آسین نکلا یونس خود کو گارڈز کی گرفت سے چھڑاتے ہوئے پوری شدت سے چلا رہا تھا۔ انیلا تجھے بھائی کہتے نہ تھکتی تھی اور تو اس کی عزت کا لٹیرا نکلا۔ چھوڑو مجھے۔ میں آج اس کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“
اس ایک بار پھر گارڈز کی گرفت سے خود کو چھڑانے کی سعی کی۔ وہ بے حد مشتعل ہو رہا تھا، جب کہ فرش پر پڑے عرفان کا چہرہ خون میں لت پت ہو چکا تھا۔ ایک گھونسا اس کی دائیں آنکھ پر بھی پڑا تھا، جہاں اب نیل پڑ گیا تھا۔ عین اسی لمحے انسپکٹر کی سرکردگی میں پولیس بھی وہاں پہنچ گئی۔ طیب ان کے ساتھ تھا۔ انسپکٹر کے اشارے پر پولیس کے جوانوں نے عرفان کو قابو کر کے اس کے ہاتھوں میں ہی ڈال دی اور اسے گھسیٹتے ہوئے بنک سے باہر کھڑی گاڑی میں لے گئے۔ بنک کا عملہ اور کسٹمرسب ہی دم بخود کھڑے تھے۔ گارڈز نے یونس کو چھوڑ دیا تھا۔
”آئو یونس! چلیں۔“ طیب نے اس سے کہا، تو وہ بو جھل قدموں سے چلتا ہوا بنک سے باہر آگیا۔
پولیس عرفان کو لے کر جا چکی تھی۔ یونس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ وہ بے حد شاک میں تھا۔ اسے بالکل بھی نہیں تھی کہ اس کا دوست ہی اس کی محبت اور منگیتر کا لٹیرا اور قاتل نکلے گا۔
“تمہیں کیسے پتا چلا کہ عرفان ہی انیلا کا قاتل اور لٹیرا ہے ؟“ جب وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے، تو طیب نے یونس سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
یونس نے خود کو پرسکون کرنے کی حتی المقدور کوشش کی پھر کہنے لگا۔ انیلا ڈائری لکھتی تھی۔ جب میں نے عرفان کے آفس میں اس کی ڈائری دیکھی ، تو چونک پڑا اور چپکے سے ڈائری اٹھا کر گھر لےگیا۔ انیلا نے آخری صفحے پر عرفان کے متعلق سب کچھ لکھا تھا۔“ اتنا کہنے کے بعد یونس خاموش ہو گیا، لمحاتی توقف کے بعد اس نے دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔ ”میں تمہیں ڈائری دیتا ہوں، تم اسے پڑھو۔“
یونس نے بیگ سے ڈائری نکال کر اس کا آخری صفحہ کھولا اور طیب کے حوالے کر دی۔ طیب ڈائری کے مطالعے میں غرق ہو گیا۔ انیلا نے لکھا تھا۔ ” عرفان… جسے میں اپنا سگا بھائی مانتی ہوں، اس کی عزت کرتی ہوں، لیکن اس کی نیت میں فتور آچکا ہے۔ وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا ہے، یہاں تک کہ اس نے مجھ سے کہا کہ انیلا! تم مجھے بھائی نہ کہا کرو، کیونکہ میں تمہارا بھائی نہیں ہوں۔ بھائی وہ ہوتا ہے، جس سے خون کا رشتہ ہوتا ہے۔ میں اس کی بات پر چونک گئی، پھر ایک دن اس نے مجھ سے کہا کہ میں یونس سے منگنی توڑ کر اس سے خفیہ شادی کر لوں، وہ مجھے بہت خوش رکھے گا اور یونس سے زیادہ محبت دے گا۔ اس نے مجھے فون پر دھمکی بھی دی ہے کہ اگر میں نے اس کی بات نہ مانی ،تو وہ مجھے برباد کر دے گا۔ میں پریشان ہوں، کیا کروں ؟ اگر یونس کو بتائوں گی، تو وہ طیش میں آکر عرفان کو جان سے ہی نہ مار دے۔ میں نہیں چاہتی کہ یونس قاتل بنے، اس لیے چپ ہوں اور اس مسئلے کا حل ڈھونڈ رہی ہوں۔
طیب نے طویل سانس لیتے ہوئے ڈائری یونس کے حوالے کر دی، پھر کار اسٹارٹ کی اور وہ پولیس اسٹیشن چل دیئے۔
عرفان نے اعتراف جرم کر لیا تھا کہ جب سے اس نے انیلہ کو دیکھا تھا ، تب سے ہی اس سر فریقہ تھی
اور یوں ایک دوست ہی دوست کی محبوبہ کا قاتل نکلا
،،
