مکمل ناول
پھر یوں ہوا کہ مجھے محبت ہوگئی۔۔۔
کتنا عجیب انکشاف تھا یہ، پرندوں کے پیچھےبھاگتے ، درختوں کے نیچے جا کر پریوں کو آواز میں دیتے ۔ گلیوں میں گلی ڈنڈا کھیلتے اور آسمان پر اڑتی رنگ برنگی پتنگوں کو گنتے ہوئے۔۔۔ ایک دم پتہ چلا کہ مجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔ اب کیا کرنا چاہئے؟
میں نے آئینے میں بار بار اپنی شکل دیکھی۔۔ بالوں کو مختلف انداز میں سنوارنے کی کوشش کی۔۔۔ دو پٹہ اوڑھنے کے نئے طریقے سوچے۔۔۔اور پھر سوچا “
رات بھر چھت پر جا کر تارے گننے چاہئیں۔۔۔ تا کہ یہ انکشاف حقیقت کا روپدھار لے۔
چھت پر جا کر کافی دیر انتظار کیا۔۔۔ اور جب تارے نکلنا شروع ہوئے تو آنکھیں نیند سے بوجھل ہو چکی تھیں۔ لہذا محبت کرنے کے سلسلے کا پہلا پروگرام یعنی
تارے گننا تکمیل کے مراحل طے نہ کر سکا اور میں اپنے کمرے میں آکرچاپ سو گئی۔
دوسرے روز سو کر اٹھی ۔ آئینہ دیکھا تو چہرہ معمول کے مطابق ہی تھا۔ کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ جس سے پتہ چلتا کہ ہم ایک عدد محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں ۔
بہت سوچا کہ عشق اور عاشقوں کی نشانیاں کیا کیا ہوتی ہیں؟ گریبان چاک ہونا چاہیے۔۔۔ مگر ایسی عریانی اور فحاشی والی محبت کے ہم تحمل نہیں ہو سکتے لہذا یہ تجویز
قابل قبول نہ تھی۔ گھر چھوڑ کر جنگل میں نکل جانے کا پروگرام بھی قابل عمل نہ تھا۔ کیونکہ ہمیں اپنے شہر کے قریب ترین کسی جنگل کا پتہ معلوم نہ تھا۔
پھر محبت کس طرح کی جائے ؟ کافی مشکل بات تھی ۔ مگر مشکل کام کرنے کی ہی تو ہمیں خواہش رہی تھی ۔۔۔ محبت کرنے کے لئے بس ایک عدد محبوب کی ضرورت
تھی اور آپا کی شادی میں بارات کے ساتھ آنے والا ایک لڑکا ہمیں اچھا لگا تھا اور ہمارے خیال میں اس میں محبوب بننے والی ساری خوبیاں موجود تھیں۔ لانبا قد ۔۔۔
سیاہ گھنے بال۔۔۔ کشادہ پیشانی۔۔۔ بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔ سانولا یعنی نمکین ہم نے سوچ لیا کہ یہی ہے وہ جس کی ہمیں تلاش تھی
رنگت ۔۔۔ بس اسے دیکھن اور ہم نے فوری طور پر اس سے محبت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
بارات چلی گئی۔ آپ رخصت ہو گئیں مگر ہم چونکہ محبت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ لہذا اپنے خیالوں میں گم رہے۔ کسی سے یہ بھی نہ پوچھا کہ اس
کا نام کیا تھا؟ وہ کیا کرتا تھا؟
کہاں رہتا تھا ؟ یا اس کا دولہا بھائی سے کیا رشتہ تھا ؟
شاید محبت کرنے کے لئے ان سب باتوں کا پتہ ہونا غیر ضروری ہوتا ہے۔ محبت تو بس محبت ہوتی ہے۔
جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ اندھی ہوتی ہے ۔ ہم بھی اپنی اندھی محبت پرانت بار کر بیٹھے۔
صبح اٹھتے تو آئینہ دیکھتے ہوئے مسکرا کر اسے ”ہیلو“ کہتے وہ مسکرا دیتا۔۔۔ اور ہر دن بھر اس کے ساتھ گزارنے کا پروگرام بنتا۔ دیکھو میں کالج جارہی ہوں۔ میرا
انتظار کرنا۔ بس جلدی آجاؤں گی ۔ کہیں چلے مت جانا۔ وہ مسکراتا۔ میں ہاتھ ہلا کر خداحافظ کہتے ہوئے کالج چلی جاتی۔
پہلا پیریڈ شروع ہوتے ہی وہ میرے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھ جاتا۔ ” تم یہاں بھی آگئے ہوں میں حیرت اور خوشی سے پوچھتی۔
تمہارے بغیر دل نہیں لگتا وہ شرارت سے کہتا میں جھینپ کر رہ جاتی۔ دن بھر کالج میں وہ یونہی بیٹا شرارت سے مجھے دیکھتا رہتا اور میں ٹیچر نے کی بجائے کاپی پر اس کا نام مھتی رہتی۔ اس کا نام انعام ہونا چاہیے۔ ہاں وہ میرے لئے ایک انعام ہی تو تھا۔ میری کاپی کے ہر صفحے پر یہی نام لکھا تھا۔ گھر آکر میں بستر میں لیٹتی تو وہ پہلو والی کرسی پر بیٹھ کر مجھے کہانیاں سنانے لگتا۔ میں مسحوری اس کی کہانیوں میں گم ہو کر سو جاتی۔
شام کی چائے برآمدے میں بیٹھ کر پیتے ہوئے وہ مجھے بتاتا کہ اسے خزاں کا موسم بہت پسند ہے ۔ خاص طور پر دسمبر کا مہینہ۔ کبھی کبھی دسمبر کی کسی صبح وہ مجھے نہر کے
کنارے لے جاتا۔ سردی، کہر اور ہوا سے اڑتے ہوئے زرد پتے دیکھتے ہوئے میں ٹھٹھرتی ہوئی اس کے ساتھ دور تک چلتی رہتی ۔
اتنی خوبصورت صحیں پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ زندگی کتنی خوبصورت ہو گئی تھی۔ پھولوں کے رنگ زیادہ گہرے اور شوخ لگنے لگے تھے ۔ شامیں
سرمئی اور راتیں سہانی ہو گئی تھیں۔
دن گزرنے کا پتہ ہی نہ چلتا سورج کی روشنی اور چاند کی چاندنی جیسے ہر شے سے مجھے عشق ہو گیا تھا۔۔۔ ساری کائنات بس حسین ہی حسین تھی ۔۔ غم ، دکھ اور بد
صورتی کہیں نہیں تھی۔
اس نے مجھے دور دیس کی کہانیاں سنائیں، جھیلوں، آبشاروں، تتلیوں اور جگنووں کے گیت سنائے ۔۔۔ غالب، فیض ، منیر نیازی اور گلزار کے شعر یاد
کرائے۔۔۔ منٹو، کرشن چندر بیدی، عصمت چغتائی، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی کتابیں لا کر دیں۔ مٹی کی خوشبو اور بارش کی رم جھم کے ذائقے سے آشنا کیا۔۔۔
اور میں ایک نئے نشے میں ڈوبتی چلی گئی ۔۔۔ واقعی کائنات محبت ہے اور محبت ہی حسن ہے۔
پھر ایک دن ایسا ہوا کہ وہ میرے سامنے آگیا۔ آپا کی بارات میں آیا ہوالا نے قد ، سیاہ گھنے بالوں ، کشادہ پیشانی، سانولی رنگت بڑی بڑی آنکھوں والا لڑکا ۔۔۔ آپا
نے مجھے ملواتے ہوئے کہا۔
نوشین ۔۔۔ یہ عمران ہے۔
تمہارے دولہا بھائی کا بچپن کا دوست“
نہیں اس کا نام تو انعام ہے، میں نے سوچا اور مجھے ایسے لگا جیسے میں ایکدم کسی طلسم کدے میں واپس آگئی ہوں۔
آپ کیا کرتے ہیں؟
”میری ایک بڑی مارکیٹ میں کپڑے کی دکان ہے میرے ذہن پر ایک زور دار ہتھوڑا پڑا۔
آپ نے کبھی پھولوں سے، جگنوؤں سے تتلیوں سے باتیں کی ہیں“۔
جی آپ
کیسی باتیں کرتی ہیں۔ ہم تو سارا دن دکان پر رہتے ہیں، شام کو دوستوں کے ساتھ ہوٹلنگ کرتے ہیں یا پھر کوئی فلم وغیرہ دیکھ لیتے ہیں
”آپ نے دسمبر کی کہر آلود صبح میں زردار تے پتے بھی نہیں دیکھئے
ہم تو دس بجے صبح سو کر اٹھتے ہیں۔ گیارہ بجے دکان کھولتے ہیں“
آپ کو منٹ کی کہانیاں اور فیض کی شاعری یاد ہے؟“
وہ کون تھے ؟ ہماری تو تعلیم ہی پرائمری تک ہے۔ ویسے بھی کتابوں میں کیا رکھا ہے جی ۔ انسان کے پاس نوٹ ہونے چاہئیں نوٹ ۔۔۔ کتابوں میں سرکھپا کر کیا
ملتا ہے جی ۔۔۔ چند ہزار کی افسری۔۔۔ اتنے پیسے تو ہمارے نوکر لے لیتے ہیں
جی ۔۔۔
” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، خوابوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور جذبے تو بالکل ہی بے کار چیز ہوتے ہیں ۔ بھلا یہ محبت بھی کیسی اندھی چیز ہے یہ بھی نہیں دیکھتی کہ کس
انسان سے ہو گئی ہے۔”
میں نے بے دلی سے اسے خدا حافظ کہا اور چپ چاپ اپنے کمرے میں آگئی۔
دل پر بوجھ لئے ہوئے ۔۔۔ اپنے چکنا چور خواب اور کرچی کرچی خواہشیں لئے ۔۔۔
لیکن نہیں۔۔۔ وہ تو کمرے میں موجود تھا میرے سامنے آئینے میں مسکرارہا تھا۔۔۔
انعام تم یہاں ہو وہ ہننے لگا۔۔۔ چلونہر کنارے چلیں ۔۔۔ آج چاندنی رات ہے۔۔۔ چاند کو پانی میں ڈوبتا دیکھیں گے۔۔۔ چاند تو پانی میں کبھی نہیں
“ڈوبتا۔۔۔ ہاں اس کی کرنیں پانی کو بھی روشن کر دیتی ہیں۔
دل پر پڑا بوجھ ایکدم ہٹ گیا۔ محبت اپنی پوری طاقت کے ساتھ ابل پڑی۔ اور مجھے پتہ چل گیا کہ مجھے جس سے عشق ہے وہ تو میرے وجود کے اندر ہی کوئی ہے۔ باہر کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔ اور میں اس کے ہمراہ چاند کی کرنوں کی سیر کو چل پڑی۔
