یادیں اور برساتیں

رومانوی داستان

نیلما ناہید درانی

مکمل ناول

views
0
Yadaian aur Barsatain

مکمل ناول

بارش رکتے ہی لوگ برساتی کیڑوں کی طرح سڑکوں پر نکل آئے۔ مئی اور جون کی چلچلاتی دھوپ اور گرمی کے بعد یہ ساون کی پہلی بارش تھی ۔ جو صبح سے مسلسل ہو رہی

تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے دنیا کے تمام کا روبار بند ہو چکے ہیں۔ سڑکیں سنسان تھیں پانی سے بھری ہوئی گلیوں میں ننگ دھڑنگ بچے نہاتے شور مچاتے ادھر ادھر آ جا رہے تھے

مگر اب بارش رکتے ہی لوگ گھروں دفتروں اور سائبانوں سے نکل کر سڑکوں پر چل پڑے تھے۔ دیبا نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔

کیمپس کے تمام ہوسٹلوں کی عمارتیں دھلی دھلائی بے حد اچھی لگ رہی تھی۔ ہر طرف سبزہ بکھرا ہوا تھا۔ نہر کنارے صاف شفاف ہرے بھرے درخت ایستادہ تھے

رنگ برنگ لباس پہنے لڑکیاں ان کے نیچے بیٹھی موسم سے لطف اندوز ہورہی تھیں ۔ جن کے رنگین آنچل ہوا سے لہراتے ہوئے قوس و قزح کا منظر پیش کر رہے تھے۔ ایک دم

سے اسکا دل چاہا کہ نہر کنارے گھوما جائے۔ یہ سوچتے ہی وہ اپنا کمرہ بند کر کے باہر نکل آئی۔ نہر کی اور جاتے ہوئے ٹھنڈی ہوا کے مسحور کن جھونکے اپنے چہرے پر تھپتھپاتے

محسوس کرتے ہوئے وہ بڑھتی چلی گئی۔

پھر نجانے کب ناصر اس کے قریب آگیا۔

ہیلو دیبا

ہیلو دیبا نے حیرت سے اسے دیکھا کیونکہ اس کی یہ مداخلت اسے بالکل اچھی نہ لگی تھی۔ وہ اکیلے گھومنے میں زیادہ لطف محسوس کرتی تھی ۔ جب سوچیں آزاد

ہوتیں اور کوئی بھی ان میں دخل اندازی نہ کر سکتا۔

ناصر اس کے ساتھ ہی پڑھتا تھا۔ بہت محنتی اور ذہین طالب علم تھا۔ شلوار کرتے میں ملبوس بال پریشان لا پروا اور لا ابالی سا جو ہر وقت کچھ سوچتا ہوا محسوس ہوتا۔

” آپ تنہا کہاں جارہی ہیں؟“ وہ ساتھ ہی ہولیا۔

” آج موسم کی ٹھنڈک اور چاندنی کو انجوائے کرنا چاہتی ہوں“

” کیلئے ہی اس نے پوچھا۔

ہاں مجھ اکیلا رہنا اچھا لگتا ہے”

مگر وہ نہایت ڈھٹائی سے ساتھ چل پڑا۔

مجھے بھی اکیلا رہنا پسند ہے مگر آج نہیں کیوں؟”

” آج دل چاہتا ہے کہ انہی درختوں تلے بیٹھ کر کسی سے خوب باتیں کروں…..

” کیا باتیں کرنا چاہتے ہیں آپ؟”

ہر موضوع پر۔ دنیا کے ہر موضوع پر اچھا”

ہاں آپ بور تو نہیں ہور ہیں“

اگر ہاں کہوں تو آپ چلے جائیں گے“

دو نہیں”

“کیوں”

میں پڑھتے پڑھتے تھک گیا ہوں گھومنا اور باتیں کرنا چاہتا ہوں مگر کسی اچھے ساتھی کے ساتھ“

“اچھا تو کوئی دوست نہیں ملا

ہیں تو بہت مگر … آج تو میں سوچ کے نکلا تھا

کیا“

کہ آپ مل جائیں”

”وہ کیوں”

” پتہ نہیں دل چاہا تھا“

” آپ کا دل جو بھی چاہے آپ کر لیتے ہیں

ہاں جو چیز بس میں ہو وہ تو ضرور کرتا ہوں

” آپ کا دل کیا چاہ رہا ہے”

”اب“ وہ سوچ میں ڈوب گیا۔ اب دل چاہتا ہے کہ خوب باتیں ہوں ہم دونوں یونہی دور تک چلتے رہیں

“پھر”

پھر یہ کہ خوب بھیگ جائیں“

آپ کی یہ خواہش تو اب پوری نہیں ہو سکتی“

وہ کیوں“

اس لئے کہ بادل چھٹ چکے ہیں اور بارش کا کوئی امکان نہیں ہے“

ارے یہ تو میں نے دیکھاہی نہیں اس نے کہا اور دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے۔

تارکول کی سرمئی دھلی دھلائی سڑک پر پانی میں چاند کا عکس دیکھتے ہوئے چلتے رہے۔ یہاں تک کہ جھاڑیوں میں جگنوؤں نے آنکھ مچولی شروع کر دی اور وہ اپنے اپنے ہوٹل لوٹ آئے ۔

پھر یہ روز کا معمول سا بن گیا۔ جب بھی شام کو وہ سیر کے لئے نکلتی ناصر اسے راستے میں مل جاتا۔ دونوں دیر تک چلتے رہتے۔ مختلف موضوعات پر باتیں کرتے۔

ادب ، سیاست، مذہب اور آرٹ کے متعلق کبھی کبھی کسی موضوع پر جھڑپ بھی ہو جاتی جب کبھی چلنے اور بولنے کی زیادتی سے تھک جاتے تو نہر کنارے کینٹین پر بیٹھ کر گرم

گرم چائے پینے لگتے ۔

یونہی بہت سے دن گزر گئے ۔ ناصر سے ملنا، نہر پرگھومنا اور بحث کرنا ایک معمول سا بن گیا کیونکہ وہ ذرا مختلف قسم کا لڑکا تھا۔ لڑکی کو دیکھ کر شاعری کرنے والے لوگوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے کبھی باتوں کے دوران اس کی ذات میں دلچسپی ظاہر نہ کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے قریب رہ کر وہ خود کو محفوظ تصور کرتی ۔

ایک دن یوں ہوا کہ وہ حسب معمول چلتے ہوئے دور نکل گئے ایکدم سورج کو بادلوں نے گھیر لیا۔ اور خوب زور شور سے بارش شروع ہوگئی۔ یہ برسات کا موسم بھی

خوب ہوتا ہے ابھی دھوپ ابھی چھاؤں اور کبھی کبھی تو دھوپ میں بھی بارش ہونے لگتی ہے۔ بہر حال یہ خوبصورت موسم جسے برسات کہتے ہیں کبھی کبھی زحمت بھی بن جاتا

ہے۔ اس ایکا ایکی بارش کے حملے سے وہ گھبرا گئی دور نزدیک کہیں بھی سایہ نہ تھا وہ ہوٹل سے بہت دور نکل آئے تھے۔ سو بھیگنا لازمی تھا اور دونوں بھیگ گئے ۔

جب مٹی سے سوندھی سوندھی باس اٹھ کر ہوا میں پھیلنے لگی تو سردی سے کانپتے ہوئے اس نے ناصر کی طرف دیکھا۔ جو نہایت انہماک سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

اس کے چہرے پر عجیب ہولناک سی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ اس نے قریب آتے ہوئے کہا۔

” تم بہت خوبصورت ہو”

دیبا گھبر اسی گئی۔

“یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے ناصر …

میں آج تمہارے ہونٹ چکھنا چاہتا ہوں“

اس کے جسم سے نکلتی ہوئی گرمی اور جوانی کی خوشبو ذہن پر چھانے لگی۔ لیکن ایکدم سے اس نے خود پر قابو پالیا۔

نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ میں نے تمہارے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچا یہ کہہ کر دیا نے بھاگنا شروع کر دیا۔ تیز بہت تیز ناصر کی گرم گرم سانسیں اسے ابھی بھی اپنے کندھے پر محسوس ہو رہی تھیں ۔ مگر وہ سرپٹ دوڑ رہی تھی۔

ناصر حیران و نادم سا وہیں کھڑا تھا۔

دیا اپنے کمرے میں پہنچ کر بستر پر گرگئی۔ سردی اور خوف سے دیر تک کا نپتی رہی۔

اس روز کے بعد دیبا نے شام کو باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ ناصر سے ڈیپارٹمنٹ میں ملاقات ہوتی ۔ وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھتا رہتا۔ مگر دیبا کو اس سے نفرت ہو چکی تھی۔ ادب آرٹ لٹریچر پر باتیں کرنے والا ناصر بھی بالکل مرد ہی نکلا۔ جو لا کھ ادھر ادھر کی باتیں کریں پر ان کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے وہ عورت کو صرف عورت سمجھتے ہیں

اور بس ……

پڑھائی ختم ہوتے ہی دیبا کی شادی ہوگئی۔ زندگی ایک ڈگر پر چل نکلی ۔ جس میں کوئی تنوع نہیں تھا۔ کوئی حسن نہیں تھا، سب کتابیں اور ڈگریاں الماریوں میں بند

ہو گئیں گھر کے کام کاج … بچے پیدا کرنا اور چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی رات کو شوہر کے پہلو میں سو جانا۔

سردی گرمی بہار، برسات سارے موسم آتے اور انہی معمولات میں گزر جاتے ۔ جب کبھی اسے گھر کے کاموں سے فرصت ملتی تو برآمدے میں بیٹھ کر آنکھیں

بند کرتے ہی نجانے ناصر کہاں سے چلا آتا۔ اس کے دل میں یہ خواہش جاگتی خوب زوروں کی بارش ہو۔ وہ دونوں ایک بار پھر یونہی بھیگ جائیں۔ ناصر پھر سے وہی

خواہش کرے اور وہ بھاگنے کی بجائے اس کے سینے سے لپٹ جائے۔ یہاں تک کہ ان کے جسموں سے اٹھتی ہوئی مہک ایک دوسرے میں جذب ہو جائے۔

اسی لمحے کوئی بچہ رونے لگتا۔ وہ سپنا پھر سے ٹوٹ جاتا اور وہ اٹھ کر بچے کیلئے فیڈرڈھونڈنے لگتی۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
error: Content is protected !!
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x