Beautiful She Male خواجہ سرا

سچی کہانیاں ،اپ بیتی داستانیں

حقیقت اورا فسانہ

مکمل ناول

views
0
urdu bold novel

مکمل ناول

یہ کہانی ایک خواجہ سرا کی ہے جو میرے گھر اکثر آتے رہتے ہیں اور مجھے بہت عزیز ہیں یہ اپنے علاقے کے “گرو” ہیں ساٹھ سال کے قریب پہنچ چکے ہیں

کچھ عرصے سے آپ کی طبیعت بہت خراب ہے آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے تو لیجیے پڑھیے ان کی آپ بیتی ان کی زبانی..

میں اپنے والدین کی پہلی اولاد ہوں جب پیدا ہوا تو والدین بڑے خوش ہوئے جمشید نام رکھا.. میں گورا چٹا خوبصورت تھا جسے دیکھتے ہی ہر کوئی پیار کرتا..

علاقے کے خواجہ سرا میری پیدائش کے ایک ہفتے بعد گھر آئے تو میری ماں نے انہیں ایک جوڑا سوٹ کا اور پچاس روپے دیے اس وقت پچاس روپے کی بڑی اہمیت تھی.. خواجہ سرا نے مجھے دیکھ کر میری ماں کو میری حقیقت بتادی.. اس کے بعد مجھے اپنے باپ سے پہلے والی پیار کی خوشبو محسوس نہیں ہوئی-

البتہ ماں کی پہلے والی خوشبو برقرار رہی.. جب میں پانچ سال کا ہوا تو اماں نے ابا کے منع کرنے کے باوجود مجھے اسکول میں داخل کرادیا..

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ میری چال اور بولنے کا انداز زنانہ سا ہونے لگا.. پانچ کلاس تو جیسے تیسے کرکے پاس کرلیں لیکن جب چھٹی میں پہنچا تو بچے مجھےکھسرا کہہ کر چھیڑنے لگے.. مجھے یاد ہے میں پہلی بار جب اماں سے جب یہ پوچھا کہ.. اماں یہ کھسرا کیا ہوتا ہے؟؛؛.. تو اماں نے مجھے اپنی بانہوں میں دبوچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں انہیں روتا دیکھ کر میں بھی رو پڑا اور سمجھ گیا کہ یہ کھسرا اچھا لفظ نہیں.. ابا مجھ سے بالکل بھی بات نہیں کرتے تھے..

حالانکہ میں ابا سے بہت محبت کرتا تھا ایک دن میں نے ابا سے پوچھ ہی لیا.. ابا سب دوستوں کے ابا انہیں پیار کرتے ہیں لیکن آپ مجھے پیار نہیں کرتے..

تو ابا غصے سے یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے.. وہ اپنے بیٹے کو پیار کرتے ہیں اور تو بیٹا نہیں بلکہ کھسرا ہے.. ابا کی یہ بات سن کر مجھے بہت رونا آیا اور اماں کے گلے لگ کر کافی دیر تک روتا رہا.. میں بارہ سال کا ہوچکا تھا میرے سے چھوٹے دو بھائی اور تین بہنیں تھیں ابا کو ان سب سے پیار کرتا دیکھتا تو بڑا دکھی ہوتا..ساتویں کلاس میں گیا تو لڑکوں نے میرا جینا حرام کردیا ٹیچرز سے شکایت کرتا تو وہ بھی ہنسنے لگتے آخرکار اماں نے مجبور ہوکر مجھے اسکول سے ہٹادیا.. بہن بھائی بھی مجھ سے کھنچے کھنچے رہتے

ایک دن میں گھر کا سودا لینے گیا خواجہ سرا راستے میں مل گیا اور مجھے بڑے پیار سے ایک طرف

لےگیا اس میں مجھے ایک کشش سی محسوس ہوئی اپنا اپنا سا لگا کہنے لگا.. بیٹا تم ان لوگوں کے ساتھ کبھی بھی نہیں رہ سکتے یہ تمہیں جینے نہیں دیں گے..

میرے دروازے ہمیشہ تمہارے لیے کھلے ہیں.. اس کی بات سن کر میں گھر آگیا اور اماں کو بتایا اماں یہ سن کر تڑپ اٹھیں اور مجھے اسی وقت ساتھ لیکر خواجہ سرا کے گھر گئیں اسے خوب سنائیں.. جب تک میں زندہ ہوں اسے مجھ سے کوئی طاقت جدا نہیں کرسکتی اور خبردار جو آج کے بعد کبھی میرے بیٹے سے ملنے کی کوشش کی.. خواجہ سرا خاموشی سے اماں کی سنتا رہا دس منٹ بعد جب اماں تھک گئیں اور رونے لگیں تو اس نے پانی کا گلاس اماں کو لاکر دیا اماں کے پانی پینے کے بعد خواجہ سرا کہنے لگا.. بہن مجھے معلوم ہے کہ آپ کو بہت دکھ ہوا ہوگا لیکن یہ ظالم دنیا والے اسے اپنی دنیا میں کبھی شامل نہیں کریں گے اس نے لوٹ کر آخر میں ہمارے پاس ہی آنا ہے کیونکہ آپ بھی جانتی ہیں کہ اسے ہمارے علاوہ اور محبت نہیں دے سکتا.. جب بھی آپ محسوس کریں کہ آپ اپنے بچے کو اس ظالم سماج سے محفوظ نہیں رکھ سکتیں تو اسے ہمارے حوالے کردینا کم از کم یہاں محفوظ تو رہے گا اور اسے محبت تو ملے گی.. اس کی بات سن کر اماں مجھے گھر لے آئیں.. چھ ماہ بعد آخر وہ وقت بھی آگیا جب اماں بھی مجبور ہوگئیں..

میرے سب سے چھوٹے بھائی کا عقیقہ تھا..پورے خاندان والے اور ابا کے آفس کے دوست موجود تھے..گھر کے سامنے شامیانہ لگایا گیا تھا.. اس وقت ٹیبل کرسیاں نہیں رکھی جاتی تھیں نیچے دری بچھائی جاتی تھی اور کھانا دری میں بیٹھ کر ہی کھایا جاتا تھا.. مستورات کا الگ اور مردوں کا الگ شامیانہ تھا کھانے میں کچھ دیر تھی میں لوگوں کو پانی پلارہا تھا خاندان کے کزنز مجھے کھسرا کھسرا کہہ کر پکار رہے تھے اور مجھ پر ہنس رہے تھے..

میں آنسو دل میں دبائے خاموشی سے انہیں پانی پلانے میں مصروف تھا.. ابا کے چند دوست ایک طرف بیٹھے بڑی دلچسپی سے مجھے دیکھ کر مسکرارہے تھے..

کھانے کے بعد ان میں سے ایک نے مجھے بلایا اور اپنے پاس بٹھالیا اور میری کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا مجھے اس کا یوں ہاتھ پھیرنا ناگوار گذرا.. ابا کو اپنی طرف آتے دیکھ کر میں ابا کہتے ہوئے ان کی طرف بھاگتا ہوا گیا میرے منہ سے ابا سن کر وہ لوگ جھینپ سے گئے اور ابا سے کہنے لگے.. یار فرید ہمیں نہیں معلوم تھا

کہ یہ تمہارا بیٹا ہے ہم تو اسے کھسرا سمجھ کر اس سے تفریح لےرہے تھے..ابا اس کی یہ بات سن کر شرمندہ ہوگئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے اندر لے جاکر اسٹور میں بند کردیا مہمانوں کے جانے کے بعد مجھے ابا نے اسٹور سے نکالا اور سب کے سامنے مجھے مارنا شروع کردیا اماں مجھے بچانے کے لیے آگے بڑھیں

تو انہیں بھی دھکا دیکر گرادیا.. خبردار اب بہت ہوگئی یہ کھسرا اب یہاں نہیں رہے گا اور اگر اب تم نے اس کھسرے کی حمایت کی تو میں گھر چھوڑ کر نکل جاؤں گا میں اس کی وجہ سے بہت ذلیل ہوچکا اب مزید ذلیل ہونے کی ہمت نہیں اسے آج ہی اس کی اصل جگہ چھوڑ کر آؤ پندرہ منٹ تک ابا مجھے مارتے رہے اور اماں کو سناتے رہے میری آنکھوں سے آنسو نکلنا بند ہوگئے تھے میں اسی وقت ایک دم سے بڑا ہوگیا تھا اپنی حیثیت اپنی اوقات مجھے آج صحیح معنوں میں معلوم ہوگئی میرا دل شدت غم سے پھٹا جارہا تھا میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اسی وقت زمین میں زندہ دفن ہوجاؤں..

جب ابا مارتے مارتے تھک گئے تو یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے..میں ایک گھنٹے بعد گھر آؤں گا اور اس منحوس کی شکل دکھی تو پھر میرا منہ تم کبھی نہیں دیکھوگی.. ابا کے جانے کے بعد میں خاموشی سے کھڑا ہوا اور الماری سے اپنے کپڑے نکال کر اٹیچی کیس میں رکھنے لگا اور اٹیچی کیس لیکر اماں کے پاس آگیا.. اماں مجھے میری اصل جگہ چھوڑ کر آجاؤ.. اماں جو رورہی تھیں چیخ مار کر مجھ سے لپٹ گئیں اور دھاڑیں مارکر رونے لگیں لیکن میں اب نہیں رورہا تھا بس اماں کے آنسو ختم ہونے کا انتظار کررہا تھا اماں کے آنسو ختم ہوئے تو میں اماں کے کمرے میں گیا اور اماں کا برقع لاکر اماں کو تھمادیا.. اماں نے مجھے دیکھا اور خاموشی سے برقع پہننا شروع کردیا.. پندرہ منٹ بعد اماں خواجہ سرا کے گھر موجود تھیں.. خواجہ سرا اماں کا چہرہ دیکھ کر سب سمجھ گیا اور بڑی عزت سے اماں کو بٹھایا اور چائے بناکر اماں کے سامنے چائے رکھ دی.. اماں کی آنکھوں سے دوبارہ آنسو نکلنا شروع ہوگئے خواجہ سرا کہنے لگا.. بہن جی اس دنیا میں صرف ایک واحد ماں ہی کی ہستی ہے جو ہم خواجہ سرا کو برداشت کرسکتی ہے اور کوئی نہیں

لیکن وہ بھی کچھ عرصے بعد مجبور ہوجاتی ہے آپ بےفکر ہوکر اسے ہمارے پاس چھوڑ جاؤ ہم آپ لوگوں کی خوشی کے موقع پر ناچ گاکر پیٹ پالتے ہیں

لیکن اپنی عزت نہیں بیچتے یہ ہمارے پاس محفوظ رہے گا اسے یہاں محبت اور اپنائیت ملے گی کوئی اس کا مذاق نہیں اڑائے گا آپ کا جب دل کرے اس سے مل سکتی ہیں یا اسے اپنے گھر بلا سکتی ہیں لیکن مجھے معلوم ہے کہ آپ کا شوہر کبھی اسے گھر بلانا پسند نہیں کرے گا.. اماں نے مجھے اپنے سے لپٹالیا میرے چہرے پر بوسوں کی بارش شروع کردی روتی جارہی تھیں اور بوسے لیتی جارہی تھیں میرے اندر آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا لیکن آنکھیں خشک تھیں..

کچھ دیر بعد اماں اپنے گھر چلی گئیں..وہاں چھ خواجہ سرا رہتے تھے میں ساتواں تھا اس خواجہ سرا نے میرا بستر اپنے ساتھ لگالیا اور سارے خواجہ سرا مجھ سے بڑی محبت سے باتیں کرنے لگے اپنے بارے میں بتانے لگے اور مجھ سے میری پسند کا کھانا پوچھ کر دو خواجہ سرا کھانا بنانے لگے آلو گوشت کھاکر یوں ہی باتیں کرتے کرتے سوگیا.. صرف تین دن میں میرا دل وہاں لگ گیا اور ہنسنے بولنے لگا میرے لیے لڑکی والے چار جوڑے بنائے گئے اور ایک ہفتے بعد مجھے دو خواجہ سرا اپنے ساتھ ایک گھر لے گئے جہاں بچے کی خوشی منائی جارہی تھی وہاں ایک نے ڈھول بجاتے ہوئے گانا اور دوسری نے ناچنا شروع کردیا کچھ دیر بعد دو سوٹ اور ڈیڑھ سو روپے ان لوگوں سے جمع کرکے ہم گھر آگئے اب اسی طرح مجھے ساتھ لےجاتے رہے اور مجھے آہستہ آہستہ اچھا لگنے لگا دو ماہ بعد میرے کہنے پر انہوں نے مجھے بھی ناچنا گانا سکھانا شروع کردیا مجھ سے سارے بڑی محبت کرتے تھے میری پسند کے کھانے بنائے جاتے میرے لیے ہر دوسرے روز مٹھائی لائی جاتی.. اماں شروع میں تو ہر دوسرے دن آتیں لیکن آہستہ آہستہ وقفہ لمبا ہونے لگا چار ماہ بعد اماں آئیں اور مجھے گلے لگاکر کہنے لگیں..

بیٹا ہم کل یہاں سے دوسری جگہ شفٹ ہورہے ہیں تیرے ابا نے مکان بیچ کر دوسرے علاقے میں مکان لےلیا ہے تو بیٹا اب میں تجھ سے ملنے دو تین ماہ بعد ہی آسکتی ہوں.. یہ کہہ کر اماں چلی گئیں..مجھے دکھ تو ہوا لیکن اب میرے اپنے میرے ساتھ تھے چند دن میں سب بھول کر دوبارہ اپنی زندگی میں مست ہوگیا..

دو سال اسی کھیلتے ناچ گانا سیکھتے گزرگئے.. اب میں ان سے بھی اچھا ناچنے لگا تھا گرو جی مجھے اپنے ساتھ لےجانے لگے میں ناچتا گروجی گاتے لوگوں کو میرا ناچ پسند آنے لگا اور زیادہ پیسے ملنے شروع ہوگئے اب لوگ مجھے خصوصی طور پر تقریب کے موقع پر بلانے آنے لگے.. میں سارے خواجہ سرا کا لاڈلا بن چکا تھا..میرا نام رانی جو کہ اس دور کی مشہور اداکارہ تھی رکھا جاچکا تھا..اب میں بیس سال کا خوبصورت خواجہ سرا تھا..

جس کی دھوم آس پاس کے علاقوں تک پہنچ چکی تھی.. ایک دن دو آدمی ہمارے گھر آئے اور انہوں نے گرو جی سے اپنے بچے کے عقیقے میں مجھے لانے کا کہا اور دو سو روپے گروجی کے ہاتھ میں رکھ دیے اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ میں دو دن بعد گاڑی بھیج دوں گا..

دو دن بعد ٹھیک وقت پر گاڑی آگئی اور گروجی مجھے اور دو خواجہ سرا کو ساتھ لیکر گاڑی میں بیٹھ گئے.. آدھے گھنٹے بعد گاڑی ایک بڑے شامیانے کے پاس رک گئی.. گھر شامیانے کے بعد تھا ہم گاڑی سے اترے میں نے جیسے ہی قدم آگے بڑھائے  ایک آدمی اور عورت کو دیکھ کر چونک پڑا وہ آدمی میرا باپ تھا.. جو بیساکھی پکڑے اماں کے ساتھ گھر سے نکل رہا تھا..

اپنے باپ کو اس بےبسی کی حالت میں دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا باپ کی ساری زیادتیاں ظلم سب بھول اس کے لیے تڑپ گیا.. پروگرام کے بعد جب گھر آیا تو گرو جی کو بتایا.. کہنے لگے.. بیٹا میں نے بھی دیکھا تھا تو ایسا کر کل گھر کا چکر لگالے لیکن برقع پہن کر جانا تاکہ تیرے گھر والوں کو شرمندگی نا ہو

یہ کہہ کر گروجی نے صندوق سے دو ہزار روپے جو کہ چالیس سال پہلے بہت بڑی رقم تھی میرے ہاتھ میں رکھ دیے.. یہ پیسے رکھ لے شاید اس کی ضرورت پڑجائے.. میں نے پیسے رکھ لیے اور اگلے دن دوپہر کو برقع پہن کر ابا کے گھر پہنچ گیا میں ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں ابا مجھے گھر میں قدم نا رکھنے دیں

لیکن گھر جاکر جب برقع اتارا تو ابا نے مجھے دیکھ کر اپنی نظریں نیچی کرلیں اماں مجھ سے لپٹ گئیں دونوں بہنوں اور تینوں بھائیوں کو جب اماں نے بتایا کہ میں ان کا سب سے بڑا بھائی ہوں تو وہ پیچھے ہٹ گئے.. میں ابا کے پاس بیٹھ گیا ابا کچھ دیر بعد رونے لگے.. بیٹا جمشید مجھے معاف کردے

میں نے تیرے پر بڑے ظلم کیے ہیں اور آج میں اسی کی سزا بھگت رہا ہوں یہ کہہ کر ابا نے مجھے سینے سے لگالیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے.. زندگی میں پہلی بار ابا نے مجھے پیار سے بیٹا کہا اور محبت سے سینے سے لگایا تھا میں بھی تڑپ اٹھا اور ابا کے ساتھ رونے لگا.. بس بیٹا اب تو میرے پاس ہی رہنا واپس مت جانا..

مجھ سے چھوٹا بھائی بھڑک اٹھا..ابا تم تو اپنی زندگی گزارچکے تمہیں اب عزت سے کیا لینا دینا یہ کھسرا ہمارے ساتھ نہیں رہے گا اور اگر تمہیں شوق ہے تو تم دونوں اس کھسرے کے ساتھ چلے جاؤ دوسرے بہن بھائی بھی اس کی تائید کرنے لگے..ان سب کی کڑوی کسیلی باتیں سن کر ابا  بیچارگی سے میری طرف دیکھنے لگے.. میں اپنے بہن بھائیوں سے بولا.. بےفکر رہو میں یہاں نہیں رہوں گا مجھے تم لوگوں کی عزت کا خیال ہے.. میری بات سن کر وہ کمرے سے چلے گئے..

میرے پوچھنے پر اماں بتانے لگیں..بس بیٹا تیرے ساتھ جو ظلم ہم نے کیا اس کی سزا ہمیں نافرمان اولادوں کی صورت میں تو ملی ہی ساتھ دو سال پہلے تیرے باپ کو ایکسیڈنٹ میں ٹانگ سے معذوری کی صورت میں بھی مل گئی.. جو پیسہ تھا کچھ علاج میں لگادیا باقی تینوں آوارہ نافرمان بیٹوں نے اڑادیے..

میں محلے والوں کے کپڑے سی کر گذارا کرتی ہوں.. میں نے دو ہزار روپے اماں کے ہاتھ پر رکھ دیے.. اماں یہ رکھ لو.. ابا نے منع کیا لیکن میں زبردستی اماں کو پیسے دیکر اپنے گھر آگیا..چار ماہ بعد جب ہم حسب معمول سارے خواجہ سرا عصر کی نماز پڑھ کر چائے پینے بیٹھے دروازے پر دستک ہوئی دیکھا تو چھوٹا بھائی دروازے پر کھڑا تھا.. اسے اندر بلایا اور چائے پلائی اور آنے کی غرض پوچھی کہنے لگا.. بھائی آپ کے جانے کے بعد جب مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے اماں کو دو ہزار روپے دیے ہیں تو مجھے بڑی شرم آئی میں چاہتا ہوں کہ میں کریانے کی دکان کھول لوں اور گھر والوں کا سہارا بن جاؤں لیکن اس کے لیے کم از کم پانچ ہزار روپے لازمی ہونے چاہئیں میں نے چار ہزار کا تو بندوبست کرلیا ہے بس مجھے ہزار روپے اور چاہیے اگر آپ مجھے دیدو تو میں کل ہی بسم اللہ کردیتا ہوں..

مجھے اس کی بات سن کر خوشی ہوئی.. گروجی میرا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لےگئے اور ہزار روپے مجھے دیکر بولے.. بیٹا پیسے تو مجھ سے تو لےلے لیکن اتنا بتادوں کہ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے یہ اپنے لیے تیرے پاس آیا ہے.. میں بولا.. گروجی کیا کروں آخر خون ہے اور پہلی بار اس نے مجھے بھائی کہا ہے میں اسے منع نہیں کرسکتا.. میں نے بھائی کو پیسے دیدیے وہ بڑا خوش ہوگیا اور مجھے گلے سے لگا کر رخصت ہوگیا..اور دو ماہ بعد جب میں ابا سے ملنے گیا تو گروجی کی بات سچ نکل گئی..واقعی چھوٹے بھائی نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا.. وقت گذرتا گیا بھائی ہر دوسرے مہینے آتے اور چار پانچ سو روپے لےجاتے..

ہر ماہ گھر جاتا اور ہزار روپے اماں کے ہاتھ پر رکھ آتا.. اور آفرین ہے گروجی پر.. انہوں نے کبھی مجھے نہیں روکا جو مانگتا ایک آواز میں مجھے دیدیتے..

چار سال بعد جب میں پیسے دینے ابا کے گھر گیا.. اندر سے ابا اماں کی جھگڑنے کی آوازیں آرہی تھیں اپنا نام سن کر میں دروازے پر ہی رک گیا اور کھڑا ہوکر سننے لگا..ابا اماں سے کہہ رہے تھے..اری او بدبخت پہلے میں جمشید پر ظلم کررہا تھا اور آج تو کررہی ہے باز آجا نہیں تو اس کی آہ ہم سب کو برباد کردے گی..

تجھے وہ ہزاروں روپے دے چکا ہے جو تو جمع کرتی رہتی ہے اور ان پیسوں سے نسیمہ حلیمہ دونوں کی شادی بڑے اچھے طریقے سے ہوسکتی ہے لیکن اب تو چاہتی ہے کہ دونوں کی شادی کا خرچہ بھی میرا جمشید برداشت کرے بس اب اس بیچارے پر رحم کردے.. ابا کی یہ بات سن کر میں چونک پڑا اور کان دروازے سے لگالیے.. اماں کی آواز آئی.. بڑی محبت جاگ رہی ہے اپنے کھسرے بیٹے کی میں تمہاری طرح بیوقوف نہیں جو اپنے جمشید کی کمائی ان کھسروں کو کھانے دوں..

اگلے سال دونوں لڑکیوں کی شادی ہے پورے پچاس ہزار کا خرچہ ہے اور یہ سارا خرچہ اسی کے متھے ڈالوں گی.. آخر ناچ گاکر ٹھیک ٹھاک کمالیتا ہے اور اس کی کمائی پر ہمارا ہی تو حق ہے.. آج کل جب بھی وہ آئے گا اس سے بات کروں گی اور خبردار جو تم بیچ میں بولے.. اماں کا یہ روپ دیکھ کر میں حیران ہوگیا..

دل میں ٹیس سی اٹھی میں فوراً الٹے قدموں واپس گھر چلاگیا اور گروجی کی گود میں سر رکھ کر رونے لگا دس سال بعد میں کھل کر رویا تھا..

گروجی نے مجھے رونے دیا اور میں روتے روتے گروجی کی گود میں سوگیا.. پورے دو گھنٹے بعد آنکھ کھلی تو گروجی مجھے ایسے ہی بیٹھے ملے میرا سر

ابھی تک ان کی گود میں تھا میں گروجی سے لپٹ گیا اور پوری بات انہیں بتادی..گروجی نے مجھے اور سب کو کمرے میں لےگئے صندوق کھولا اس میں سے سارے پیسے نکالے ٹوٹل اسی ہزار روپے تھے کہنے لگے.. بیٹا یہ پیسے ہم جمع ہی اسی لئے کرتے ہیں ورنہ ہمیں پیسوں سے کوئی محبت نہیں.. ہم سب کی بھی تیری ہی طرح دکھ بھری کہانی ہے.. پہلے میرے گرو نے میری اور دوسروں کی مدد کری اب میں کرتی ہوں یہ جو سب بیٹھی ہیں ان کی بھی میں اسی طرح مدد کرچکی ہوں..

اب تم نے آنے والوں کو اسی طرح سہارا دینا ہے..  گروجی نے پچاس ہزار مجھے دینے لگے میں نے لینے سے انکار کردیا.. نہیں گروجی اب میرا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں اب میرے سب کچھ آپ لوگ ہی ہو اب میں جو کروں گا اپنوں کے لیے کروں گا.. گروجی نے پیسے میرے ہاتھ میں رکھے اور مجھے سمجھانے لگے

کہ اب میں نے کیا کرنا ہے.. اگلے دن برقع پہن کر میں ابا کے گھر پیسے لےکر جارہا تھا..

اماں مجھے دیکھتے ہی کھل اٹھیں اور حال احوال پوچھنے کے بعد دونوں بہنوں کی شادی کا ذکر چھیڑ دیا..ابا نظریں نیچے کیے ہوئے تھے..اتفاق سے سارے بہن بھائی بھی موجود تھے..میں نے پچاس ہزار روپے نکالے اور اماں کے ہاتھ پر رکھ دیے.. اماں آپ سب مجھے صرف یہ بتادو کہ کھسرا میں خود بنا تھا یہ مجھے اللہ نے بنایا جو مجھے پیدا ہوتے ہی سزا دی جارہی ہے

آپ کی محبت کا ایک سہارا بچا تھا کل آپ کی ابا سے باتیں سن کر وہ بھی ختم ہوگیا اور اب میرا باپ ماں سب کچھ میرے گروجی اور خواجہ سرا ہیں یہ پیسے انہوں نے ہی مجھے آپ کو دینے بھیجا ہے ورنہ میں یہاں قدم رکھنا بھی نہیں چاہ رہا تھا اب میں یہاں دوبارہ کبھی نہیں آؤں گا.. یہ کہہ کر میں جانے کے لیے کھڑا ہوگیا اماں نظریں جھکائے شرمندہ بیٹھی رہیں کچھ نہیں بولیں میں واپس اپنے گھر آگیا.. اور اپنے آپ کو زیادہ مصروف کرلیا..

اب میرا سب کچھ میرے اپنے تھے ان کے لیے میں کچھ کرنا چاہتا تھا گروجی سے بات کرکے پروگرام کے معاملات اپنے ذمے لےلیے اور ریٹ بڑھادیے اب میں بہت زیادہ مصروف ہوگیا تھا گروجی کا صندوق پیسوں سے بھرنے لگا میری عمر تیس سال ہوچکی تھی اور آہستہ آہستہ میری مانگ کم ہونے لگی..

جس کا مجھے پہلے سے اندازہ تھا اور نئے شامل ہونے والے تین نوجوان خواجہ سراؤں کو میں تربیت دیکر تیار کرچکا تھا گروجی اب سارے معاملات میرے ہاتھ میں دیکر آرام کررہے تھے.. میں نے سب کو اعتماد میں لےکر ان جمع کیے سات لاکھ روپے سے محلے میں دو مکان خرید لیے.. اس وقت ایک سو بیس گز کا عام مکان مل جاتا تھا.. انہیں کرائے پر چڑھادیا..پھر ایک دن میرا بچپن میرے سامنے کھڑا ہوگیا.. ایک عورت ایک آٹھ سالہ بچے کو لیے گھر میں کھڑی رورہی تھی میں نے فوراً اسے گود میں اٹھایا اور چٹاچٹ بوسے لینے لگا اور اسے اپنی گود میں بٹھالیا.. عورت کے جانے کے بعد میں گروجی سے بولا..

گروجی میں چاہتا ہوں کہ یہ بچہ ہماری طرح ناچنے گانے والا نہیں بنے میں اسے پڑھا لکھا کر اس ظالم معاشرے کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ ہم بھی ان کی طرح معاشرے کا مفید حصہ بن سکتے ہیں.. گروجی اور سارے خواجہ سرا بہت خوش ہوئے بچے کا نام طیب تھا لیکن میں نے اس کا نام عبداللہ رکھا..

بڑی مشکل سے ایک ٹیچر کو بھاری فیس کے عوض ٹیوشن پڑھانے پر راضی کیا اور ایک خواجہ سرا جو قرآن پڑھا ہوا تھا اس نے عبداللہ کو قرآن پڑھانا بھی شروع کردیا.. عبداللہ اب ہم سب کی آنکھوں کا تارا بن چکا تھا.. اس کی ماں دو بار آئی لیکن پھر وہ بھی اپنی دوسری اولاد میں مست ہوگئی.. چار سال بعد ایک عبداللہ جب چھٹی کلاس میں تھا.. ٹیوشن پڑھنے گیا لیکن شام چھ بجے تک گھر نہیں آیا ہم سب پریشان ٹیچر سے معلوم کیا تو کہنے لگے کہ وہ آدھے گھنٹے پہلے ہی نکل چکا ہے.. اب ہم سب مزید پریشان ہوگئے اس کے گھر دیکھا پورا علاقہ چھان مارا لیکن عبداللہ کا کوئی اتہ پتہ نا چل سکا مجبوراً تھانے میں رپورٹ درج کرائی ایس ایچ او اچھا انسان تھا اس نے اسی وقت پولیس کی گاڑی عبداللہ کی تلاش میں بھیج دی.. ہم رات دس بجے تھک ہار کر گھر چلے گئے..

اگلا دن ہمارے لیے قیامت بن کر سامنے آیا جب عبداللہ کی لاش ہمارے گھر پہنچی پولیس نے بتایا کہ اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرکے اسے بڑی بیدردی سے قتل کردیا گیا ہے اور مجرم بھی گرفتار کرلیے گئے ہیں.. عبداللہ جو کہ میرا سب کچھ بن چکا تھا اسے اس حالت میں دیکھ کر میں زمین پر گرگیا اور بےہوش ہوگیا ہوش آنے کے بعد عبداللہ کے گھر والوں کو خبر دی لیکن وہاں سے کوئی بھی نہیں آیا.. عبداللہ کو دفنانے کے بعد مجھے مجرموں کا خیال آیا اسی وقت غصے سے کھولتا ہوا دو خواجہ سراؤں کے ساتھ تھانے پہنچا ایس ایچ او نے پولیس والے کو مجرموں کو لانے کا کہا پانچ منٹ بعد تین مجرم میرے سامنے کھڑے تھے

جن میں سے ایک کو دیکھ کر میرے دل میں زوردار سی ٹیس اٹھی اور گرگیا وہ میرا چھوٹا بھائی تھا ایس ایچ او فوراً مجھے جناح اسپتال دل کے وارڈ میں لےگیا مجھے دل کا خطرناک اٹیک پڑا تھا.. دو دن بعد گھر آیا تو سیدھا ایس ایچ او کے پاس گیا اور اس سے درخواست کی کہ مجرموں کو پھانسی سے کم سزا نہیں ہونی چاہیے.. ایس ایچ او نے مجھے مطمئن کرکے گھر بھیج دیا.. اگلے دن گھر پر ماں جھولی پھیلائے میرے سامنے کھڑی اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی.. لیکن پہلی بار مجھے ماں پر ذرا بھی رحم نہیں آیا اور ماں مجھے کوسنے دیتی اپنے گھر چلی گئی.. عبداللہ کی موت کے بعد میرا دل اس علاقے سے اچاٹ ہوچکا تھا..تینوں گھر فروخت کرکے وہ علاقہ چھوڑ کر اس علاقے میں آگیا.. اور ایک چیلے کو اپنا جانشین بناکر آرام کرنے لگا..

میں نے پیسے پانی کی طرح بہاکر اپنے چھوٹے بھائی کو پھانسی دلواکر اپنے عبداللہ کا انتقام لےلیا.. اب میں ہوں اور میرے عبداللہ کی یادیں ہیں.. آخر میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا ہم بھی آپ لوگوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں تو آپ ہمیں حقیر سمجھتے ہو ہمارا مذاق اڑاتے ہو دراصل وہ ہمارا نہیں بلکہ نعوذبااللہ اللہ خالق ذات کا مذاق اڑاتے ہو.. اگر میں عبداللہ کو معاشرے کا مفید حصہ بنانے کی کوشش کرسکتا ہوں تو ہم خواجہ سراؤں کے والدین کیوں نہیں کرسکتے.. کیوں ہمیں اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنوں کی محبت سے محروم ہونا پڑتا ہے.. کیا ہمارا اس محبت کا حق نہیں؟؛؛؛؛

اور ہمیں اس معاشرے میں حقیر بنانے میں سب سے زیادہ کردار بدقسمتی سے دنیا کے سب سے مقدس رشتے ماں اور باپ کا نہیں؟؛؛؛ سوچیے ضرور سوچیے اور خدارا خواجہ سراؤں کو معاشرے کا مفید حصہ بننے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں

ختم شد

 

 

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x