مکمل ناول
واقعے کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں جو کویت میں پیش ہوا اور جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ یہ قصہ ایک مشہور و معروف گائیکہ کا ہے جس کا نام نورہ ہے۔ اس واقعے کے بعد اس نے اپنی پوری زندگی بدل ڈالی اور آج تک گانا نہیں گایا۔ کہانی اتنی پراسرار اور خوفناک ہے کہ پوچھیے مت۔ پولیس تک کو رپورٹ کرنی پڑی تھی اس معاملے میں۔
سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ آج کے دور میں نورہ نے گانا بلکل چھوڑ دیا ہے۔ اس کی وجہ آپ کو پوری تفصیل سے سمجھ آ جائے گی جب میں آپ کو سارا ماجرا سناؤں گا۔
تو چلیں شروع کرتے ہیں۔
نورہ کویت کی رہنے والی تھی اور 1997 کے زمانے میں اپنے فن کی وجہ سے کافی نام کما چکی تھی۔ شادی بیاہ کی محفلوں میں اسے بلایا جاتا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں جا کر اپنی کارکردگی دکھاتی تھی۔ اس کا اپنا ایک گروپ تھا جس میں کئی لوگ شامل تھے۔
ایک شام کا ذکر ہے۔ نورہ ایک تقریب میں پرفارم کر کے تھکی ہاری گھر لوٹی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اب آرام کرے گی کہ اچانک گھر کا فون بجنے لگا۔ اس زمانے میں تو موبائل فون نہیں تھا، لینڈ لائن ہی استعمال ہوتی تھی۔ نورہ نے فون اٹھایا تو دوسری جانب سے ایک آدمی کی آواز آئی۔
یہ شخص بہت ہی عجیب انداز میں عربی بول رہا تھا۔ ایسی عربی جو آج کل کوئی استعمال نہیں کرتا۔ جیسے ہمارے یہاں اگر کوئی بہت پرانے طرز کی اردو بولے تو ہمیں عجیب لگتا ہے نہ؟ بالکل ویسے ہی نورہ کو بھی محسوس ہوا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہ کوئی بزرگ آدمی ہوگا یا پھر اسے پرانی زبان کا بہت شوق ہوگا۔
بات چیت آگے بڑھی۔ اس شخص نے بتایا کہ اس کی بیٹی کے نکاح کی تقریب آنے والی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ نورہ اپنے پورے گروپ کے ساتھ آ کر پرفارمنس دے۔ نورہ نے اپنا شیڈول دیکھا۔ خوش قسمتی سے جن تاریخوں کا ذکر ہو رہا تھا، وہ نورہ کے پاس فارغ تھیں۔ اس نے ہامی بھر دی۔
اب بات پیسوں کی ہوئی۔ جو رقم اس شخص نے پیش کی، وہ سن کر نورہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس نے اب تک جتنی بھی شادیوں میں گایا تھا، ان سب میں جو ملا تھا، یہ اس سے دس گنا زیادہ تھا۔ نورہ نے سوچا کہ ضرور کوئی بہت بڑا امیر آدمی ہوگا۔ اس نے فوری طور پر منظوری دے دی۔
اب اس آدمی نے جگہ کا ایڈریس بھیجا۔ یہ جو جگہ تھی ، وہ شہر سے کافی دور واقع تھی ا۔ تقریباً بیس سے تیس کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ اس شخص نے ہدایت کی کہ جہاں شہر ختم ہوتا ہے، وہاں ایک واٹر ٹاور کھڑا ہے۔ آپ وہاں پہنچ جائیں، میرا نوکر آپ کو لینے آ جائے گا اور پھر آپ کو صحیح جگہ پہنچا دے گا۔
نورہ نے بھی سوچا کہ ٹھیک ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ دو دن کے اندر اندر ایک لفافہ اس کے گھر پہنچا جس میں پوری رقم موجود تھی۔ یعنی سارے پیسے پہلے سے ہی مل گئے تھے۔
اب اگلے دو سے تین ہفتے نورہ اور اس کی ٹیم نے خوب محنت کی۔ گانے تیار کیے۔ کچھ کلاسیکی نغمے، کچھ روایتی گیت اور کچھ وہ گانے جو اس وقت بہت مقبول تھے۔ شادیوں میں جانے سے پہلے وہ ہمیشہ ایسی تیاری کرتے تھے۔
اب میں آپ کو نورہ کی ٹیم کے بارے میں بھی بتا دیتا ہوں۔ اس میں لیلیٰ شامل تھی جو عود بجانے میں ماہر تھی۔ پھر مریم تھی جو ڈھول پر دھمال مچاتی تھی۔ فاطمہ اور سارہ بیک اپ میں گانا گاتی تھیں۔ اور اسلم تھا جو تمام سامان اور آلات کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ یہ سب لوگ سات برسوں سے ایک ساتھ کام کر رہے تھے اور ان کی ٹیم کی بونڈنگ بہت اچھی تھی۔
آخر کار وہ دن آ گیا۔ یہ سارے لوگ اپنے سامان کے ساتھ اس واٹر ٹاور کی طرف روانہ ہوئے جو شہر کے آخری کنارے پر تھا۔ وہاں پہنچے تو دو گاڑیاں کھڑی ملیں۔ سب لوگ اپنے اپنے سامان سمیت ان گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔
گاڑیاں چلنا شروع ہوئیں اور صحرا کے اندر داخل ہو گئیں۔ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے، شہر کی روشنیاں پیچھے دھندلاتی گئیں۔ اب چاروں طرف صرف ریت اور آسمان نظر آ رہا تھا۔ رات کا وقت تھا اور چاند کی ہلکی سی روشنی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ سامنے اور پیچھے کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ صرف ایک گاڑی دوسری گاڑی کو دیکھ سکتی تھی۔
تقریباً ایک گھنٹہ گزر گیا۔ پھر سامنے ایک آدمی نظر آیا جو روایتی عربی لباس پہنے ہوئے تھا۔ اس نے انہیں دیکھا اور آنے کا اشارہ کیا۔ پھر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر آگے آگے چلنے لگا۔ نورہ اور باقی سب کی گاڑیاں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگیں۔
مزید آدھا گھنٹہ گزرا۔ پھر ان کے سامنے ایک بہت بڑی اور شاندار حویلی نمودار ہوئی۔ اتنی بڑی حویلی نورہ نے کویت میں کبھی نہیں دیکھی تھی۔ یہ دوگنی تگنی بڑی تھی۔ پوری طرح سے روشنیوں سے جگمگا رہی تھی اور سجاوٹ بھی لاجواب تھی۔
نورہ اور اس کے ساتھی بہت حیران ہوئے۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ شہر سے اتنے دور، صحرا کے بیچوں بیچ اتنی خوبصورت اور بڑی حویلی کیسے ہو سکتی ہے۔
سب گاڑیوں سے اترے اور حویلی کو دیکھتے رہ گئے۔ نورہ نے سوچا کہ چلو ڈرائیور کو شکریہ تو کہہ دوں۔ وہ پیچھے مڑی لیکن حیرت سے دیکھا کہ کوئی گاڑی وہاں نہیں تھی۔ نہ وہ تین گاڑیاں، نہ کوئی ڈرائیور۔ بس خالی صحرا۔
نورہ کو بڑا عجیب لگا۔ ابھی تو یہاں تھیں، یہ سب کہاں چلی گئیں؟ صحرا کے بیچ میں تو کوئی سڑک بھی نہیں کہ اتنی جلدی غائب ہو جائیں۔
اسی حیرانی میں حویلی کے دروازے سے ایک خاتون باہر آئی۔ اس نے بہت پرانے انداز کا روایتی لباس پہنا ہوا تھا۔ ایسا لباس جو اب تو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس نے نورہ اور اس کی ٹیم کا استقبال کیا اور کہا کہ چلیں، میں آپ کو اندر لے چلتی ہوں جہاں آپ نے گانا ہے۔
سب اندر داخل ہوئے۔ حویلی کے اندر کا منظر بھی حیرت انگیز تھا۔ بالکل کسی محل کی طرح تھی اور سب کچھ پرانے زمانے کے طرز پر سجایا گیا تھا۔ جیسے کسی نے جان بوجھ کر قدیم تھیم رکھی ہو۔
جیسے ہی یہ لوگ اندر داخل ہوئے، انہیں ایک بہت تیز اور شدید خوشبو محسوس ہوئی۔ اتنی تیز کہ سر چکرانے لگا۔ سب کو سر میں درد ہونے لگا۔ جب کوئی بھی عطر یا خوشبو بہت زیادہ مقدار میں ہو تو وہ پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہی حال یہاں تھا۔
آخر کار وہ اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں انہیں پرفارمنس کرنی تھی۔ یہ حویلی کے درمیانی حصے میں تھا اور اوپر کوئی چھت نہیں تھی۔ آسمان صاف نظر آ رہا تھا، تارے چمک رہے تھے اور چاند بھی دکھائی دے رہا تھا۔
اس خاتون نے انہیں اسٹیج دکھایا اور بتایا کہ دلہن آدھی رات کو آئے گی، لہٰذا آپ ساڑھے دس بجے کے بعد سے ہی اپنی تیاری شروع کر دیں۔ یہ کہہ کر وہ عورت چلی گئی۔ کسی کو موقع ہی نہیں ملا کہ کچھ پوچھ سکے۔
اب نورہ اور اس کے ساتھیوں نے سیٹ اپ کرنا شروع کیا۔ سامان لگایا، آلات کی جانچ کی اور پھر اپنے کپڑے بدلے۔ ان کی پرفارمنس کے لیے خاص لباس تھا – سرخ رنگ کے کپڑے اور چہرے پر کالے رنگ کا حجاب۔
تقریباً دس بجے کے قریب انہوں نے ساؤنڈ چیک کیا۔ لیکن جو ہوا وہ تھوڑا عجیب تھا۔ نورہ کی آواز میں بہت زیادہ گونج پیدا ہو رہی تھی۔ ایکو آ رہا تھا۔ اتنا بڑا صحن، اتنی کھلی جگہ، لیکن پھر بھی آواز اس طرح گونج رہی تھی۔ نورہ نے سوچا شاید کوئی ٹیکنیکل مسئلہ ہو۔ زیادہ توجہ نہیں دی۔
ساڑھے دس بج گئے۔ اب مہمان آنا شروع ہوئے۔ لیکن ان کا آنے کا انداز بہت عجیب تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی جادو ہو۔ ایک سیکنڈ پہلے جگہ بالکل خالی تھی، اگلے ہی لمحے لوگوں سے بھر گئی۔ کسی کو آتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اچانک سے وہاں ظاہر ہو گئے ہوں۔
سب کے کپڑے بھی ایک جیسے تھے۔ خواتین روایتی لباس میں تھیں اور مرد سفید دشداشہ پہنے ہوئے تھے۔ ان کا داخل ہونے کا طریقہ سب سے زیادہ حیران کن تھا۔ کوئی دروازے سے نکل آیا، کوئی کسی پردے کے پیچھے سے اچانک نمودار ہو گیا۔
یہ سب کیا ہو رہا تھا؟ کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ لیکن ماحول میں یقیناً کچھ بہت عجیب تھا۔
بیس منٹ میں ہی پورا آنگن بھر گیا۔ تقریباً تین سو یا اس سے بھی زیادہ لوگ وہاں جمع تھے۔ نورہ نے بہت بڑے اجتماعات میں بھی پرفارم کیا تھا، اس لیے اسے کوئی خاص گھبراہٹ نہیں ہوئی۔ اس نے اپنی ٹیم کو اشارہ کیا اور ایک روایتی خوش آمدیدی گیت سے آغاز کیا۔
مہمانوں کو یہ گانا بہت پسند آیا۔ وہ اچانک سے ناچنے لگے، شور مچانے لگے۔ جو ہجوم ابھی خاموش کھڑا تھا، وہ بہت زیادہ توانائی کے ساتھ ناچنے لگا۔
لیکن کچھ تو تھا جو معمول کا نہیں تھا۔ نورہ کو شروع میں صاف طور پر سمجھ نہیں آیا۔ اسے محسوس تو ہو رہا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے، لیکن بالکل کیا ہے، یہ پتا نہیں چل رہا تھا۔
آہستہ آہستہ نورہ نے غور کرنا شروع کیا۔ یہ لوگ جس توانائی سے ناچ رہے تھے، وہ معمول کی نہیں تھی۔ ان کی جسمانی حرکتیں بہت عجیب تھیں۔ بہت ہی غیر فطری طریقے سے ہل رہے تھے۔
اور پھر سب سے ڈراؤنی بات – یہ سب ایک ساتھ، ایک ہی طریقے سے، بالکل ہم آہنگی کے ساتھ ناچ رہے تھے۔ یعنی اگر ایک شخص کوئی حرکت کر رہا ہے تو پیچھے کھڑے پچاس ساٹھ لوگ بھی بالکل وہی کر رہے ہیں۔ کسی کی گردن بہت زیادہ مڑ رہی ہے، کسی کے ہاتھ بہت عجیب طریقے سے حرکت کر رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کو کسی نے ریموٹ سے کنٹرول کر رکھا ہو۔
ساڑھے گیارہ بج گئے۔ اب یہ عجیب حرکتیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ یہ لوگ جس طرح حرکت کر رہے تھے، وہ انسانی نہیں لگ رہا تھا۔ ان کے سر اس طرح مڑ رہے تھے جو غیر فطری تھا۔
وہ بغیر رکے، بغیر سانس لیے، بغیر آپس میں بات کیے – بس لگاتار ناچے جا رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے انہیں ہپنوٹائز کر دیا گیا ہو۔ جیسے کوئی رسم ادا کی جا رہی ہو۔ ایک ایسا نمونہ جو بار بار دہرایا جا رہا تھا۔
کچھ مہمان اسٹیج کے قریب آئے۔ مبارکباد دینے اور ٹپ دینے کے لیے، جو شادیوں میں عام ہوتا ہے۔ ایک عورت نورہ کے پاس آئی اور اس کے ہاتھ میں کچھ پیسے رکھے۔
لیکن جب نورہ کا ہاتھ اس عورت کے ہاتھ سے ٹچ ہوا تو نورہ کی سانس رک گئی۔ اس عورت کے ہاتھ اتنے گرم تھے اتنی حرارت کہ نورہ کو لگا جیسے وہ جل جائے گی۔
نورہ نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ لیکن جب اس نے بغل میں دیکھا تو اس کی بیک اپ سنگر کا چہرہ بالکل سفید پڑ چکا تھا۔ وہ خوف سے جم کر رہ گئی تھی۔ اس کی آنکھیں بڑی ہو چکی تھیں، منہ کھلا تھا اور ہاتھ کانپ رہے تھے جس میں مائیک تھا۔
نورہ سمجھ گئی کہ یہ صرف وہی محسوس نہیں کر رہی۔ اس کے ساتھیوں کو بھی یہ عجیب فضا محسوس ہو رہی ہے۔ نورہ نے اپنی بیک اپ سنگر کو آہستہ سے کہا کہ کوئی ری ایکشن مت دو، بس گانا جاری رکھو۔
یہ سب لوگ پرفارم کرتے رہے۔ رات لمبی ہوتی جا رہی تھی۔ آدھی رات ہو چکی تھی۔ یہ لوگ ابھی بھی ناچ رہے تھے۔ نورہ اور اس کی ٹیم گاتی رہی۔ لیکن دلہن کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ صرف یہ لوگ بس ناچتے جا رہے تھے۔
آدھی رات کے بعد بھی لوگ ویسے ہی ناچ رہے تھے۔ عام لوگ اتنا وقت نہیں ناچ سکتے۔ تھک جاتے ہیں، بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ تو مزید تیزی سے اور زیادہ ہم آہنگی کے ساتھ ناچ رہے تھے۔
نورہ کا گلا اب تک جل چکا تھا۔ کوئی بھی انسان اگر تین چار پانچ گھنٹے مسلسل گاتا جائے تو اس کا گلا خراب ہو جائے گا۔ نورہ کی بھی یہی حالت تھی۔ لیکن وہ رکی نہیں۔ بس گاتی رہی۔
مریم مشین کی طرح ڈھول بجائے جا رہی تھی۔
اس کے بازو ایسے لوپ میں چل رہے تھے جیسے کوئی روبوٹ ہو۔
کوئی بیٹ مس نہیں ہو رہی تھی، مگر اس کا جبڑا اتنا کس چکا تھا کہ لگ رہا تھا کہ کسی بھی لمحے ٹوٹ پڑے گا۔
پھر آدھی رات کے تھوڑا بعد – نورہ کو بالکل ٹھیک سے یاد نہیں کب – سب کچھ بدل گیا۔
نورہ گا رہی تھی، سب پرفارم کر رہے تھے، تبھی اچانک ہر طرف دھواں سا چھا گیا۔ نورہ نے سوچا شاید کہیں پٹاخے چلائے جا رہے ہیں یا آتش بازی ہو رہی ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے۔
لیکن جب دھواں ہٹا تو نورہ نے جو دیکھا، اس سے اس کے ہوش اڑ گئے۔
ان مہمانوں کی ٹانگیں اب انسانی نہیں رہی تھیں۔
نیچے سے وہ بالکل الگ تھیں – کھروں جیسی، کالی، خشک اور سخت۔ بالکل بکری یا بھیڑ کے پاؤں کی طرح۔
اور انہی کھروں پر یہ لوگ جنگلی انداز میں ناچ رہے تھے۔
جب وہ ہاتھ اٹھاتے تو ان کی انگلیاں غیر فطری طور پر لمبی ہو جاتیں۔ بہت لمبی انگلیاں اور ان پر بہت تیز ناخن جو سینگوں جیسے لگ رہے تھے۔
اور سب سے زیادہ خوفناک بات – ان کے چہرے ابھی بھی انسانوں جیسے تھے۔ انسانی چہرے، انسانی مسکراہٹ، انسانی آنکھیں۔ لیکن جسم آہستہ آہستہ کسی اور چیز میں تبدیل ہو رہا تھا۔
سارہ کی آواز اسی لمحے ٹوٹ گئی۔
یہ سب دیکھ کر وہ گانا تو دور کی بات، سانس بھی روک کر کھڑی رہ گئی۔
وہ بس وہیں جم کر کھڑی ہو گئی – منہ کھلا، آنکھوں میں خالص دہشت بھری ہوئی۔
ساؤنڈ بورڈ پر حسن کا چہرہ بھی سفید ہو چکا تھا۔ لگ رہا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے بے ہوش ہو جائے گا۔
اب صرف نورہ، لیلیٰ، مریم اور فاطمہ ہی پرفارم کر رہی تھیں۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ ان کے جسم کو عادت پڑ چکی تھی۔ دماغ تو خوف سے خالی ہو چکا تھا لیکن جسم ابھی بھی روٹین فالو کر رہا تھا۔
اب وہاں مہمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی تھی۔ نیچے جو لوگ تھے، انہیں کوئی پرواہ نہیں تھی کہ اوپر اسٹیج پر لوگ تھک چکے ہیں یا ڈر رہے ہیں۔ وہ تو اور تیزی سے ناچنے لگے۔ ان کی حرکتیں اور بھی واضح طور پر غیر انسانی ہو رہی تھیں۔
نورہ گاتی رہی۔ اس کی آواز بیٹھنے لگی۔ آنسو اس کے چہرے پر بہنے لگے جو اس کے میک اپ کو خراب کر رہے تھے۔ باقی سب بھی کسی طرح آلات بجاتے رہے۔ جیسے ان کی ہمت صرف ایک باریک دھاگے سے لٹک رہی ہو۔
وقت کا کوئی احساس باقی نہیں رہا تھا۔ ہر گانا گھنٹوں لمبا محسوس ہوتا۔ نورہ کی دنیا بس یہی تھی – اگلی سانس، اگلا لمحہ۔ بس یہی کہ وہ بے ہوش نہ ہو جائے یا چیخ نہ مارے۔
پھر رات کے تین بجے – گھڑی سے پتا چلا – اچانک حویلی کی ساری لائٹس ایک ساتھ بجھ گئیں۔ مکمل اندھیرا چھا گیا۔ اتنا اندھیرا کہ اپنا ہاتھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
وہاں کوئی سڑک کی بتی نہیں تھی، کوئی روشنی نہیں تھی۔ چاند کی روشنی بھی بہت کم تھی۔ نورہ کو اپنا ہاتھ اپنے چہرے کے سامنے بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
گانا نہیں رکا۔ بس اچانک ختم ہو گیا۔ مکمل خاموشی چھا گئی۔ جو لوگ ناچ رہے تھے، ان کی سانسوں کی آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔ نہ کوئی بولنے کی آواز۔
صرف کپڑوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔ جب کوئی حرکت کرتا تو کپڑے کی آواز آتی۔ بس وہی آواز پورے اندھیرے میں گونج رہی تھی۔
“یلا یلا!” لیلیٰ کی آواز خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی۔ “یلا یلا” یعنی چلو، جلدی کرو۔ یہ تب کہا جاتا ہے جب فوری طور پر کہیں سے نکلنا ہو۔
یہ سنتے ہی سب بھاگنے لگے۔
انہوں نے ساری چیزیں وہیں چھوڑ دیں۔ ساؤنڈ سسٹم، آلات، سب کچھ۔ بس اندھیرے میں بھاگنے لگے۔
نورہ کی ایڑی قالین میں پھنس گئی۔ اس نے اپنے جوتے اتار پھینکے اور ننگے پاؤں بھاگنے لگی۔
یہ محل اتنا بڑا تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں، پھر تیسرے میں۔ اتنے سارے کمرے تھے جن کا کوئی مطلب نہیں تھا۔
لیکن یہ رکے نہیں۔ بس بھاگتے رہے۔
آخر کار یہ حویلی سے باہر نکل آئے۔ وہ صحرا جو پہلے خوفناک لگ رہا تھا، اب آزادی کی علامت تھا۔ کھلی جگہ، تاروں بھرا آسمان اور دور کویت شہر کی روشنیاں جو گھر کی سمت بتا رہی تھیں۔
یہ کانپتے ہوئے اپنی گاڑیوں کی تلاش میں بھاگے۔ اور حیرت کی بات کہ وہی دو گاڑیاں وہاں کھڑی تھیں جن میں یہ آئے تھے۔ ڈرائیور بھی موجود تھے۔
سب فوری طور پر گاڑیوں میں بیٹھے۔ ڈرائیور کو کہا کہ جلدی واٹر ٹاور تک لے چلو۔ ڈرائیور نے گاڑیاں چلائیں اور انہیں واپس لے گئے۔
جب نورہ اور اس کے ساتھیوں کو شہر کی روشنیاں اور لوگ نظر آنے لگے تو انہیں تسلی ہوئی کہ کم از کم شہر میں تو آ گئے۔
شہر میں داخل ہونے تک انہوں نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ ایک دم بھی نہیں رکے۔
جب شہر کے بیرونی حصے میں ایک پٹرول پمپ پر پہنچے تو وہاں تھوڑا رکے۔ اب تک سورج نکل آیا تھا اور روشنی تھی جس نے انہیں تھوڑی ہمت دی۔
نورہ اور اس کے ساتھی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ سب بہت تھکے ہوئے، بہت خوف زدہ تھے۔ سب کی آنکھوں میں خوف صاف نظر آ رہا تھا۔ جیسے انہوں نے موت کو دیکھا ہو۔
اور ان میں سے کوئی بھی اس بارے میں بات نہیں کر رہا تھا کہ وہاں کیا ہوا۔ سب خاموش تھے۔
اگلے دن نورہ پولیس اسٹیشن گئی۔ اس نے پوری رپورٹ دی کہ کیسے اسے بلایا گیا، وہاں کیا ہوا، کتنے لوگ تھے۔ پولیس نے غور سے سنا۔
نورہ نے وہ مقام بھی بتایا جہاں حویلی تھی۔
ایک پولیس افسر نورہ کے ساتھ وہاں گیا۔ واٹر ٹاور تو موجود تھا لیکن جب آگے صحرا میں گئے تو وہاں کوئی حویلی نہیں تھی۔ کچھ بھی نہیں تھا۔
ریت میں گاڑیوں کے نشانات تو تھے لیکن جہاں حویلی ہونی چاہیے تھی، وہاں کچھ نہیں تھا۔
پولیس افسر نے نورہ سے کہا کہ شاید کسی نے آپ کے ساتھ مذاق کیا ہو یا پھر آپ تھکاوٹ کی وجہ سے کنفیوز ہو گئی ہوں۔
نورہ کو واضح طور پر معلوم تھا کہ نہیں، یہ کوئی مذاق یا تھکاوٹ نہیں تھی۔ کل رات جو ہوا، وہ بالکل حقیقت تھا۔ اور اسے صرف نورہ نے نہیں، اس کی پوری ٹیم نے دیکھا تھا۔
لیکن جب سامنے کچھ نہیں ہے تو ثبوت کیا دیا جائے؟ نورہ نے پولیس افسر سے واپس جانے کو کہا۔
نورہ گھر آ گئی۔ اگلے دن وہ لائبریری گئی۔ تحقیق کرنے کے لیے۔ کئی کتابوں اور مضامین کے بعد اسے ایک مضمون ملا جس میں لکھا تھا کہ ہاں، اس صحرا میں ایک حویلی تھی۔ ایک بڑا محل سا۔ لیکن 1987 میں آخری بار استعمال ہوا۔ پھر وہ ویران ہو گیا اور بعد میں مسمار کر دیا گیا۔
نورہ نے اگلے کچھ ہفتوں تک اس شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جس نے اسے ہائر کیا تھا۔ بار بار کال کی۔ لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
جس کورئیر کمپنی نے پیسے بھیجے تھے، ان کے پاس بھی کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ جیسے یہ سب کبھی ہوا ہی نہیں۔
نورہ نے اس واقعے کے بعد کبھی کسی شادی میں پرفارم نہیں کیا۔ بلکہ اس نے گانا ہی چھوڑ دیا۔ وہ پینتیس سال کی تھی اور اپنے کیریئر کے عروج پر۔
لوگ پوچھتے کہ تم کیوں نہیں گا رہی ہو؟ تو وہ بہانے بنا دیتی۔ کبھی کہتی کہ گھر کو وقت دینا ہے، کبھی کہتی کہ بہت مصروف ہیں۔
جو لوگ اسے قریب سے جانتے تھے، وہ سمجھ گئے تھے کہ کچھ ضرور ہوا ہے۔ ورنہ گانا چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
یہ کہانی آخر میں پھیل ہی گئی۔ کویت ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ لوگ باتیں کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ قصہ ہر طرف پھیل گیا۔
ہر بار اسے بڑھا چڑھا کر بیان کیا جانے لگا۔ کچھ نے کہا نورہ کو بھوت دکھے۔ کچھ نے کہا وہ توجہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بول رہی ہے۔
لیکن جو نورہ کو جانتے تھے، وہ جانتے تھے کہ اسے توجہ کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ پہلے ہی بہت مشہور تھی۔ تو پھر جھوٹ کیوں بولتی؟
یہی ہے نورہ کی کہانی۔ یہ کہانی کویت میں بہت مشہور ہے اور اب پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
تو آپ کیا سوچتے ہیں؟ نورہ کی یہ کہانی سچی تھی یا پھر واقعی اس نے توجہ کے لیے جھوٹ بولا تھا؟
آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
