Khuda Aur Mohabbat خدا اور محبت

رومانوی

تحریر ہاشم ندیم

قسط وار ناول

views
0
Khuda Aur Mohabbat Hashim Nadeem Epi 2- خدا اور محبت ہاشم ندیم

قسط_1

پہلی بارش

وہ شاید ہوائی جہاز کے پہیوں کی رن وے سے رگڑ کھانے کی آواز تھی جس سے میری کچی نیند ٹوٹ گئی تھی۔ جہاز لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ پر لینڈ کر چکا تھا اور اب دھیرے دھیرے رن وے پر چلتا ہوا پارکنگ ایریا کی جانب بڑھ رہا تھا ایئر ہوسٹس کے اعلان کے مطابق لندن کا مقامی وقت صبح چھ بجے کا تھا۔

لندن شہر ایک ملگجھے سے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا رات بھر بارش ہوتی رہی ہے، ہلکی ہلکی سی پھوار اب بھی میری سیٹ کی ونڈ اسکرین پر ارتعاش بکھیر رہی تھی،

یہ بارشیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں کبھی تو ساری عمر بھی موسلا دھار برستی رہیں تب بھی انسان کا اندر بھگو نہیں پاتیں ۔۔۔۔ اور کبھی کسی کے من کو ہر لمحہ جل تھل کیے رکھتی ہیں لیکن باہر والوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہو پاتی ۔۔۔۔ لندن کی یہ پہلی بارش بھی کچھ ایسی ہی تھی جس نے میرے وجود کو تو باہر سے بھگو دیا لیکن میرے اندر کی پیاس اب بھی میرے حلق میں کانٹے چھورہی تھی۔

جہاز اپنے مقررہ پارکنگ اسٹینڈ پر لگی ٹیوب سے جڑ چکا تھا اور مسافر جمائیاں لیتےہوئے ایک ایک کر کے ٹیوب  کے ذریعے ٹرمینل پر اتر رہے تھے۔ جب تک میں لاؤنج میں پہنچا تب تک اُفق سے صبح کی ہلکی سی سفیدی جھانکنے لگی تھی لیکن کالے گھنے بادلوں اور مسلسل بوندا باندی کی وجہ سے لاؤنج کی شیشے کی دیوار کے باہر اب بھی کسی اداس شام کا سازردی مائل پیلا اندھیرا باقی تھا۔

میں ، حماد امجد، پاکستان کے معروف تاجر خاندان کا چشم و چراغ کہ جس کے آباؤاجداد پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد بھی ، انتہائی اہم حکومتی عہدوں پر فائزرو چکے تھے۔ تجارت جس کے گھر کی باندی ہے اور ملک کے اہم سرکاری عمال جس کے گھر شام کی چائے پر طلب کیا جانا اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ وہ حماد امجد آج لندن کی اس بھی کتنی صبح میں تنہا اور اور اس میتھرو ائر پورٹ کے آمد لاؤنج میں کھڑا تھا، کہنے کو تو میری لندن آمد کا مقصد یہاں کی مشہور کنگسٹن (Kingston) یو نیورسٹی کے شعبہ معاشیات سے اعلی تعلیم کی دو سالہ ڈگری لینا تھا لیکن میں خود جانتا تھا کہ یہ صرف ایک بہانہ تھا، خود اپنی ذات سے فرار ڈھونڈنے کا ایک بہانہ۔ میں خود کو اس شہر کی گہما گہمی میں اس قدر ملوث کر دینا چاہتا تھا کہ مجھے پل بھر بھی خود اپنے آپ کے ساتھ بیجا گزارنے کا موقع نہ مل پائے ۔ میری ذہنی حالت ایسی تھی کہ میں دوسروں کے ناگوار وجود کو بھی جھیلنے کے لیے تیار تھا لیکن خود اپنا سامنا

سے بھر کو بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ انسان بھی کتنا مجبور اور لاچار ہے۔ باہر آس پاس لگےسبھی آئینے پھوڑ بھی ڈالے تب بھی اپنے اندر لگے آئینے کا سامنا ہر دم لازمی ہوتا ہے۔

جب تک میں کشم اور دیگر معمول کی کارروائی سے فارغ ہو کر ٹرمینل سے باہر پہنچا تب تک باہر کی خنک ہوا میں برف کے اکا دکا ستارہ نما گالے شامل ہو چکے تھے۔ کھلی فضا میں پہلا قدم رکھتے ہی سردی کی ایک شدید لہر نے میرے سارے وجود کو جھنجھنا سا دیا۔ بے اختیار میرے ہاتھ میرے اوور کوٹ کے کالر کی طرف بڑھ گئے اور میں نے خود کو اچھی طرح سے

ڈھانپ لیا۔ سردی چاہے جتنی بھی شدید کیوں نہ ہو ، اس کی پہلی لہر آپ کے اندر تازگی کا ایک احساس ضرور بیدار کر دیتی ہے۔ اس ٹھنڈی ہوا کے پہلے جھونکے نے میرے اندر بھی تمام احساسات کو جگا سا دیا تھا۔ میں نے اپنے بچپن کے لنگو سے دوست کامران کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں لیکن میری توقع کے مطابق اس کا دور دور تک کہیں نام ونشان بھی نہ پہلے تو جی میں آیا کہ سامنے پارکنگ اسٹینڈ میں کھڑی ٹیکسی لے کر خود ہی اس کے فلیٹ

پر پہنچ جاؤں۔ میں لندن پہلے بھی کئی مرتبہ آچکا تھا اور اس شہر کے درودیوار میرے لیے بھی اجنبی نہیں رہے تھے۔ لیکن پھر جانے کیا سوچ کر میں ایئر پورٹ ٹرمینل سے اپنا اکلوتا سوٹ کیس گیتا، دور خشک گھاس کے ایک بڑے سے دیران قطعے کی طرف بڑھ گیا، جہاں ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر لگائے گئے لکڑی کے خوبصورت پیچیوں کی ایک قطاری موجود تھی۔

 میں نے یہیں بیٹھ کر کامران کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ہوا میں برف کے گالوں کی آمیزش بڑھ رہی تھی اور جب تک میں اپنے منتخب کردہ پیچ تک پہنچا تب تک با قاعدہ برف باری شروع ہو چکی تھی۔ مجھے یاد ہے بچپن میں نہیں اور کامران شام کو آسمان پر برف کے مخصوص دودھیا سفید بادل دیکھ کر رات بھر اپنے اپنے گھر میں بستروں میں دبکے، برف گرنے کی دُعا ئیں کیا کرتے تھے اور صبح جب آسمان سے برف کے ستارے گرتے دیکھتے اور شہر کو برف کی سفید چادر میں لپٹنا دیکھتے تو ہماری خوشی کا کوئی لم کا نہ ہی نہ رہتا۔ گھر والے ہمیں ڈھونڈتے ہی رہ جاتے اور ہم کہیں دور آتے جاتے راہ گیروں پر چھپ کر برف کے گولے برسانے میں مصروف رہتے۔ سوچتا ہوں بچپن کا وہ دسمبراتنی جلدی کیوں بیت جاتا ہے اور جوانی کی یہ کڑی دھوپ ہے کہ جیسے صدیوں سے سر پر تنی ہوئی ہے اک ذرا بھی سرکتی نہیں ۔

میں جس جگہ بیٹھا ہوا تھاز مین کا وہ ٹکڑا عام سطح سے کچھ بلند تھا اس لیے دور سے لندن شہر کی اونچی لیکن قدیم عمارتوں کی جھلک یہاں سے واضح نظر آرہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں برف نے تمام شہر کو پوری طرح سے ڈھک لیا۔ خود مجھے بھی دور سے کوئی دیکھتا تو شاید برف سے بنا اک مجسمہ ہی سمجھتا۔ کامران کا ابھی تک کچھ اتہ پتہ نہیں تھا ، وہ بچپن سے ہی ایسا تھا ۔ ہمیشہ کا لا پرواہ، اور صبح جلدی اٹھنے سے تو ہم دونوں کی جیسے جان ہی جاتی تھی۔ مجھے یاد ہے، ہم دونوں سالانہ امتحانات میں بھی بمشکل پرچے بننے کے بعد ہی کلاس روم میں پہنچتے تھے۔

بچپن یونہی بنتے کھیلتے گزر گیا لیکن پھر اچانک کامران کے گھر یلو حالات نے پلٹا کھایا ، ماں باپ ایک ٹریفک حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے ، گھر میں کامران اکیلا رہ گیا کیونکہ اس کی اکلوتی بڑی بہن پہلے ہی بیاہ کر اپنے گھر سدھار چکی تھی۔ باپ کی موت کے بعد کامران کو پتہ چلا کہ اس کے باپ نے قرضوں کا بے تحا شا ہو جو اس کے لیے ورثے میں چھوڑ رکھا ہے۔ قرض خواہوں کے مطالبات بڑھتے گئے اور آخر کا راسے مجبوراً اپنا آبائی گھر اور بچی کچھی

جائیداد بیچ کر لندن شفٹ ہونا پڑا۔ قرض چکانے کے بعد جو کچھ بچا اس سے کامران نے یہاں ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ کھول لیا تھا اور اب اس کی گزر بر مناسب انداز سے ہو جاتی تھی اور اسے تو دو کھل ہی شر کا ہو کر رہ گیا تھا۔ دراصل اسے لندن پیشے سے ہی بہت پسند تھا۔ شاید ہم دونوں کے اندر ایک بے حد قدیم روح بستی تھی۔ کیونکہ قدامت پسندی اور اُداسی لندن شہر کا ہی خاصہ ہے۔ ہر شہر کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ مجھے بھی کبھی دیتے ، چنگھاڑتے شہر

ایتھے نہیں لگے ۔ گرم جس زدہ اور بے چین ۔۔۔۔ جیسے ہر لحہ کچھ کھو جانے کا احساس دل کو جکڑے رکھے، مجھے سرد اور ٹھنڈے مزاج کے لوگ اور شہر ہمیشہ سے متاثر کرتے تھے، خاموش اور پر سکون ، انسان کا ہر غم، ہر دکھ اپنے اندر سمیٹ لینے والے شہر باندن بھی انہی شہروں میں سے ایک تھا۔

میرے سامنے سے ایک نو جوان جوڑا اہنتے ہوئے گزرا لڑکی نے غور سے میری جانب دیکھا، اُس کے رخسار سردی سے سرخ انگارہ سے ہو رہے تھے اور آنکھوں میں اک ازلی مسکراہٹ تھی۔ لڑکی مجھے دیکھ کر مسکر ا پڑی اور دونوں مجھے دش (Wish) کرتے ہوئے کچھ

فاصلے پر رکھے دوسرے پیج پر جا کر بیٹھ گئے اور راز و نیاز میں مصروف ہو گئے ۔ دونوں کے لباس سے ظاہر تھا کہ وہ صبح سویرے جاگنگ (Joging) وغیرہ کے لیے گھر سے نکلےتھے۔ یہ موسم اور ان منچلوں کی یہ اداء میں یہ سوچ کر مسکرا دیا۔ موسم بھی ہر انسان پر کچھ الگ ہی طور اترتے ہیں۔ مجھے یاد ہے میرے آبائی شہر کوئٹہ میں جب رات بھر برف گرتی تھی تو صبح سویرے غریب مزدور طبقہ اپنے بال بچوں سمیت چھوٹے بڑے بیلچے اور لکڑی کے بڑے بڑے بھنے لے کر دروازے کے سامنے سے اور چھت کے اوپر سے برف ہٹانے میں بہت جاتا۔۔۔۔ کیونکہ یہ برف ان کے کچے گھر کی چھت پر زیادہ دیر گئی تو چھت کو چھلنی بنا دیتی تھی۔ ان غریبوں کی ساری سردیاں ایسے برفیلے موسم سے بنا وما لگتے میں ہی گزر جاتی تھیں ۔

اور یہاں لندن میں اس بر خیلی صبح میں یہ دوستوالے موسم کا لطف لینے گھر سے نکلے تھے۔ ایک ہی موسم کسی بھی دو افراد پر دو مختلف صورتوں میں کیسے وارد ہوسکتا ہے۔ موسم تو بس موسم ہی ہوتاہے۔ اچانک میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا، میرے کاندھے کو کوئی زور زور سے ہلا رہا اُٹھ جائیے صاحب، نارووال کا جنکشن آ گیا ہے۔”

میں نے چونک کر او پر دیکھا، کامران گرم کپڑوں میں لپٹا، صرف چیرہ باہر نکالے اپنی تمام تر خبائتوں کے ساتھ کھڑ امسکرارہا تھا۔ ہم دونوں بغل گیر ہو گئے ” معاف کرنا میڈی یار کچھ دیر ہو گئی۔ لیکن تم باہر اس برف باری میں بیٹھے کیا کر رہے ہو ؟ میں نے وہاں سارا ٹرمینل چھان مارا تمھاری تلاش میں۔”

میری کامران سے پورے دو سال بعد یہ پہلی ملاقات تھی ۔ دوسال پہلے وہ یہیں لندن کے اس ہیتھرو ایئر پورٹ پر مجھے آخری مرتبہ الوداع کہنے یا تھا۔ جب زندگی کتنی حسین تھی ۔

تب میں لندن صرف آوارہ گردی کرنے اور کامران کی بے تکان بکواس سننے کے لیے آتا تھا۔ بچپن کے بچے دوست بھی کسی گھنے سایہ دار شجر کی طرح ہوتے ہیں، ان کی چھاؤں میں کتنا سکون ، کتنا آرام ہوتا ہے، پل بھر کوئیں بھی کامران کے گلے لگ کر اپنے جلتے زخموں کو بھول سا گیا تھا۔

رفتنا اس نے مجھے اپنے آپ سے جدا کیا اور غور سے دیکھ کر کہنے لگا ” یار میڈی، تم کتنے کمزور لگ رہے ہو۔ میں نے اپنے سوٹ کیس کا ہینڈل اس کے حوالے کرتے ہوئےکہا۔ ” کاش میں بھی تمھارے لیے کوئی اس قسم کی رائے دے سکتا ۔ کامران جنس کر ڈھٹائی سے بولا ۔ ارے یار تم تو جانتے ہونا بچپن سے ہی مجھ پر کھانا ذرا جلدی لگتا ہے۔ اچھا نہیں کھڑے رہ کر فریز ہونے کا ارادہ ہے کیا ؟ گھر چلو۔ کامران نے قدم آگے بڑھادیے۔

ساتھ والے پیج پر وہ جوڑا اب بھی برستی برف میں دنیا و مافیہا سے لا پرواہ ایک دو ہے میں گم تھا۔ کامران نے لڑکے کو دیکھ کر ایک لمبی سی آہ بھری اور بڑبڑاتے ہوئے اپنے آپ سے کہنے لگا ” نہ جانے یہ آج کل لندن کی گوریوں کے معیار کو کیا ہو گیا ہے۔”

کامران لیے لیے ڈگ بھر تا زمین پر اچھی برف کی سفید بے داغ پوشاک پر قدموں کے نشان چھوڑ تا آگے بڑھ رہا تھا اور میں کسی معمول کی مانند اس کے نقش قدم طے کرنا پیچھے چلا آرہا تھا۔ کامران کی وہی پرانی مورس کار قریب ہی کہیں پارک تھی۔ اس نے میرا سامان ڈکی میں رکھا اور ہم کامران کے فلیٹ کی جانب روانہ ہو گئے۔

پھر وہی شام

ہم گھنٹے بھر میں ہی کامران کے ساؤتھ لندن والے حصے میں موجود فلیٹ پہنچ گئے تھے۔

جب تک میں شاور لے کر فارغ ہوا تب تک کامران ناشتہ بنا چکا تھا مجھے کچھ خاص بھوک نہیں تھی لیکن کامران حسب معمول اپنی پر جوش روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرنے میں کچھ زیادہ ہی محو تھا۔ ناشتہ کرنے کے بعد میں لمبی تان کر سو گیا۔ کامران بھی اپنے ریسٹورنٹ کےلیے نکل پڑا۔

شاید شام کے چار بجے ہوں گے جب میری آنکھ کی شور سے نکل گئی کامران کا یہ فلیٹ ساؤ تھ لندن کے پوش ایریا میں واقع تھا۔ یہ دراصل سرخ اینٹوں سے بہنے دو منزلہ اپارٹم کی ایک لمبی سی قطار تھی، جس میں انتہائی چوڑی سڑکوں کے درمیان یہ اپارٹمنٹس شاید آٹھ یافنفس دس قطاروں میں بنے ہوئے تھے۔ ہر قطار میں آٹھ دومنزلہ اپارٹمنٹ اس طرح ساتھ ساتھ جڑے ہوئے تھے کہ سب مکانوں کے آگے کا با هیچہ ایک لمبی ہی قطار میں سیدھا چلا گیا تھا۔

البتہ درمیان میں سب مکانوں کو علیحدہ کرنے کے لیے خوبصورت توازن سے کئی ہوئی ہری باڑھ موجود تھی۔ ہر مکان کے باہر ایک خوبصورت سا پوسٹ بکس لگا ہوا تھا جس پر مالک مکان کا نام کندہ تھا۔ مجھے یاد تھا جب ہم چھوٹے تھے تو ڈرائنگ کی کاپی پر لکڑی کے اسی پوسٹ بکس جیسا ایک چھوٹا سا مکان ہر چہ بناتا تھا۔ میرے کمرے کی کھڑی اپنی بالکونی سمیت پچھلی سڑک کی طرف کھلتی تھی۔ یہ ہلکا سانور بھی اس کھلی سڑک پر بنے قطار نمبر 2 کےاپارٹمنٹس کی طرف سے آرہا تھا۔ میں بالکنی میں کھلتا شیشے کا دروازہ کھول کر ٹیرس میں نکل آیا۔ برف باری تھم چکی تھی لیکن آس پاس ڈور تک ہر چیز کو برف نے ڈھانپ دیا تھا ،سڑک کے پارگی کے چند بچے برف کا پتلا بنانے میں مشغول تھے ، یہ شور انہی کے معصوم قہقہوں اور آپس میں تکرار کا تھا۔ ان میں سے ایک گروپ پنلکے کی ناک کی جگہ گا جو لگانا چاہتا تھا جبکہ

 دوسرا گروپ ناک کو لکڑی کی ایک موٹی کیل سے سنوارنا چاہتا تھا۔ بالآخر دونوں گروپوں میں گاجر پر اتفاق رائے ہو گیا اور پہلے کو بیٹ مظفر اور کوٹ وغیرہ بھی پہنا دیا گیا۔ آس پاس سےگزرتے ہوئے لوگ بچوں کی اس کاوش کو ڑک کر دیکھتے اور مسکرا کر آگے بڑھ جاتے۔ اب اندھرا چھانے لگا تھا، ویسے بھی مردیوں کی شام جلد ہی اثر آتی ہے۔ رفتہ رفتہ بچوں کی ماؤں نے کھڑکیوں اور دروازوں سے بھاگتے ہوئے انہیں پکارنا شروع کر دیا اور بچے ایک ایک کرکے بکے سے رخصت لیتے ہوئے وہاں سے چل دیے۔ شاید ساری دُنیا کی مائیں اندر سےایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ اندھیرے میں بچوں کو کھیلنے سے منع کرنے والیاں ۔۔۔۔ شام ڈھلنے سے پہلے گھر واپس لوٹ آنے کی تاکید کرنے والیاں ۔۔۔۔ اور بچوں کے دیر تک نہ

آنے پر دروازوں، کھڑکیوں اور محسن میں کھڑے ہو کر آواز لگانے والیاں ۔۔۔۔

جیسے جیسے شام ہورہی تھی، سردی کی شدت بھی بڑھتی جارہی تھی سڑک کے کنارے کھڑاکافی والا ایسپر یو ( Espreso) کافی کے گرما گرم لگ آتے جاتے راہ گیروں کو پیش کررہا تھا۔ سردی سے ٹھمر تے جوڑے چلتے چلتے کچھ دیر کور کئے اور گرم کافی حلق میں انڈیل کر آگے بڑھ جاتے۔ اس وقت بھی ایک خوبصورت نوجوان جوڑا اسٹال کے سامنے کافی پینے کے لیے رکا ہوا تھا۔ لڑکی اپنی بڑی بڑی آنکھیں پٹ بناتے ہوئے کافی کے بڑے سے لگ سے نکلتی ہوئی بھاپ کے عقب سے شرارت سے لڑکے کو دیکھ رہی تھی اور باتیں کرتے ہوئے مسکرائے جارہی تھی۔ ہم انسان بھی کس قدر ظاہر پرست ، اور ظاہر پسند ہوتے ہیں۔ کافی کےنگ سے التا ہوا دھواں سب کو دکھائی دے جاتا ہے لیکن اپنے آس پاس بہتے انسانوں کےسینے سے التا ہوا دھواں سب کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اب کھیل اندھیرا چھا چکا تھا۔

سڑک کے کناروں پر لگے لیپ پوسٹ جل چکے تھے۔ پھر وہی شام تھی ، پھر وہی میں تھا اور پھر وہی بیتی یادوں کے مہیب سائے تھے۔ کہتے ہیں شام زوال کا وقت ہوتا ہے اور زوال صرف سورج کا ہی تو نہیں ہوتا ۔۔۔۔ مجھ پر تو ویسے بھی یہ وقت زوال بہت بھاری ثابت ہوتا تھا۔ جتنی تنہائی میں نے اپنی زندگی میں شام کے وقت محسوس کی ہے ۔۔۔۔ اتنی کسی اورپہر میں کبھی نہیں جھیلی۔دفعتا فلیٹ کے لاؤنج میں رکھا فون بج اٹھا۔ دوسری طرف سے کامران کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔ اے میرے اُداسیوں کے پرستان کے شہزادے ۔۔۔۔ رات کے کھانے کا کیا پروگرام ہے۔ اگر باہر چلنا ہے تو تیار ہو جاؤ میں آدھے گھنٹے سے پہنچ رہا ہوں ۔ اگر گھر پر ہی کھاتا ہے تو میں ڈرائیور سے کہتا ہوں کہ راستے سے کچھ لیتے ہوئے گھر چلے۔ ” مجھے کچھ

حیرت کی ہوئی ” تم نے ڈرائیور رکھ لیا ہے؟ وہ کیوں ۔ کامران کی مخصوص جنسی کی آواز فون پر گونجی۔ در اصل جب میں اپنے کیفے کو بند کر کے لکھتا ہوں تو وہاں سے گھر تک کے راستے میں میں خود اپنے آپ ہی اپنا ڈرائیور ہوتا ہوں۔ دوسروں کو ڈرائیور کا بتانے میں شخصیت ذرارعب دار رہتی ہے۔ ” میرے منہ سے اس کی شان میں کچھ الفاظ نکلے اور میں نے فون بند

کرتے ہوئے کہا۔ “تم کبھی نہیں سدھر سکتے میرا گھر سے نکلنے کا موڈ نہیں ہے۔ کھانا گھر پر ہی کھائیں گے۔”

کچھ ہی دیر میں کامران رات کے کھانے کے تمام لوازمات سمیت آن موجود ہوا۔ وہ آتے ہوئے تیار کھانا ہی بازار سے لیتا آیا تھا جسے اس نے کچھ ہی دیر میں کسی سگھڑ عورت کی طرح گرم کر کے کھانے کی میز پر لگا دیا۔ کھانے کے بعد کافی کا ایک دور چلا اور پھر آخر کارکامران کی زبان پر وہ بات آہی گئی جسے میں انجانے میں صبح سے ہی ٹالتا چلا آرہا تھا۔

کامران نے کافی کا ایک لمبا ساسپ لیتے ہوئے غور سے میری جانب دیکھا ” تم اتنی آسانی سے ہتھیار ڈال دو گے ۔۔۔۔ ایسی امید مجھے تم سے ہر گز نہیں تھی میڈی ۔ ” میں نے دانستہ اس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا ۔۔۔ جب دشمن خود مد مقابل کے خیمے میں آکرفریاد کرے کہ یہی ایک جیت اس کی زندگی کا حاصل ہے تو مجھ جیسوں کو ہتھیار ڈالنے ہی پڑتے ہیں۔”

کامران کی بے چینی میرے جواب سے کم ہونے کے بجائے کچھ اور بڑھ گئی۔ وہ جھنجھلاکر بولا ۔ ” مجھے تمھاری منطق آج تک سمجھ نہیں آئی تم نے اس ایک لڑکی کے لیے زمانے بھرسے بغاوت مول لی تھی۔ سارے گھرانے کی مخالفت کے باوجود تم اپنی جگہ ڈٹ گئے تھے۔ کیاکچھ نہیں سہا تم نے ۔ باپ نے تمھیں عاق کر ڈالا ۔ ماں نے ناطہ توڑ لیا۔ گھر بار چھوٹ گیا،

پھر یکا یک تم نے دست برداری کا اعلان کیسے کر دیا۔”

میرے لبوں پر کمزوری اک مسکراہٹ ابھر آئی۔ شاید زمانے کی سختیوں نے مجھےاحساس دلا دیا کہ محبت صرف ایک بے وقوفی ہے۔ اپنے گھر کا عیش و آرام چھوڑ کر صحراؤں اور جنگلوں کی خاک چھاننے والے صرف احمق ہوتے ہیں، اور کچھ نہیں۔”

کامران صوفے سے اُٹھ کر میری جانب آیا اور میرے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر جھک کرمیری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔ میں تمھیں چھ سال کی عمر سے جانتا ہوں مسٹر حمادامجد رضا ۔ پچھلے میں سالوں سے ہم دونوں ایک ساتھ ہیں۔ ہمارا بچپن، ہماری جوانی ایک دوسرے کے سامنے کسی آئینے کی طرح عیاں ہے۔ تمہارا شمار انہی احمقوں میں ہوتا ہے جو گھر

کا نرم بستر چھوڑ کر دربدر کی تپتی ریت چھانتے پھرتے ہیں ۔ اس وقت تم تھکے ہوئے ہو،جا کر سو جاؤ۔ ہم اس موضوع پر پھر بھی بات کریں گے ۔

کامران مجھے تھپکی دیتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔ میں وہیں آرام کرسی پرکھڑکی کے سامنے بیٹھا باہر سنانے میں درختوں کی ٹہنیوں سے ، جو برف کے بوجھ سےبھاری ہو کر جھکی ہوئی تھیں برف گرنے کی مخصوص دھپ دھپ سنتا رہا ۔ باہر آسمان سرخ انگارہ سا ہو گیا تھا۔ اور یہاں اندر کمرے میں آتش دان میں جلتی لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز اور دیوار پر لپکتے شعلوں کے سائے تھے ۔ رات ڈھل رہی تھی اور میراذ من ماضی کے دریچوں کو پھلانگتا ہوا دو سال پہلے کی اس شام کی یادوں تک جا پہنچا تھا جب میری ایمان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔

محبت …… نیلا موسم

ہمارا گھرانہ شہر کے انتہائی متمول اور با اثر گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ بابا بطور کمشنر ریٹائر ہونے کے بعد باپ دادا کی وسیع وعریض زمینوں کے انتظامات سنبھالتے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ بھی چلے زمین دار نہ بن سکے اور ان کے اندر چھپا ایک سخت بیوروکریٹ ان کی نصیبت پر ہمیشہ سے نمایاں اور حاوی رہا تھا ۔ امی خود ایک بہت بڑے زمیں دار کی بیٹی تھیں اور ان کے اندر پڑھی لکھی جاگیر داریوں کی تمام خصوصیات موجود تھیں ۔ انگلش ادب میں ماسٹر ز بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ پایا تھا۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن سمیت یہ خوش حال گھرانہ زندگی کی مخصوص ڈگر پر رواں دواں تھا۔ بابا کے رابطے ملک کے انتہائی اہم سیاست دانوں سے ہمہ وقت رہتے تھے اور ہمارے ڈرائنگ روم میں ہر شام بابا کی بیٹھک ملک کے موجودہ حکمران طبقے کے وزیروں سے رہتی تھی ۔ مجھے بچپن سے ہمیشہ اس بات پر حیرت رہی تھی کہ ملک میں حکومتیں تو بدلتی رہتی تھیں لیکن بابا کی بیٹھک میں وہی چند مخصوص چہرے روپ بدل بدل کر موجود رہتے تھے ۔ شاید بابا کی دوستی ہی ایسے سیاست دانوں سے تھی جو ہر حال میں اقتدار کے پالنے میں جھولتے رہے تھے ۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنے سو بیٹے سجاد اور بیٹی مدیحہ کی شادی بھی انہی حکمران خاندانوں میں کروا دی تھیں۔ میری بہن مریکہ سندھ کے ایک بہت بااثر خاندان میں بیاہی گئی تھی جو کہلاتے تو سندھ کے تھے لیکن ان کی نئی نسل نے پاکستان کو صرف دار الحکومت سے زیادہ بھی دیکھا بھی نہ تھا ۔ مدیحہ بھی اسلام آباد میں ہی رہائش پذیرتھی۔ سجاد بھائی کی شادی بھی پنجاب کے امرا خاندان کی بیٹی سے ہو

چکی تھی اور میری بھا بھی عبرینہ کو ہر وقت اس بات کی فکر کھائے جاتی تھی کہ کہیں کسی بھی موقع پر ان کا اُونچا خاندان ہمارے خاندان سے نیچا ثابت نہ ہو جائے ۔ ویسے ان کی اور سجاد بھائی کی خوب جمتی تھی، کیونکہ سجاد بھائی کو اپنے بزنس اور بیرون ملک دوروں سے ہی فرصت نہیں دےتھی لہذا بھا بھی اور امی خود ہی گھر کی پارٹیز اور تقریبات وغیرہ کے اہتمام میں بجتی رہتی تھیں۔

آپ رہ گئے میں یعنی تمارا امجد صاحب اور مجھ سے چھوٹا اور گھر بھر کا لاڈلا عباد تو ہم دونوں ہی کو گھر کے ان ہنگاموں اور شور شرابوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے حال ہی میں ماسٹرز کیا تھا اور اب مہاد بھی گریجویشن کے بعد فارغ ہو چکا تھا ۔ مجھے شروع سے ہی زندگی کو با قاعدہ کسی منصوبہ بندی کے تحت گزارنے کی عادت نہ تھی ۔ اس لیے بابا کے لاکھ کہنے کے باوجود میں ان کے کاروبار میں اب تک ان کا ہاتھ بٹانے میں اپنا دھیان نہیں لگا پایا تھا ۔ اور اس بات پر بابا آج کل مجھ سے کچھ ناراض بھی رہتے تھے۔ دوسری جانب عباد تھا جو پاکستان میں کچھ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اُسے ہمیشہ سے ہی باہر جا کر رہنے کا جنون تھا۔ لیکن بابا سے کوئی حتمی بات کرنے سے اس کی بھی جان جاتی تھی۔ ہمارے گھر میں آئے بروز کسی نہ کسی بات کوبہانہ بنا کر پارٹی دی جاتی تھی۔

کبھی کبھی میں سوچتا تھا کہ ہم امیروں کے پاس خوشی منانے کے بہانے اس قدر کم کیوں ہیں ۔۔۔۔؟ شاید کہیں پڑھی ہوئی یہ بات بیچ بنی تھی کہ امیروںکا یہ خیال کہ غریب زیادہ خوش رہتے ہیں، اتناہی غلط ہے جتنا کہ غریبوں کا یہ گمان کہ امیران سے زیادہ خوش ہیں۔

آج بھی ہمارے گھر میں ایک پارٹی تھی۔ بہانہ یہ تھا کہ سجاد بھائی کے اکلوتے بیٹے نے آج پہلا پارہ ختم کر لیا تھا۔ ہم امیر گھرانوں میں دوسروں کے دیکھا دیکھی آج کل بچوں کو با قاعده کسی مولوی سے شام کو سپارہ پڑھوانے کا فیشن بھی زوروں پر تھا۔ یا پھر شاید اس کے پیچھے بابا کے بچپن کی سخت تربیت اور دادا کی مخصوص پرورش کا بھی ہاتھ تھا ۔ انہوں نے سجاد بھائی کو با قاعدہ حکم دے کر ان کے بیٹے سنی کے لیے کسی مولوی کا انتظام کرنے کا کہا تھا جو بچےکو شام کو آ کر قرآن کا سبق دے جاتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ مہینے کے بیشتر دن بے چارےمولوی صاحب کو بنگلے کے گیٹ سے ہی بنا سبق دیے واپس پلٹنا پڑتا تھا کیونکہ زیادہ تر گھر میں کسی نہ کسی پارٹی یا تقریب کا ہنگامہ ہی لگا رہتا تھا ۔ اب ایسی ماڈرن پارٹیز میں بھلا ایک

سیدھے سادھے مولانا تاپ مولوی اور اُس کی پرانی سی سائیکل کا بھلا کیا جوڑ ۔۔۔۔؟ خودبھا بھی کو بھی مولوی صاحب کا یہ ٹھنا ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا، لیکن بابا کے رعب کے آگے بھلاکسی کی کب چلتی ۔۔۔۔؟ لہذا بادل نخواستہ اس رسم کو نبھایا جا رہا تھا ۔ جانے ہم امیر ا یسی چیزوں سے اتنی دور اور غریب ان رسومات سے اتنے قریب کیوں ہوتے ہیں۔۔۔؟ ہم مذہب کو بھی ایک رسم کی طرح نبھاتے ہیں اور غریب رسم کو بھی کسی مذہبی فریضے کی طرح نچنا تے ہیں ۔

خود میری بھی سنی کے مولوی صاحب سے آتے جاتے ایک آدھ بارری ہی ملیک سلیک بس راستے میں ، یا پھر گھر کے مخصوص لاؤنج کے حصے میں جہاں وہ سٹی کو سبق دےرہے ہوتے تھے ، ہو چکی تھی ۔ مونوی علیم الدین صاحب دبلے پتے سے ایک سیدھےسادھے شخص تھے جنھیں میں نے ہمیشہ سفید کپڑوں کرتا ، پاجامہ میں ملبوس ہی دیکھا تھا۔ چہرہ پر نور ، آنکھوں پر نظر کا چشمہ چپ چاپ اور خاموش سے وضع داری ان کی چال ڈھال سے نمایاں تھی۔ ہمیشہ سر اور آنکھیں جھکا کر بات کرنے والے۔ اپنی پرانی ریلے سائیکل پر شام چار بکے نہایت پابندی سے آن موجود ہوتے اور نوکر جہاں انہیں بٹھا دیتا و میں چپ چاپ خاموش بیٹھے رہتے اور سٹی کے نیچے آنے کا انتظار کرتے ۔ مجھے اس بات پر بھی ہمیشہ حیرت رہی کہ سنی جیسا شرارتی بچہ ان کے قابو میں کیسے آگیا تھا۔ کیونکہ باقی ٹیوٹرز کی جو درگت وہ جاتا تھا۔ اس کا مظاہرہ میں کئی بار دیکھ چکا تھا۔ لیکن خلاف توقع مولوی صاحب کے سامنے وہ پڑاؤ رب بنا بیمار ہتا تھا۔ میں نے ایک آدھ بار آتے جاتے سکی کو مولوی صاحب کی نظر بچا کرا کسانے کی کوشش بھی کی تھی لیکن اس پر کوئی اثر ہی نہیں پڑتا تھا۔ اور شاید یہ سنکی کی ہی فرمائش تھی کہ آج کی پارٹی جو خودستی ہی کے پہلا پارہ ختم کرنے کے اعزاز میں منعقد کی جارہی ہے۔ اس میں اس کے استاد یعنی مولوی صاحب کی شرکت لازمی تھی ورنہ اس نے گھر بھر کو دھمکی دی تھی کہ وہ خود بھی پارٹی میں نہیں آئے گا اور نہ ہی اپنی مما کے پسند کے کپڑے پہنے گا۔ امی اور بھا بھی سنی کی اس فرمائش پر کافی جد بز ہوئی تھیں۔

بھلا اس ماڈرن پارٹی میں جہاں شہر بھر کی بیگمات اپنے پالتو نما شوہروں کے ساتھ زرق برق لباسوں ، نئے ڈیزائن کی جیولری سے لدی پھندی لیسی لیسی کاروں اور عالی شان گاڑیوں میں تشریف لائیں گی ، ایک لمبی سی سفید داڑھی والے اس غریب سے بزرگ کی جگہ کہاں جنتی تھی مکمل میں ٹاٹ کا پوند ۔۔۔ ہونہ ۔۔۔

لیکن سٹی کی ضد کے آگے آج تک کسی کی چلی ہے جو اس دن چل پاتی ۔۔۔؟ آخر گھرکی خواتین کو ہی ہار ماننا پڑی۔ لیکن اب مسئلہ یہ در پیش تھا کہ گھر کے خاص نوکروں نے کل ہی مولوی صاحب کو اس تقریب کی وجہ سے آج کو بھی آنے سے منع کر دیا تھا لہذان کے آنے کا کوئی امکان بھی نہ تھا۔ سنی کے آنسو پھر سے ٹپکنے لگ گئے تھے ۔ آخر بابا کے خاص ڈرائیور شاکر سے پتہ چلا کہ اُسے مولوی صاحب کے گھر کا پتہ معلوم ہے، کیونکہ پہلے وہ بھی شہر کے اس پرانے محلے میں رہتا تھا جہاں مولوی علیم الدین اب تک رہائش پذیر تھے۔ طے یہ پایا کہ شاکر جا کر مولوی صاحب اور ان کی فیملی کو بھی باقاعدہ تقریب میں آنے کی دعوت دےآئے ۔ سنی کو شاید شاکر پر زیادہ اعتماد نہیں تھا لہذا وہ خود بھی شاکر کی گاڑی میں سوار ہو کر مولوی صاحب کو لینے چلا گیا کیونکہ اب تقریب کا وقت تو سمجھو ہو ہی چکا تھا، مولوی صاحب کے

انتظار میں دیر بھی ہو چکی تھی ۔ میں اس وقت اپنے کمرے میں بیڈ پر پڑا ستی سے سامنےرکھے ٹی وی کے چینل بدل رہا تھا جب چھوٹے (عباد) نے میرے کمرے کا دروازہ کھولاہے بگ بی، کیا نیچے آنے کا ارادہ نہیں ہے۔ پارٹی شروع ہو چکی ہے ۔ ” عباد ہمیشہ کی طرح آج بھی شام کی پارٹی کے لیے باقاعدہ سوٹ اور میچنگ بو (Bow) میں ملبوس تھا۔ اُسے دیکھ کر میری بے ساختہ انسی نکل پڑی۔

تم تو اس طرح تیار ہو کر بیچے جا رہے ہو جیسے آج ہی تمھارے رشتے کا بھی فائل اعلان کر دیا جائے گا۔

عباد نے میری بات سن کر یہ اسامنہ بنایا۔ ” کم آن بگ بی ، آپ بھی نہ۔۔۔۔ یونو آئی آل ویز ریین دیل ڈریسڈ ( You know I always remain well dressed) میں نے ریموٹر سے ٹی وی آف کیا اور تکیہ عباد کی طرف پھینکا۔

خوب جانتا ہوں میں تمھاری اس خوش لباسی کو ۔۔۔ ضرور کسی نئی محبت کے استقبال کے لیے یوں بن ٹھن کر ہال میں جار ہے ہو ۔۔۔۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ سارے شہر کی لڑکیاں کیا آشوب چشم کی بیماری سے دو چار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ بھلا کوئی تمھاری جانب دیکھتی ہی کیوں۔۔۔”

جہاد ہنسا ۔ ۔ ۔ ۔ گھر کی مرغی دال برابر ۔۔۔۔ آپ سب گھر والے بھلا میری قدر کیا جائیں ۔۔۔۔ بہر حال ۔۔۔۔ اب آپ بھی دیر نہ کریں ۔۔۔۔ کمشنر صاحب کا حکم ہے کہ سب لوگ نیچے موجود ہونے چاہئیں۔”

میں اور عبادتنہائی میں بابا کو کشنر صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔ میں جھنجھلا سا گیا

راف۔۔۔ کیا مصیبت ہے یار ۔۔۔۔ ایک بچے کی معصوم سی رسم کشائی کو اس قدر دکھاوا اور بڑھاوا دینے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔ دنیا میں ہزاروں لاکھوں بچے روزانہ پورا قرآن ختم کرتے ہیں، حفظ کر لیتے ہیں۔ لیکن کہیں بھی ہوں اس کا ڈھنڈور انہیں پیا جاتا، اور پھرا ایسے موقع پر اس طرح کی پارٹی ۔۔۔ میں تو فیڈ اپ Fed UP ہو گیا ہوں۔”

عباد سمجھانے کے انداز میں بولا ” کم آن بگ بی ۔۔۔۔ بی اے سپورٹ ۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ صرف دکھاوا ہے ۔ لیکن کسی اور کی نہیں تو صرف سنی کی خوشی کے لیے ہی آجا ئیں ، آپ جانتے ہیں وہ آپ سے کس قدر انچ ہے۔ عیاد دروازہ بند کر کے چلا گیا۔ وہ جانتا تھا کہ میں سنی کی خوشی کے لیے پارٹی میں ضرور شرکت کروں گا چاہے اوپری دل سے ہی

ہی۔ شاید ہماری زندگی کے نوے فیصد فیصلوں میں ایسے ہی کسی اپنے کسی لاڈلے کا بھرم رکھنا بنیادی شرط ہوتی ہے۔ ہم بہت تھوڑی زندگی خود اپنے آپ کے لیے جی پاتے ہیں،

زیادہ تر تو دوسروں کا بھرم رکھنے میں ہی بسر ہو جاتی ہے۔

 پھر وہی محبت

شہر کی کنٹونمنٹ میں جہاں علاقے کے بڑے امراء کی کوٹھیاں کئی کئی ایکڑوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اسی علاقے میں دورو یہ درختوں سے ڈھکی ایک سڑک کے اختتام پر ریٹائر ڈ کمشنر امجد رضا کی عظیم الشان حویلی آج پھر برقی قمقموں سے جھلملا رہی ہے ۔ دھوپ ڈھل چکی تھی

لیکن شام کے پر ابھی پوری طرح پھیلے نہیں تھے ۔ ڈور سے کمشنر صاحب کی پرانی مرسڈیز گاڑی ، جو اب زیادہ تر گھر کے کام کاج کے لیے استعمال ہوتی تھی ،فرائے بھرتی ہوئی نمودار ہوئی۔ گاڑی کو گھر کا سب سے پرانا ڈرائیور شاکر چلا رہا تھا اور سنی میاں چہرے پر ان جانی خوشی کے تاثرات لیے ہوں بیٹھے تھے جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے کر لوٹے ہوں۔

گاڑی کی پچھلی سیٹ پر سفید چادروں میں ڈھکی ، دو چھوٹی موٹی سی لڑکیاں سمٹی ہوئی بیٹھی تھیں

البتہ مولوی علیم کا کھاتہ پتہ نہ تھا۔ گاڑی نے حویلی کے بڑے بڑے جنگلوں والے گیٹ کے سامنے پہنچنے سے پہلے ہی مخصوص انداز میں دو مرتبہ ہارن بجا دیا تھا لہذا اپنی جنگلوں والے گیٹ کے ساتھ ہی بنے ہوئے لکڑی کے کیبن سے دو ملازم تیزی سے نکلے اور انہوں نے گاڑی کے گیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی گیٹ کھول دیا۔ کمشنر صاحب کی نیلی مرسڈیز تیزی سے گھر میں داخل ہو گئی۔

جب تک میں تیار ہو کر نیچے حال میں پہنچا تب تک تقریبا سبھی مہمان آچکے تھے ۔ سنی نے مجھے دیکھتے ہی دور سے یوں ہاتھ ہلایا جیسے وہ مجھے کوئی خاص بات بتانا چاہتا ہو۔ لیکن اس وقت وہ خود سفید کرتا پاجامہ پہنے اپنے دوستوں اور کزنز وغیرہ میں اس قدر گھر ا ہوا تھا کہ اس کا فوری طور پر مجھ تک پہنچانا ممکن تھا۔ عباد صاحب حسب معمول بیگمات کے ساتھ آئی ہوئی ان کی بیٹیوں اور دوسری لڑکیوں کو متاثر کرنے کی حتی الوسع کوششوں میں مصروف تھے۔ ایک

 طرف ہا ہا اور سجاد بھائی ہمیشہ کی طرح اس پارٹی میں آئے ہوئے چند بڑے ناموں کے ساتھ بزنس ڈیلز کے چکر میں لگے ہوئے تھے ۔ بابا ایسے موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔

ہال میں کافی چہل پہل تھی ، ہر طرف جیسے رنگ ونور کی برسات ہو۔ ایک طرف امی اور عریبیہ بھا بھی بیگمات کو متاثر کرنے کا ہر حربہ استعمال کر رہی تھیں ۔ جیولری کی باتیں تھیں۔ نئے آنے والے فیشن کی باتیں تھیں ۔ گرمیوں کی چھٹیاں فرانس یا سوئٹزر لینڈ میں گزارنے کی باتیں تھیں۔ رنگین آنچل ہر طرف لہرا رہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے سنی کے پہلے پارے کی رسم نہ ہوبلکہ اس کے نکاح کی تقریب ہو۔ میرے سیڑھیوں سے اتر تے اتر نے بہت سی خواب ناک

نگاہوں کے سلام مجھ تک پہنچ چکے تھے۔ لیکن بقول کامران میں اس معاملے میں انتہائی نا شکراواقع ہوا تھا۔ پتہ نہیں کیوں۔۔۔۔ مجھے محبت وغیرہ قسم کی چیزوں کا سوچ کر ہی انہی آجاتی تھی۔ مجھے عورت کبھی برتنے کی حد تک بھی اس طرح پسند نہیں آئی تھی جیسا کہ عام رومانوی داستانوں میں بیان کیا جاتا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے بچپن سے ہی مخلوط اداروں میں تعلیم (Co-education) حاصل کی تھی ۔ بچپن سے ہی میری بہترین دوست صرف لڑکیاں ہی رہی تھیں۔ میں انہی کے ساتھ بچپن میں انہی کے کھلونوں کے کمروں سے لے کر نو جوانی کے اسٹڈی رومز اور پھر جوانی میں بیڈرومز تک ساتھ ساتھ رہا تھا۔ میرے لیے اس محفل کی تمام لڑکیاں بس لڑکیاں ہی تو تھیں۔ جیسے کسی ہاسٹل میں رہتےہوئے بہت سے کلاس فیلوز بھی مجھے اور میں بھی کو بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ ان میں

سے کئی ایک کا خاص راز دار بھی رہ چکا تھا۔ لیکن میں نہ جانے کبھی اس بات کو کیوں محسوس نہ کر پایا تھا کہ یہ سب اب بچپن اور نو جوانی سے نکل کر اس عمر میں پہنچ چکی ہیں جہاں اب کوئی ایک نا محرم ہی مان کار از دار ہو سکتا ہے۔ یہ سب بابا کے ساتھ کے ریٹائرڈ بیورو کر میں اور امراء کی بنیاں تھیں جن کے ماڈرن محسن کے ایک دیدار کے لیے شہر اور کالج کے عام لڑ کے سارا دن چھاؤنی کی سڑکوں کی خاک چھانتے ہوئے گزار دیتے تھے۔ لیکن میں اس حسن کے اس قدر

قریب رہا تھا کہ اب میرے لیے اس کا نظارہ ایک معمول کی بات تھی ۔ اور پھر کچی بات تو یہ ہے کہ پی جیسی ہی ایک جنس کے لیے اس قدر بے تابی کا مطلب ۔۔۔۔ مجھے تو زیادہ تر حسین لڑکیاں بے وقوف ہی ملی تھیں ، وہی ان سب کا ایک ہی جیسا انداز ،لڑکوں کے سامنے سنجیدہ اور معتبر نظر آنے کی کوشش اور تنہائی میں آپس کی لڑکیوں سے ویسی ہی گفتگو جیسے ہم لڑ کے

آپس میں ان لڑکیوں کے بارے میں کرتے تھے۔

سب سے پہلے مجھے بیگم عشرت کی صاحبزادی لینی نے سیڑھیوں سے اترتے ہی ایک لیا۔ اف میڈی۔۔۔ کہاں رہتے ہو آج کل ۔۔۔۔ بے رخی کی بھی انتہا ہوتی ہے۔۔۔”

میں نے اسے چھیڑا ۔۔۔۔” سنا ہے حسینوں سے دور کی صاحب سلامت ہی اچھی ہوتی ہے۔ وہ مسکرائی ، یونانی۔۔۔۔ اچھا بتاؤ اس جمعرات کو آرہے ہوتا ہماری طرف مسلمی کی انگیجمنٹ (Engagement) پارٹی ہے۔”

سلنی لینی سے ایک سال چھوٹی بہن تھی۔ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

سلمی کی منگنی ہو رہی ہے ۔۔۔۔ ؟ لیکن اس نے تو میرے ساتھ بھی کچھ وعدے کیے تھے۔

لیتی نے گھور کر میری طرف دیکھا ۔ ” تمھارے وعدوں کے انتظار میں بوڑھی ہونے کے لیے میں جو بیٹھی ہوں ۔ بتاؤ نا۔۔۔۔ آؤ گے نا۔ اتنے میں دوسری طرف سے ماریہ اور حمیرہ مختلف سمتوں سے لپکیں۔ انہیں میر الیتی کے ساتھ ہوں تنہا کھڑا ہونا قطعا پسند نہیں تھا۔ جمیرہ جاتی تھی کہ مجھے کالا لباس بہت پسند ہے لہذا وہ آج خصوصی طور پر سیاہ ساڑھی پہن کر آئی تھی۔ اور بچی ہے کہ اس کا گورا رنگ کالی ساڑھی میں بیچ بھی خوب رہا تھا۔ ماریہ حسب معمول فلپر اور نئے انداز کی چست سی شرٹ میں ملبوس تھی ۔ وہ اٹھلا کر بولی “میڈی ۔۔۔۔ تم نے یو نیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد گھر سے نکلتا ہی چھوڑ دیا ہے۔ بس تم کل شام مجھ سے مل رہے ہو ۔۔۔۔ مجھے تمھیں بہت سی باتیں بتانی ہیں۔

کوئی بہانہ نہیں چلے گا ۔ وہاں دُور کھڑی نائلہ اور پنکی مجھے ماریہ سے باتیں کرتا دیکھ ، غصے سے مجھے گھور رہی تھیں اور لوگوں کی نظر بچا کر کچھ ایسے اشارے کر رہی تھیں کہ میں جب اکیلے میں ان سے ملوں گا تب وہ میری خوب خبر لیں گی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ سبھی لڑکیوں کے راز ، ان کے گلے شکوے اور ان کی باتیں خبائی میں ایک جیسی ہی ہوتی تھیں ۔ شائد ساری دنیا کی موید تمکن ایک ہی جگہ اور ایک ہی قسم کی مئی سے بنائی گئی ہیں۔ تنہائی میں سبھی مجھ سے شکو کرتیں کہ پڑھائی ختم ہونے کے بعد اب میں ان پر توجہ ہی نہیں دے رہا، کسی نہ کسی بہانے میرا ہاتھ تھام لیتیں ۔ مجھ سے روٹھتیں اور پھرخود ہی من بھی جاتیں۔ کبھی کا یہ گلہ ہوتا کہ میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ میں ان کے لیے کیا معنی رکھتا ہوں ۔۔۔۔ اور یہ کہ کبھی نے میری بچپن اور لڑکپن کی یادوں کو کس قدر جنت جیت کر اور سنبھال سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ سبھی کا رومان ایک ہی جیسا ہوتا تھا۔

کبھی کبھی تو مجھے اس بات پر بھی بہت حیرت ہوتی تھی کہ ان لڑکیوں کے دماغ میں بچپن کی یادیں اور بچپن کا رومان اس قدر گہرا اثر لیے ہوئے کیوں ہوتا ہے۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے بچپن میں لڑکیاں وہ معصوم دوستی ہی اس لیے کرتی ہیں کہ بڑے ہو کر جوانی میں اس دوست کو اپنے خوابوں کا شہزادہ بنائیں ۔۔۔۔؟

بحر حال ۔۔۔۔ اس وقت میں اس رومان سے بالکل بے خبر تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کسی کا محبوب ہونا کس قدر اعزاز کی بات ہوتی ہے ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ لوگوں کا محبوب بننے میں عمریں بیت جاتی ہیں لیکن جب بھی یہ مسند کی کسی ایک آدھ خوش نصیب کا ہی مقدر ٹھہرتی ہے۔ ہماری ساری عمر دوسروں کو اپنا محبوب بنانے میں ہی صرف ہو جاتی ہے۔ کیونکہ خود کسی کا محبوب بنا ہمارے اختیار میں ہوتا ہی کب ہے؟ یہ اعزاز تو صرف آسمان سے ہی وارد ہوتا ہے۔ لیکن ستم یہ ہے کہ اس اعزاز کو پانے والے خود اس اعزاز ، اس رتبے کی خرمت سے بے خبر ہوتے ہیں۔

میں سبھی سے ملتا ملاتا ، ان نازنینوں کو چھیڑتا اور ان سے اٹھکیلیاں کرتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ اس بات سے بے خبر کہ محبت

کا نیلا موسم میرے بہت قریب یوں بکھر رہا ہے جیسے وہ صدیوں سے بس میری ہی تاک میں ہو ۔ اور تبھی دفعتنا میرے قدم جسے ہال کے لکڑی سے ہے فرش پر جسم سے گئے ۔ میرے آس پاس کا بھی شور ، وہ نظر کی قہقہوں کا جلترنگ تھم سا گیا۔فضا ساکت ہی ہوگئی ۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے کسی خود کار ریموٹ کے ذریعے اس ساری محفل کو چند ساعتوں کے لیے جامد (Pause) کر دیا ہو۔ وہ میرے سامنے بیٹھی تھی۔ ڈریی ، سبھی کی ۔۔۔ بڑے سے سفید دوپنے کی آڑھ لے کر ۔۔۔ آس پاس سے گزرتےمردوں کی نظر سے بچنے کی کوشش میں اس کا سونے جیسا رنگ گلابی آمیزش سے اور بھی کہنے لگا

تھا۔ ایک ساعت کے لیے اس کی گھنی کالی پلکیں انھیں اور میں ہمیشہ کے لیے ان آنکھوں میں فرق ہو گیا۔ چند ھوں میں کیا سے کیا ہو گیا۔۔۔۔؟ اگر لوگ اسی کو کیوپڈ کا وار کہتے ہیں تواس سے زیادہ بے رحم اور سفاک وار آج تک میں نے اپنی تمام زندگی میں نہیں جھیلا تھا

۔۔۔۔ جانے وہ لڑکی کون تھی ۔ سفید کرتے اور تنگ پاجامے میں ملبوس ۔۔۔۔ اس کےنازک سے سراپے نے جیسے اُس پوری محفل کو ثات کا بنادیا تھا۔۔۔۔ اور وہ خود اس ناٹ میں مخمل کے ایک پیوند کی طرح لگئی بیٹھی تھی۔ یہ بات نہیں تھی کہ اس لڑکی کے علاوہ اس محفل میں دوسری کوئی حسین موجود نہ تھی۔ وہاں تو نازنینوں کی بھر مار تھی ۔ ایک سے بڑھ کر ایک عشوہ طراز ، نازک اندام مہ جبینوں کا جھرمٹ موجود تھا وہاں ۔۔۔۔ لیکن اس لڑکی میں جو ایک کونے میں اپنے جیسے ہی حلیے میں ملبوس ایک نسبتا کم عمر کی لڑکی کے ساتھ چُپ چاپ خاموش ی بیٹھی تھی، جانے ایسی کیا بات تھی ، وہ سر کے بالوں سے نکلی ایک لمبی سی شریر لٹ سے لے کر پاؤں میں پہنے نازک سے کھتوں تک پورا ایک جہاں ہی تو تھی ۔ آس پاس سے گزرتے مرداور عورتیں حیرت سے ان دو لڑکیوں کو دیکھتے جو کسی بھی طرح اس پارٹی سے اور اس کے

ماحول سے میل نہیں کھا رہی تھیں ۔

اچانک مجھے احساس ہوا کہ کوئی ننھا سا ہاتھ میرے کوٹ کی آستین کھینچ رہا ہے۔ میں اپنے خیالات کی رو سے باہر نکل آیا ۔ سنی جانے کب سے مجھے آوازیں دے رہا تھا چاچو۔۔۔ میری بات تو سنیے۔۔۔۔ سیڈی چاچو ۔۔۔۔۔

میں اس کی طرف متوجہ ہوا لیکن میرا دھیان اب بھی اسی لڑکی میں اٹکا ہوا تھا۔ سکی مجھے سے کچھ ناراض تھا۔ ” جائیے چاچو ۔۔۔۔ میں آپ سے بات نہیں کروں گا۔ آج سب نے مجھے گفٹ دیے ہیں لیکن آپ نے ابھی تک ۔۔۔۔ میں نے اس کی بات کاٹ کر اسےدونوں ہاتھوں سے اٹھا کر پاس پڑی میز پر بٹھا دیا۔ ارے یار ۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ

تمھارا میڈی چاچو تمھیں آج کوئی گفٹ نہ دے۔ بولو کیا چاہیے ۔ سنی کے چہرے پر معصوم ہی خوشی لبرائی اور وہ با قاعدہ سوچ میں پڑ گیا ۔ ” ہوں ۔۔۔۔ نیا پلے اسٹیشن ۔۔۔۔ دو جا کیزJokies کے ساتھ ۔۔۔”

میں نے ہامی بھر لی ۔ ” چلو منظور ہے ۔۔۔ کل تک تمھارے روم میں موجود ہو گا ۔

اب خوش ۔۔۔ “سنی نے خوشی سے نعرہ لگایا ، اوہ چاچو ۔۔۔ یو آر گریٹ ، ” اب میں اپنے مطلب کی بات پر آیا ۔ لیکن یار ۔۔۔۔ آج تمھاری پارٹی میں کچھ نئے لوگ بھی نظر آر ہےہیں۔ تم نے تعارف بھی نہیں کروایا ان سے ” میں نے دور بیٹھی دونوں لڑکیوں کی طرف اشارہ کیا۔

اوہ وہ دونوں ۔۔۔۔ وہ تو ایمان آپی اور حیا باجی ہیں ۔ وہ جو ہیں نا میرے مولوی صاحب ۔۔۔ انہی کی بیٹیاں ہیں۔ صرف میرے لیے آج یہاں آئی ہیں۔ سنی میاں بڑے فخر سے بتا رہے تھے اور میری نظری اُس قیامت کے سراپے کا طواف کر رہی تھیں ۔ پتہ یہ چلا کہ جب ڈرائیور شاکر ستی کے ساتھ مولوی صاحب کے گھر پہنچا تو وہاں جا کر معلوم ہوا که مولوی صاحب تو گذشتہ رات سے بخار میں آپ رہے تھے۔ ان کا تقریب میں شرکت کرنا ناممکن تھا۔ لیکن سنی میاں مچل گئے کہ اگر مولوی صاحب کی طرف سے اس کی رسم کشائی کی تقریب میں کوئی شریک نہ ہوا تو سنی وہ تقریب ہی ملتوی کروادے گا۔ دراصل سنی پہلے بھی ڈرائیور کے ساتھ کئی مرتبہ مولوی صاحب کو ان کے گھر ڈراپ کروانے جا چکا تھا۔ کبھی خراب موسم کی وجہ سے اور کبھی مولوی صاحب کی اکلوتی سائیکل کی کسی خرابی کی وجہ سے، اور جب کبھی بھی مولوی صاحب سکی کے ساتھ کمشنر صاحب کی کسی گاؤں میں گھر آتے تو سنی کا گھر کا بنا ہوا خاص سمجھیں بلوائے بناء، جانے نہ دیتے۔ جو خودستی کا بھی خاص پسندیدہ مشروب تھا ۔ اور یہ مشروب بنانے والی ہوتیں سنی میاں کی ایمان آپی ، یوں سنی مولوی صاحب کے تمام گھر والوں سے خوب گھل مل چکا تھا۔ مولوی صاحب کی بیوی اور بیٹیاں بھی سکی سے بہت مانوس ہو چکی تھیں۔ شاید اسی لیے اس دن سنی کی ضد کے سامنے مولوی صاحب کو ہار مانا ہی پڑی۔

ان کی بیوی تو ایسی تقاریب میں جانے کے نام سے ہی ہول کھاتی تھی۔ سو انہوں نے دبے الفاظ میں چھوٹی بیٹی حیا کوسنی کے ساتھ بھیجنے کی تجویز دی۔ عام طور پر مولوی صاحب ایسی باتوں کو سخت نا پسند کرتے تھے لیکن جانے کیا سوچ کر انہوں نے کچھ دیر کے لیے حیا کو جانے کی اجازت دے دی۔ لیکن حیانے اکیلے جانے سے صاف منع کر دیا تب کوٹھی کا پرانا ڈرائیور شاکر جو بہت دیر سے گھر کے دروازے پر گاڑی لیے سنی کے انتظار میں کھڑا تھا۔ دروازے پرآیا اور تمام معاملے کی سن گن ملنے کے بعد اس نے بخار سے لرز نے کانپتے مولوی صاحب کو تسلی دی کہ حیا اور ایمان دونوں ہی اس کی اپنی بچیاں ہیں اور اسی کے ہاتھوں میں کھیل کرجوان ہو ئیں۔ اُس نے مولوی صاحب سے درخواست کی کہ وہ دونوں بچیوں کو سٹی میاں کی دفتری اوقات کے مطابق دن کے کھانے کا وقت تھا ۔ لہذا سب وے میں بھی صبح کی نسبت زیادہ چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ مجھے فی الوقت بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی ، لیکن پھربھی میں کافی اور ایک سینڈوچ کا لنچ کرنے قریبی ریستوران میں داخل ہو گیا۔ قدرت نے ہم انسانوں کو ان کی کم مائیگی اور بے بسی کا احساس دلانے کے لیے اس دنیا میں جن اور بہت سی چیزوں کا اہتمام کر رکھا ، وہیں بھوک بھی ان مجبوریوں میں سے ایک ہے، بڑے سے بڑا قد آور اور شبیه زور اس مجبوری کے آگے بے بس ہے۔

اور عزیز سے عزیز ترین رشتہ بھی بھوک کے اس احساس کو منانہیں سکتا۔ ہم اپنے آس پاس روز کیسے کیسے دلداروں کو جان سے زیادہ عزیز رشتوں کو خود سے جدا ہوتا اور مرتا ہوا

دیکھتے ہیں۔ ان سے جڑے بے بس انسان جو اس لمحے خود کو بھی متا محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ جن کی بھوک پیاس سب ختم ہو چکی ہوتی ہے، جنھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس بے جان جسم کے ساتھ ان کا لاشہ بھی قبر میں اتار دیا گیا ہے اور اب وہ کبھی اس جیتی جاگتی دنیا کے ساتھ چل نہیں پائیں گے ۔ جن کا ہر احساس اس لمحے مٹی ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن 24 یا 48

گھنٹوں کی مختصر مدت کے بعد ہی یہ معدہ انسان کو اس کی کم نظرفی ، بے بسی اور مجبوری کا احساس دلانے کے لیے جاگ اٹھتا ہے، بھوک اسے ستانے لگتی ہے۔

انسان اپنے اندر اپنے آپ سے ہی نفرت اور شرمندگی محسوس کرنے لگتا ہے کہ ابھی چند گھنٹوں پہلے ہی تو وہ اپنے اندر کتنے بڑے بڑے دعوے کر رہا تھا۔ مٹی کے ساتھ مٹی میں مل جانے کے دعوے ، سب تیاگ دینے کے دعوے، لیکن بیچ یہ ہے کہ انسان سے زیادہ بے بس مخلوق بھی دوسری اور کوئی نہیں ۔ ہاں البتہ ایسے موقعوں پر اسی کے جیسے دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے خود ساختہ اصول اس کے کام آ جاتے ہیں اور شرم کا کچھ پردہ رہ جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے ” میت کے گھر تین دن تک کھانا نہیں ہلے گا ، بھلا اس سوگ میں ان بے چاروں کو کھانے پینے کا ہوش ہی کہاں ہوگا؟ دوسرا کہتا ہے ، ہاں ہاں ٹھیک ہے، پہلے دن کا کھانا تو ہمارے گھر سے ہی آئے گا ، دوسرا دوسرے دن کا اور کوئی تیسرا تیسرے کا وعدہ کر کے وہاں سے اٹھ آتے ہیں۔ وہ سب جانتے ہیں کہ کل جب ان کے گھر میں یہ ماتم ہو گا تو جب بھی یہی سب اس کی دلجوئی کو وہاں موجود ہوں گے۔ اس کی شرم کا پر دور رکھنے میں اس کی مدد کریں

 رنگ نچوڑ لیے ہوں۔ یہ سن سے من کا کیسا ناطہ ہوتا ہے کہ سینکڑوں کی بھینڑ کسی ایک کی وجہ سے اپنی سی لگنے لگتی ہے ۔ اور پھر یہاں تو قصہ ہی یک طرفہ تھا ، جو بھی طوفان اٹھ رہے تھے وہ صرف میرے من میں تھے۔ ایمان تو اس سب سے بالکل بے خبر تھی ۔ اگر لوگ جسے محبت کہتےہیں ، وہ اسی جذبے کا نام تھا جو اس وقت میرے خون کے ساتھ گردش کر رہا تھا تو کیا یہ محبت اس قدر زور آور ہو سکتی تھی کہ وہ صرف یک طرفہ ہو کر بھی کسی انسان کی زندگی کے سبھی اندازبھی اطوار بدل کر رکھ دے۔۔۔۔؟

لندن اُداس ہے

کہتے ہیں نیند سب سے بڑی چور ہوتی ہے، وہ انسان کی آدھی عمر چرا لیتی ہے ۔ لیکن مجھے ایسا لگتا تھا جیسے مجھ سے میری یہ چور بھی روٹھی ہوئی تھی۔

جانے رات کے کسی پہر کامران نے لاؤنج میں جھانکا اور مجھے وہیں آتشدان کے پاس آرام کرسی پر آنکھیں موندھے لیٹے دیکھ کر مجھ پر کیل ڈال گیا۔ رات ہو نہیں ماضی کے در بچوں میں جھانکتے ہوئے جانے کب بیت گئی اور اس کی جگہ صبح کے اجالے نے لے لی۔

رات بھر برف باری کے بعد آسمان صاف ہو چکا تھا۔ کامران نے ناشتے کے دوران مجھے آخر کی کہ وہ مجھے ریسٹورنٹ جاتے ہوئے کنکشن (Kingstone) یو نیورسٹی چھوڑتا جائے گا۔ لیکن میں نے اُسے بتایا کہ میں تمہاری گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تک گھر سے نکل جاؤں گا ، دوریسٹورنٹ چلا جائے۔ ویسے بھی اس صبح جلدی پہنچ کر اپنے کاروبار کا آغاز کرنا ہوتا تھا۔ اور میرا اتنی صبح گھر سے نکلنے کا قطعی کوئی موڈ نہ تھا۔ اور پھر لندن میرے لیے کبھی بھی اجنبی نہیں رہا تھا۔ ایک عجیب سی انسیت اور اپنا پن تھا میرے لیے اس شہر میں ، شاید اس کی ایک وجہ اس کے موسم کی میرے آبائی شہر کوئٹہ کے موسم سے مماثلت بھی ہو سکتی تھی ۔ نہ صرف موسم بلکہ پرانے لندن میں جہاں اب تک تقسیم ہند سے پہلے وقتوں کی عمارتیں اور تعمیرات موجود تھیں ان میں سے بعض کی بناوٹ تو ہو بہو 1935ء کے زلزلے سے پہلے والے کو سنہ کی عمارات کی طرح ہے۔ بنیادی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ کو یہ تقسیم ہند سے قبل خود برٹش

ایمپائر کی بہت بڑی چھاؤنی رو چکا تھا اور اسے آباد کرتے وقت انگلش ہنر کاروں نے فن تعمیرات میں اینٹ کا رخ عمارت کی بیرونی اٹھان اور طویل اور چوڑی سڑکوں کی کشادگی دیتے وقت شائد لندن ہی کو ذہن میں رکھا ہوگا ۔ اور پھر صرف میرے شہر پر ہی کیا منحصر ہے

تقسیم سے قبل انگریز جن علاقوں میں بھی بال خاص کرنے والا تر او ان کی طر قمردعاایک مخصوص روایت کو ہی جنم دیتی محسوس ہوئی ہے ۔ وہی ٹین کے سرخ چھت ، وہی مخصوص بالکونیاں اور انگیٹھیاں، وہی ایک جیسے آتش دان اور ان پر بنے کارنس، ایک جیسے لکڑی کے بڑے بڑے دروازے جن پر انگلش کے نمبر سات کی شکل کے بڑے بڑے تختے کنندہ ہوتےتھے ۔ وہی اُونچے اونچے چھت اور ان میں بنے بڑے بڑے روشن دان جنھیں کھولنے اور بندکرنے کے لیے رسی یا ڈوری نکلی ہوتی تھی۔ اس لیے آج بھی اگر آپ پرانے لندن کی گلیوں سے گزریں تو آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے آپ بر صغیر کے دور کی کسی بڑی چھاؤنی میں آگئےہیں۔

میں جب تک گھر سے نکلا تو اچھی خاصی دھوپ نکل چکی تھی ۔ برف صاف کرنے والی مشین نے سڑکوں سے برف بنا کر کناروں پر کر دی تھی ۔ برف باری کے بعد نکلنے والی دھوپ بے حد چمک دار ہوتی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے قدرت کے ان دیکھے ہاتھ نے آس پاس کی سب چیزوں پر قلعی ہی پھیر دی ہے۔ مخصوص رنگ کی پکی اینٹوں سے بنی سڑک تمتماسی رہی

تھی۔ لوگوں کے چہروں پر بھی ایک خاص سی چمک تھی۔ یہ موسم بھی ہم انسانوں کی طبیعت پرکس کس طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اچھے بھلے انسان کو پل میں خوش یا اُداس کر دیتےہیں۔ بلا کسی بھی وجہ کے لیکن میرے لیے تو جیسے ہر موسم میں اُداسی ہی اتر آئی تھی۔ سولندنبھی مجھے اُداس لگ رہا تھا ، چمکتی دھوپ کے باوجود، آس پاس کھلے ہوئے سے چہروں کی

موجودگی میں بھی ایک گہری اُداسی تھی۔

گھر سے نکل کر میں پیدل ہی تیسری گلی کے سب دے کی جانب چل پڑا ۔ دھوپ کی چمک نے مجھے آنکھوں پر گہرا کالا دھوپ کا چشمہ پہنے پر مجبور کر دیا۔ کاش انسان ایسے گہرے رنگوں کے چشمے بھی بنا پاتا جو دکھوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتی دھوپ کو بھی روک سکتے ۔۔۔۔

گلی کے انتقام پر ایک اسپینش (Spanish) لڑکی گٹار پر کوئی دھن بجاری تھی ۔

اس کے سامنے اس گنار کا بڑا سا کالا کیس Case رکھا ہوا تھا جس میں آتے جاتے لوگ چند لمحے گٹار کی دل کو چھو لینے والی دھن سننے کے بعد چند سکے ڈال کر آگے بڑھ جاتے ، مانگنے کا کس قدر آبرومندانہ طریقہ تھا یہ۔ کچھ لوگ مانگتے بھی یوں ہیں کہ دینے والے کو ان کا حق لگتا ہے، اور کچھ لوگ اپنا حق بھی کچھ ایسے انداز میں وصول کرتے ہیں کہ دینے والا بھیک کی طرح دیتا ہے۔

لڑکی مجھے دیکھ کر مسکرائی اور سسر کے اشارے سے مجھے سلام کیا۔ وہ اس وقت گٹار پر ایک مشہور ہسپانوی گیت کی دھن بجارہی تھی جس کے بول کچھ یوں تھے کہ “میرے محبوب۔۔۔۔ اک تمھارے جانے کے بعد ۔۔۔۔ ہر منظر اداس ہے ۔۔۔۔ ہر شہر ویران ہے۔”

میں نے حیرت سے اس گٹار بجانے والی لڑکی کو دیکھا ۔۔۔۔ اُسے میرے دل کے حال کا کیسے پتہ چل گیا ۔ ۔؟ ۔۔ شائد محبت کو کھو دینے کے تجربے سے گزرنے والے سبھی چہروں کی تحریر ایک ہی ہی ہوتی ہے۔ میرا ہاتھ جیب میں گیا اور واپسی پر جتنے بھی سکے اس ہاتھ میں آئے ، وہ بھی میں نے لڑکی کے گٹار میں ڈال دیے اور خود آگے بڑھ گیا۔

سب دے میں زیادہ بھیٹر نہیں تھی۔ زمین دوز ریلوے اسٹیشن مختلف روشنیوں سے جگر گا رہا تھا۔ اور انکا دکا لوگ ٹرین کے انتظار میں کھڑے تھے ، بھیٹر نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت دن کے ساڑھے گیارہ بجے تھے اور یہ وقت دفتری اوقات کا ر کا نہ تھا۔ ٹرین اپنے مقررہ وقت پر ایک مخصوص ہی گرج کے ساتھ سب وے میں داخل ہوئی۔ خود کار درواز ہے کھل گئے

اور ہم سب مسافر اس میں داخل ہو گئے ۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ انسان نے انسان کی آسانی کے لیے کیسی کیسی ایجادات کی ہیں۔ ہماری زندگی کا شاید نانوے فیصد سکھ دوسروں کی تیار کردہ ایسی ہزاروں چیزوں کا مرہون منت ہوتا ہے، سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک سبھی کچھ جو ہمارے روز مرہ کے استعمال میں آتا ہے۔ وہ بھی کوئی اور ہمارے لیے بنا کر گیا ہے۔

ہم صرف چند سکے خرچ کر کے ان ایجادات کے آرام وسکون کے حق دار بن سکتے تھے ۔ شاید اس بات نے ان سکوں کے حصول کو اس قدر مشکل بنا دیا ہے۔۔۔۔

لیکن سکون کا حصول صرف ان سکوں سے ہی تو مشرو یا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ دل کا سکون کائنات کی ایک ان مول کیفیت ہے۔ اور اس بات کا صحیح اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس کے اپنے دل کا سکون کٹ چکا ہو ۔ ہم انسان بھی کتنے نادان ہوتے ہیں، جب تک دل کا قراراپنے قابو میں ہوتا ہے۔ ہم اسے بازاروں میں کٹ جانے کے لیے پھرتے ہیں، ہر طرف اٹھتی نگاہ کا بس ایک ہی حاصل ایک ہی منزل ہوتی ہے ۔۔۔ کوئی دلبر ۔۔۔۔

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x